Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / پلاسٹک کرنسی کے رحجان سے منفی اثرات مرتب ہوں گے

پلاسٹک کرنسی کے رحجان سے منفی اثرات مرتب ہوں گے

غریب و چھوٹے تاجر متاثر ہوں گے ، آن لائین خریداری میں اضافہ
حیدرآباد۔18نومبر (سیاست نیوز) ملک میں پلاسٹک کرنسی کے رجحان میں اضافہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کیلئے منافع بخش ثابت ہوگا اور اس کا راست منفی اثر چھوٹے تاجرین بالخصوص ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ کے تاجرین پر پڑے گا۔ کرنسی کی قلت کے بعد جس طرح سے کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ہندستان میں قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے چھوٹے تاجرین کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ 1000و500 کے نوٹوں کی تنسیخ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس کے فوری بعد آن لائن خریداری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی قائدین نے اعلان کردیا ہے کہ ملک میں پلاسٹک کرنسی کے نظام رائج کرنے نہیں دیا جائے گا۔ مسٹر سیتا رام یچوری نے کہا کہ ملک میں اگر پلاسٹک کرنسی کا نظام رائج ہوجائے گا تو اس کے منفی اثرات غریب تجارتی طبقہ پر مرتب ہوں گے۔ کرنسی کی تنسیخ کے عمل کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے نظام کو رائج کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے سبب ملک کے کئی تجارتی گھرانوں کو فائدہ ہوگا اور ٹھیلہ بنڈی پر معمولی ترکاری اور پھل وغیرہ فروخت کرنے والوں کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے بموجب اس طرح کا عمل دیہی ہندستا ن کے مفاد میں نہیں ہوگا بلکہ یہ عمل نقصاندہ ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔ پرانی کرنسی کی تبدیلی کے سلسلہ میں عائد کئے جانے والے الزامات میں چیف منسٹر دہلی مسٹر اروند کجریوال نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ چنندہ افراد کے مکانوں تک نئی کرنسی کی ہوم ڈیلیوری کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہیں کوئی تکلیف نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیوں بڑے صنعتی و تجارتی گھرانے کے لوگ اے ٹی ایم اور بینکوں کے سامنے قطار میں نظر نہیں آرہے ہیں اور ان کے پاس کیسے نئی کرنسی پہنچ رہی ہے؟ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ رہی ان آوازوں کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے اتحاد کی کوششیں غریب عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام آسکتی ہیں اگر وہ اپنی معاملتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے کام انجام دیتے ہیں تو ایسی صورت میں حالات میں کچھ بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔ملک میں کرنسی کی جگہ کارڈ سسٹم کا رائج ہونا حساب رکھنے میںآسانی پیدا کرسکتا ہے لیکن چھوٹے تاجرین ایسا نہیں کر پائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT