Friday , October 20 2017
Home / دنیا / پناہ گزینوں کا بحران: یورپ اور ترکی کے درمیان اہم اجلاس

پناہ گزینوں کا بحران: یورپ اور ترکی کے درمیان اہم اجلاس

انقرہ ۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) یورپی یونین کے حکام نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے مارچ کے اوائل میں ترکی کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ برسلز میں یورپی یونین کی ایک اجلاس میں بات چیت کے بعد یورپی کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹسک نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین اور ترکی کا علمی منصوبہ ہماری ترجیح ہے۔ یورپی یونین نے ترکی کو اس کی اپنی سر زمین پر پناہ گزینوں کے رہائش کا انتظام کرنے کے لیے تین ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کرنے کا عہد کیا ہے۔ برسلز میں بات کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹسک نے کہا کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے اس کے لیے ’یورپ میں اتفاق رائے‘ کا ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا ہمیں اس میں کامیاب ہونے کے لیے ہر وہ چیز کرنی چاہیے جو ہم کرسکتے ہیں۔ اسی لیے مارچ کے اوئل میں ہم ترکی کے ساتھ ایک خاص ملاقات کے اہتمام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ اس مسئلے پر مزید بات چیت کے لیے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کا سلسلہ شروع کریں گے۔

ان کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے بھی کہا کہ یورپی یونین اور ترکی کا عملی منصوبہ ’کچھ ایسا ہے کہ ہم اسی پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘ انھوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں یورپ میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے لیکن خبردار بھی کیا کہ موسم کے بہار میں جب سردی کم ہوجائے گی تو اس میں زبردست اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ ترکی کے وزیر اعظم احمد اوغلو جمعرات کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے لیکن انقرہ میں بم دھماکے کے واقعات کے بعد انھوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ ترکی میں اس وقت تقریبا 30 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں اور اس میں بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں۔ گذشتہ برس یورپ میں بھی تقریبا دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا ہے۔ جمعرات کو ہی یونان کے لیزبوز جزیرے کے پاس پناہ کے متلاشی ایسے تقریبا 900 افراد کو ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT