Wednesday , July 26 2017
Home / دنیا / پناہ گزین جن ممالک سے آرہے ہیں، وہاں شادی کرنے دوبارہ جارہے ہیں

پناہ گزین جن ممالک سے آرہے ہیں، وہاں شادی کرنے دوبارہ جارہے ہیں

پناہ گزینوں سے متعلق آسٹریلیائی قانون کو مزید سخت کرنے امیگریشن وزیرپیٹرڈٹن کا مطالبہ

کینبرا ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) آسٹریلیا کے وزیر برائے امیگریشن نے آج اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہیکہ ملک میں پناہ گزینوں کے تعلق سے سخت قوانین متعارف کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں متعدد تارکین وطن نے مختلف وجوہات کی بناء پر ان ممالک کا دورہ کیا، جہاں سے خوفزدہ ہوکر وہ لوگ آسٹریلیا آئے تھے۔ وزیر برائے امیگریشن پیٹرڈٹن نے گذشتہ سال چھ ایرانیوں کے پروٹکشن ویزوں کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ انہیں یہ اطلاع  ملی تھی کہ مذکورہ ایرانی شہری خود اپنی زندگی کو لاحق خطرہ کی بنیاد پر آسٹریلیا آئے تھے تاکہ انہیں یہاں محفوظ پناہ مل سکے۔ اخبار نیوز کارپ کی رپورٹ کے مطابق تمام چھ ایرانی شہریوں کو ایک ایسی عدالت نے جو عوامی شکایات کی سماعت کرتی ہے، نے دوبارہ آسٹریلیا میں رہنے کی اجازت دیدی تھی۔ مسٹر ڈٹن نے کہا کہ ہمارا آسٹریلیائی قانون پناہ گزینوں سے متعلق بیحد فراخدل واقع ہوا  ہے جبکہ اب وقت آ گیا ہیکہ بدلتے حالات کے تحت اس قانون میں مزید سختی پیدا کی جائے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ فلاں فلاں ملک سے کشتی میں سوار ہوکر آسٹریلیا آگئے ہیں اور یہاں مستقل رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے چلو ہم نے مان لیا۔ اس لئے کہ دعویٰ کرنے والے کا کہنا ہیکہ اسے فلاں فلاں ملک میں  اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔

چلئے یہ بھی مان لیا۔ حیرت تو اس وقت ہوئی ہیکہ جب جان کے خطرہ کی وجہ سے فلاں فلاں ملک کو چھوڑنے والا دوبارہ اس ملک کو جارہا ہے شادی کرنے یا پھر اپنے دیگر پناہ گزین ارکان خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے۔ بتائیے ایسی صورتحال میں آپ کو یہ حق ہیکہ آپ آسٹریلیا میں پناہ گزین بھی رہیں اور جس ملک کو آپ چھوڑ کر آئے تھے وہاں کا بار بار دورہ کریں۔ ڈٹن نے اڈیلیڈ کو ریڈیو فائیو کو یہ بات بتائی۔ انہوں نے ایک اور انکشاف کیا کہ ایک ایرانی شہری خود اپنے ہی ملک کی پولیس کو مطلوب تھا لیکن وہ جعلی پاسپورٹ بنوا کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ یہاں پر ایک اور حیرت کیلئے آپ تیار رہئیے۔ جب اس ایرانی کی بحیثیت پناہ گزین قبول کئے جانے کی درخواست آسٹریلیا نے منظور کرلی، اس نے ایرانی پاسپورٹ کیلئے نہ صرف درخواست داخل کی بلکہ پاسپورٹ حاصل بھی کیا اور وہاں کا سفر بھی کیا۔ یعنی آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ ایک اور ایرانی شہری نے آسٹریلیا میں پناہ گزین کا موقف اختیار کرنے کے بعد تین بار ایران کا سفر کیا جن میں سے ایک سفر کے دوران اس نے ایران میں شادی بھی کی۔

اس نوعیت کے واقعات ایک دو نہیں بلکہ کئی ہیں۔ ایک ایرانی جوڑے نے اپنے پروٹکشن ویزہ کی درخواست میں دعویٰ کیا کہ ان کے پاس کوئی شناختی دستاویز نہیں ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ جوڑا ایرانی پاسپورٹس پر ایران روانہ ہوگیا۔ مسٹر ڈٹن کے دفتر نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے۔ اخبارات میں جن چھ ایرانیوں کے بارے میں خبریں شائع ہوئی ہیں یا ان کے جو حالات بتائے گئے ہیں وہ بالکل درست ہیں لیکن آسٹریلیائی قوانین کے مطابق ان کے ناموںکو شائع نہیں کیا جاسکتا۔ ان ایرانیوں نے اسمگلرس کو رقومات دیکر انہیں انڈونیشیا سے آسٹریلیا منتقل کرنے کا سودا کرلیا تھا اور یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب 2013ء میں آسٹریلیا نے اپنے قوانین میں سختی پیدا کرتے ہوئے بذریعہ سمندر آنے والے پناہ گزینوں کو آسٹریلیا میں سکونت اختیار کرنے پر روک لگادی تھی جبکہ امریکہ نے پاپوا نیوگنی جزیرہ پر پریشان کن حالات میں زندگی بسر کررہے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں سے صرف 1250 پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم امریکی عہدیدار انتہائی چوکسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہیکہ سخت جانچ پڑتال کے بعد صرف حقیقی پناہ گزین ہی امریکہ میں داخل ہوسکیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT