Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / پناما پیپرز کا افشاء

پناما پیپرز کا افشاء

جو ہمارے قتل کا کوشاں رہا
ہم اسی کو جانِ جاں لکھتے رہے
پناما پیپرز کا افشاء
وکی لیکس نے کئی انکشافات کئے تھے اور اس کے بعد حکومتوں نے تحقیقات کا اعلان کیا مگر نتائج کچھ بھی برآمد نہیں ہوئے۔ آف شور لیکس اور سوئس لیکس نے بھی بڑے بڑے خفیہ دستاویزات کا انکشاف کیا تھا۔ اس کا بھی حتمی نتیجہ برآمد نہیں کیا گیا۔ اب ’’پناما لکس‘‘ کی شکل میں کئی انکشافات ہوئے ہیں۔ ان دستاویزات میں ہندوستان، پاکستان، روس اور دیگر ملکوں کی اہم شخصیتوں کی خفیہ تجارت اور فرمس کے بارے میں انکشافات کئے گئے ہیں۔ پناما کی ایک لا فرم موزیک فوئسکا نے یہ تمام معلومات پیش کی ہیں۔ اس فرم نے ڈیٹا بیس سے خفیہ طور پر معلومات حاصل کئے۔ یہ ساری معلومات 2600 سے زائد گیگا بائٹس پر مشتمل ہے جس میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات، پی ڈی ایف فائلز، تصاویر اور دیگر مواد شامل ہیں۔ دستاویزات میں جن شخصیتوں کے نام شامل ہیں ان میں ہندوستان کی کئی مشہور شخصیتوں کے نام شامل ہیں جن لوگوں نے اپنی دولت کو محفوظ رکھتے ہوئے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ ادعا کیا جارہا ہیکہ ان کا پیسہ لگانے کا عمل قانونی ہے لیکن اس پر کئی افراد نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ ہندی فلموں کے سوپر اسٹار امیتابھ بچن نے اس دستاویزی انکشاف پر ہنوز لب کشائی نہیں کی۔ البتہ امیتابھ بچن کی بہو ایشوریا رائے کے میڈیا مشیر نے ان دستاویزات کو غیرصحیح اور غلط فرضی قرار دیا۔ ہندوستان کی بڑی کمپنیوں نے بھی جیسے ڈی ایل ایف نے بیرونی حکومت ہند کے قواعد اور شرائط، آر بی آئی، فیما اور انکم ٹیکس کے اصولوں کو ملحوظ رکھ کر سرمایہ کاری کی گئی تھی اس طرح بیرونی کمپنیوں کے فرمس میں سرمایہ کاری میں کسی قسم کی غلطی یا دھاندلی کرنے کی تردید کرتے ہوئے فرمس میں اپنی سرمایہ کاری کو جائز قرار دیا ہے۔ پناما کی اس لا فرم سوساک فونیسکا کے انکشاف کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف مشکلات میں گھر سکتے ہیں۔ پاکستان کی اپوزیشن نے مسئلہ کو باریکی سے اٹھایا ہے۔ ان فرمس میں دنیا بھر کی چوٹی کے امیر اور متمول و طاقتور افراد نے اپنی دولت کو پوشیدہ رکھنے کی ترکیب کے ساتھ اس فرمس سے وابستگی کے بعد اپنے کالے دھن کو سفید نایا۔ ملکی قوانین اور پابندیوں سے بچ کر ٹیکس چوری کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی دولت دوگنا، سہ گنا کردیا۔ ان دستاویزات میں دنیا کے 72 حالیہ اور سابق سربراہان مملکت، متمول افراد کا ذکر ہے جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا بھی الزام ہے۔ اس دنیا میں کسی ملک کے سربراہوں کے کالے دھندوں اور کالے دھن کو پوشیدہ رکھنے کی ترکیبوں کے درمیان روس، پاکستان، ہندوستان، شام اور دیگر ملکوں کی شخصیتوں کی خفیہ تجارتی سرگرمیوں کا پتہ چلا۔ ان انکشافات کو ایک اچھی خبر سے تعبیر کرتے ہوئے بعض ملکوں کے سربراہوں نے تحقیقات کرانے کا اعلان بھی کیا ہے مگر اس طرح کے کیسوں میں اکثر تحقیقات ہوتی ہیں عدالتوں میں مقدمے چلتے ہیں اور برسوں گذرنے کے بعد خاطیوں اور کالے دھن کو پوشیدہ رکھنے والوں تک قانون کے ہاتھ نہیں پہنچ پاتے۔ ہندوستان کی ہی مثال لیجئے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری کالے دھن کے مسئلہ کو چٹکی میں حل کرنے کا اعلان کیا تھا اور 100 دن کے اندر سوئس بینکوں میں پوشیدہ ہندوستان کی پونجی کو واپس لانے کا اعلان کیا گیا تھا مگر دو سال کی حکمرانی میں ایک قدم بھی آگے بڑھنے کی خبر نہیں آئی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جن افراد کے ناموں کا انکشاف ہوا ہے ان کے خلاف جامع تحقیقات کی جائے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک ان پر کڑی نظر رکھی جائے بلکہ حراست میں بھی لیا جائے۔ ٹیکس چوری یا ٹیکس فراڈ کے معاملہ میں ان کو انصاف کے کٹھہرے میں لایا جائے مگر حقیقت تو یہ ہیکہ حکمراں سے لے کر تمام بیورو کریٹس صرف دولتمندوں کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ جن ہندوستان، پاکستان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آئس لینڈ، روس، شام، فرانس، سویڈن اور دیگر ممالک کے سربراہوں متمول افراد کے نام ظاہر ہوئے ہیں، ان تک قانون کے ہاتھ پہنچ پائیں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ ہندوستان کے جن 500 شہریوں کے ناموں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کے خلاف مودی حکومت کیا رویہ اختیار کرتی ہے یہ اس پر نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔ حکومت کو کسی بحث میں پڑے بغیر کارروائی کا عمل تیز کرنا چاہئے اور ہندوستان کے تمام متمول افراد کی فہرست تیار کرنے ان کے کاروبار اور خفیہ سرگرمیوں کے بارے میں جانچ کروانا انٹلیجنس ایجنسیوں، مالیاتی اداروں کا فرض ہے۔

TOPPOPULARRECENT