Monday , September 25 2017
Home / مضامین / پلاسٹک کرنسی کی طرف بڑھتا ہندوستان

پلاسٹک کرنسی کی طرف بڑھتا ہندوستان

عقیل احمد
وزیراعظم نریندر مودی کے 8 نومبر کو 500 روپئے اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے ایک عام ہندوستانی کے لئے زندگی بالکلیہ بدل چکی ہے۔ اس کے بعد والے دنوں میں مارکیٹ میں اور بینکوں کے پاس بھی نقدی کی قلت نے دہلی کے قریب نوئیڈہ میں 40 سالہ گرہست خاتون اوشا (نام تبدیل) اور ان کی سہیلیوں نے ادائیگیوں اور روزمرہ کی اشیاء کی خریداری کے معاملوں سے کچھ اس طرح نمٹا جس طرح پہلے کبھی نہیں کیا تھا، یعنی نقدی کے بغیر سب کام کئے گئے۔ وہ ایسے لاکھوں ہندوستانیوں میں سے ہیں جنھیں اپنے روزانہ کے لین دین کی انجام دہی کے لئے پلاسٹک کرنسی یا دیگر طریقوں کے استعمال پر مجبور ہونا پڑا ہے، جیسے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا استعمال، آن لائن ٹرانسفرز، نٹ بینکنگ، موبائل پر مبنی ایپس اور ای۔ والٹس وغیرہ۔
کیاشلیس لین دین تو نوٹ بندی سے قبل بھی ہوا کرتا تھا، لیکن اُن کا استعمال کہیں کہیں اور کبھی کبھار ہوا کرتا تھااور کچھ زیادہ لوگ اپنی زندگیوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے باقاعدگی سے کیاشلیس لین دین سے استفادہ نہیں کیا کرتے تھے۔ ہندوستان بنیادی طور پر نقدی پر مبنی معیشت اور کیاش سوسائٹی ہے جہاں صرف معمولی تعداد میں ہی لین دین ہی نقدی سے عاری ہوتا ہے۔ نیشنل پے منٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، اے پی ہوٹا کا کہنا ہے کہ شخصی استعمال والے اخراجات کا زائد از 90 فیصد حصہ ہندوستان میں نقدی میں ہوا کرتا ہے۔ ان کا ادارہ ملک میں تمام کیاشلیس ادائیگیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اناج کی دکانوں ، ترکاری منڈی، بس، سب اربن ٹرین، رسٹورنٹس اور تمام متفرق اخراجات کے لئے نقدی کا استعمال ہوتا ہے۔ کارڈز کا استعمال یا کیاشلیس لین دین ریٹیل اسٹورس اور پٹرول پمس میں ، اور ٹرین اور ایئر ٹکیٹنگ کے لئے محدود حد تک ہوئے ہیں۔یہ سب رجحان بدلنے والا ہے کیونکہ حکومت کیاشلیس سوسائٹی کو فروغ دینا چاہتی ہے جہاں آن لائن اور ای۔ ادائیگیاں زندگی گزارنے کا طریقہ ہوجائیں گی نا کہ نقدی کے استعمال کا روایتی طریقہ۔رقم کی سربراہی پر کنٹرول کرتے ہوئے اور پہلے کی سربراہی کا معمولی حصہ ہی دستیاب کراتے ہوئے حکومت عوام کو کیاشلیس لین دین کو اختیار کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ اس کا مقصد دوہرا ہے: تمام لین دین کا حساب و کتاب رکھا جاسکے اور کالا دھن پر نظر رکھی جاسکے جو معیشت میں زیرگشت ہے۔
حکومت نے شہری مجالس مقامی سے بھی کہا ہے کہ کیاشلیس لین دین کی طرف آئیں اور انٹرنٹ بینکنگ سرویسیس اور آن لائن بینکنگ کو کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے فروغ دیں۔ اس کا مطلب ہے پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، آبرسانی، برقی اور گیس جیسے بلوں کیلئے ادائیگیاں، لائسنس کے چارجس اور پیدائش اور موت کے صداقت ناموں کی اجرائی اور دکانات کا رجسٹریشن وغیرہ سب آن لائن کرانا پڑے گا۔ کئی ریاستوں میں شروعات ہوچکی ہے۔ مثال کے طور پر اترپردیش میں ریجنل ٹرانسپورٹ کے دفاتر نے رجسٹریشن اور فیس کی آن لائن قبولیت شروع کردی ہے۔
یقینا، گزشتہ چند ہفتوں میں بہت کچھ تبدیل ہوچکا اور مختلف ذرائع سے کیاشلیس لین دین دوگنا سے زائد بڑھ چکے ہیں۔ این پی سی آئی کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کریڈ ٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے لین دین روزانہ 2.5 لاکھ سے بڑھ کر زائد از 15 لاکھ ہوچکے ہیں اور ادائیگی کے لئے این پی سی آئی کے فروغ دیئے گئے طریقہ کار RuPay کا استعمال 1.5 لاکھ لین دین سے دوگنا ہوکر تین لاکھ ہوچلا ہے۔ اسی طرح یو ایس ایس ڈی (Unstructured Supplementary Service Data) پر مبنی ادائیگیاں جو بالعموم موبائل فونس پر استعمال ہوتی ہیں، وہ تین لاکھ لین دین سے نمایاں اضافے کے ساتھ 20 لاکھ لین دین تک پہنچ گئی ہیں، جب کہ حکومت کے یونیفائیڈ پے منٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کو استعمال کرتے ہوئے کی جانے والی ادائیگیاں 6,000 تا 7,000 لین دین فی یوم سے پانچ گنا بڑھ کر 35,000 لین دین تک پہنچ چکی ہیں۔ ابھی تک 30 بینکوں نے یو پی آئی کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے اور اگلے چند یوم میں مزید شامل ہونے والے ہیں۔ یہ تعداد بڑھنا ہوگا تاکہ لین دین کی تعداد میں اُچھال پیدا کیا جاسکے۔ آئی ایم پی ایس (Immediate Payment Service) جو موبائل اور انٹرنٹ بروئے کار لاتے ہوئے فنڈز کی منتقلی اور ادائیگیاں کرنے میں مدد کرتی ہے، اسے بھی استعمال کیا جارہا ہے، گوکہ یہ طریقہ ابھی دیگر طریقوں کے مقابل کم ہے۔
این پی سی آئی کے ہوٹا کا احساس ہے کہ ابھی تو بس شروعات ہے اور بہت کچھ حاصل کیا جانا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں کیاش اور کیاشلیس ادائیگیوں کا 50-50 تناسب حاصل کرنا ہے، جو بہت بڑا اور کٹھن کام ہے کیونکہ ای۔ والٹس اور کیاشلیس طریقے ہنوز بہت کم ہے۔ ملک کی جسامت کو دیکھیں تو یہ اعداد و شمار ہنوز بہت کم ہیں اور ہر شعبے میں کم از کم 10 تا 15 گنا اضافے کی گنجائش ہے۔
اور پھر بھی کیاشلیس لین دین کی بڑھتی مقبولیت کے واضح آثار کے باوجود انڈیا کو کیاشلیس سسٹم کی طرف بڑھانا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ نقدی کی قدر اور جی ڈی پی (مجموعی دیسی پیداوار) کا تناسب زیادہ ہے اور ہنوز بڑی آبادی بینکوں سے خاطرخواہ انداز میں جڑی نہیں ہے، جن کی زندگی بنیادی طور پر نقدی پر منحصر ہے۔ باقاعدگی سے کیاشلیس معیشت کو وجود میں لانے کے لئے کئی مسائل کی یکسوئی کی ضرورت ہے۔ اول یہ کہ کیاشلیس سسٹم اختیار کرنے کے آسان ترین طریقہ یعنی پلاسٹک کرنسی میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ بھارت میں موجودہ طور پر 80 کروڑ کارڈز ہیں جن میں سے 77 کروڑ ڈیبٹ کارڈز اور تین کروڑ کریڈٹ کارڈز ہیں۔ لیکن جہاں 70 فی صد کریڈٹ کارڈز فعال ہیں، وہیں 60 فی صد ڈیبٹ کارڈز نہیں ہیں۔ ابھی تک دکانات اور تجارتی اداروں میں پوائنٹ آف سیل (POS) ٹرمینلز پر صرف 10 فی صد کا ہی استعمال ہوا ہے۔ خالصتاً کیاشلیس سسٹم کو حقیقت بنانے کے لئے 90 تا 95 فی صد کارڈہولڈرز کو اسٹورس میں اپنے کارڈز کے ذریعے لین دین کرنا پڑے گا۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ ٹرمینلز کا فقدان ہے جہاں ان کارڈز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان میں تقریباً 3.5 تا 4 کروڑ تجارتی ادارے اور دکانات ہیں لیکن کارڈز ملک بھر میں صرف 14 لاکھ ٹرمینلز میں ہی استعمال کئے جاسکتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر tier I اور tier II والے شہروں میں ہیں، اور ٹیئر III اور ٹیئر IV ٹاؤنس میںلگ بھگ صفر کے مساوی ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت نے آئندہ تین ماہ میں 10 لاکھ نئے ٹرمینلز پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ان میں سے زیادہ تر ٹیئر III اور IV والے ٹاؤنس اور شہروں میں ہوں گے۔ اس طرح کارڈ پر مبنی مضبوط کیاشلیس معیشت حقیقی معنوں میں ہنوز تین یا چار ماہ دور ہے۔ٹرمینلز کی تعداد بڑھانے میں ایک اور بڑی رکاوٹ ان سے متعلق مشکل طریقہ کار اور ان کے حصول کے لئے اونچی لاگت ہے۔ کسی بھی تجارتی ادارہ یا دکان کو مختلف نوعیت کے کلیرنس حاصل کرتے ہوئے ایک ٹرمینل کیلئے 8,000 تا 9,000 روپئے خرچ کرنے پڑے ہیں اور یہ سب مل کر کچھ رکاوٹ بنتے ہیں۔ بلاشبہ، حکومت موبائل پی او ایس ٹرمینلز کی حوصلہ افزائی کررہی ہے جو 3,000 تا 4,000 روپئے میں سستے آتے ہیں اور کسی بھی جگہ لے جائے جاسکتے ہیں۔
یہ بات سمجھنے میں کوئی پیچیدگی نہیں کہ ایسے حالات میں جب نقدی کی دستیابی کمتر ہوچلی ہے، زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی زندگیوں کو چلانے میں کیاشلیس طریقے اختیار کریں گے اور مجموعی استعمال بڑھے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالات سنبھلنے میں چار تا چھ ماہ لگیں گے۔ تب تک، انڈیا ہوسکتا ہے کیاشلیس سوسائٹی بننے کی طرف کافی پیش رفت کرچکا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT