Monday , September 25 2017
Home / دنیا / پناہ گزینوں کا بحران، ہنگری نے اپنی ایک اور سرحد بند کر دی

پناہ گزینوں کا بحران، ہنگری نے اپنی ایک اور سرحد بند کر دی

بڈاپسٹ۔ 17 اکٹوبر۔(سیاست ڈاٹ کام) ہنگری نے پناہ گزینوں کی آمد و رفت کو روکنے کیلئے کرویشیا سے متصل اپنی سرحد کو بند کر دیا ہے جس کے بعد کرویشیا نے پناہ گزینوں کو ہنگری کے بجائے سلوینیا کے طرف بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپ میں پناہ چاہنے والوں کیلئے ہنگری ایک اہم پڑاؤ رہا ہے جہاں سے بیشتر پناہ گزیں آسٹریا اور جرمنی کی طرف جاتے رہے ہیں۔ ہنگری نے جمعہ کو سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یوروپی رہنما ہنگری کے حمایت یافتہ ایک منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے۔ اس منصوبے میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ روم میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے فورسز کو بھیجنا چاہیے۔ ہنگری نے جمعہ کی نصف شب کو خاردار تاروں سے اپنی سرحد بند کروا دی۔ سرحد بند کیے جانے سے پہلے ان سینکڑوں پناہ گزینوں کو آخری بار اس راستے گزرنے کی اجازت دی گئی جو مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے ہی ذکانی نامی گاؤں کے پاس سے پہنچے تھے۔ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر زیجاتو نے سرحد بند کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ یہ بہترین حل نہیں ہے لیکن بہتر تو ہے‘‘۔ سرحد بند کئے جانے سے پہلے ان سینکڑوں پناہ گزینوں کو آخری بار اس راستے گزرنے کی اجازت دی گئی جو مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے ہی ذکانی نامی گاؤں کے پاس سے پہنچے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد اب بھی سرحد سے داخلے کے مخصوص دو مقامات پر پناہ لینے کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ ہنگری اس سے پہلے سربیا سے متصل اپنی سرحد کو پہلے ہی بند کر چکا ہے۔ اب سلوینیا میں اس بات کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ کرویشیا اور ہنگری کی سرحد بند ہو جانے سے بیشتر پناہ گزیں سلوینیا کی طرف ہی آئیں گے۔ کرویشیا کے وزیر داخلہ رانکو اسٹوجک نے کہا کہ اب کرویشیا پناہ گزینوں کیلئے راستہ بدل کر اسے سلوینیا کی طرف کر رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT