Friday , August 18 2017
Home / دنیا / پناہ گزینوں کا بحران، برطانوی حکومت کو شدید تنقیدوں کا سامنا

پناہ گزینوں کا بحران، برطانوی حکومت کو شدید تنقیدوں کا سامنا

لندن ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ کے بعض سرکردہ سابق ججوں، وکلا اور سرکردہ شخصیات نے پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق برطانوی حکومت کے اقدامات کو ناکافی بتا کر اس پر نکتہ چینی کی ہے۔ اس مسئلے پر لکھے گئے ایک مکتوب پر برطانوی سپریم کورٹ کے سابق سربراہ لارڈ فلپ اور سرکاری وکلا کی تنظیم کے ڈائریکٹر لارڈ میکڈانلڈ جیسی 300 اہم شخصیات نے دستخط کئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ پیشکش کہ آئندہ پانچ برس میں وہ 20 ہزار افراد کو قبول کریگی، کافی نہیں ہے۔ ایک سرکاری وکیل کا کہنا تھا ایسا لگتا ہیکہ برطانیہ، جو لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے معروف تھا، اب اپنے راستے اور روایت سے ہٹ چکا ہے۔ اس سلسلے میں لکھے گئے ایک مکتوب پر 3ہزار سے بھی زائد وکلا اور ریٹائرڈ ججوں نے دستخط کیے ہیں۔ اس پر انسانی حقوق کیلئے یوروپین کورٹ کے سابق جج نکولس براتاز کے بھی دستخط ہیں۔ بی بی سی کے قانونی امور کے نمائندے کلائیو کولمین کا کہنا ہیکہ حکومت کی پالیسیوں پر سابق ججوں کی جانب سے اس طرح کھل کر نکتہ چینی کرنا بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ آج کا بیان وزنی اور دو ٹوک ہے۔ پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق حکومت کی کارکردگی کو پوری طرح سے ناکافی بتانا اور پانچ برسوں میں 20 ہزار شامی مہاجرین کو بسانے کی بات بہت ہی کم، بہت ہی سست اور سطحی بتانا دو ٹوک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیان اس پر دستخط کرنے والی شخصیات کی وجہ سے وزن دار ہوا ہے جس پر چار سابق لارڈز اور چار سابق ججوں سمیت کئی سرکردہ وکلا نے دستخط کیا ہے۔ وکلا کے گروپ نے اس سلسلے میں بعض تجاویز بھی پیش کی ہیں، جیسے یورپ آنے کیلئے ایک محفوظ اور قانونی راستے کا قیام۔ اس میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایسے پناہ گزینوں کیلئے ’انسانی بنیادوں پر ویزے‘ کا خصوصی اہتمام کیا جائے تاکہ لوگ یورپ آنے کیلئے خطرناک راستوں کا استعمال نہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT