Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / پناما پیپرس کی تحقیقات پر مودی کی خاموشی ‘ قابل مذمت

پناما پیپرس کی تحقیقات پر مودی کی خاموشی ‘ قابل مذمت

آسام میں انتخابی جلسہ سے نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کا خطاب
کمل پور ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے کالادھن واپس لانے کے ’’بلند بانگ‘‘ دعوے کئے تھے لیکن ان سے وضاحت طلب کی کہ وہ چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر کے فرزند کا نام پناما پیپرس میں آنے کے بعد اس معاملہ کی تحقیقات کے بارے میں گہری خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ 11 اپریل کو آسام میں انتخابات کے دوسرے مرحلہ کا انعقاد مقرر ہے۔ اس سلسلہ میں کانگریس کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ پناما پیپرس کا افشاء اور پناما میں جمع شدہ کالے دھن کے سلسلہ میں کئی ناموں کا تذکرہ آنے کے باوجود وزیراعظم نریندر مودی ان کی تحقیقات کے بارے میں گہری خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک جمع کالادھن وطن واپس لانے کے بارے میں کئی وعدے کئے تھے۔ انہیں کم از کم یہ تو کہنا چاہئے تھا کہ تحقیقات کا حکم کیوں نہیں دیا گیا جبکہ چیف منسٹر کے فرزند کا نام پناما پیپرس میں افشاء کیا گیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی جی نے اس کے جواب میں ایک بھی لفظ نہیں کہا۔ وجئے مالیا کے ملک سے فرار سے قبل انہوں نے مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی سے ایوان پارلیمنٹ میں ملاقات کی تھی۔ للت مودی جس نے ہزاروں روپئے بیرون ملک جمع کر رکھے ہیں، ان کے بارے میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ مودی حکومت کالے دھن کا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ حال ہی میں جیٹلی نے ایک نئی ’’فیر اینڈ لولی اسکیم‘‘ شروع کی ہے جس کے تحت گینگسٹرس، غنڈے، منشیات کے ڈیل اپنے کالے دھن کو سفید دھن میں حکومت کو معمولی سا ٹیکس ادا کرکے تبدیل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مودی نے صرف جھوٹے وعدے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران کالادھن وطن واپس لانے کے بارے میں کئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہر ہندوستانی شہری کے بینک اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کروائیں گے لیکن کسی کے بھی بینک کھاتے میں کوئی رقم جمع نہیں کروائی گئی۔ پناما پیپرس خفیہ دستاویزات ہیں جن میں تفصیلی معلومات بیرونی ملک کمپنیوں کے بارے میں موجود ہیں۔ پناما کی کارپوریٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنی نے ظاہر کیا ہیکہ یہ افراد کتنے دولتمند ہیں۔ ان میں سرکاری عہدیداروں کے نام بھی ہیں جنہوں نے اپنی رقم عوامی جانچ سے بچا کر پوشیدہ کر رکھی ہے۔ ایک اور انتخابی جلسہ سے دمدما میں خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اس بار دو پارٹیاں جن کے نظریات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، آسام اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کررہی ہیں۔ کانگریس کو یقین ہیکہ امن اور ترقی، اخوت کے جذبات کے ساتھ کام کرنے والی پارٹی غالب رہے گی۔ دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس انتشاری سیاست میں ملوث ہیں اور صرف تشدد کی بات کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT