Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / پنجاب میں ایک ہفتہ بعد معمولات زندگی بحال

پنجاب میں ایک ہفتہ بعد معمولات زندگی بحال

مقدس کتاب کی بے حرمتی اور پولیس فائرنگ کی تحقیقات کیلئے پیپلز کمیشن کا قیام
چندی گڑھ۔/23اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) پنجاب میں مقدس کتاب کی بے رحمتی اور پولیس فائرنگ میں 25نوجوانوں کی موت پر ایک ہفتہ طویل احتجاجی مظاہروں کے بعد آج عام زندگی بحال ہوگئی جبکہ ریاست کے بیشتر علاقوں بالخصوص قومی شاہراہوں پر ٹریفک حسب معمول دیکھی گئی۔ پولیس کمشنر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ اگرچیکہ حالات پُرامن اور معمول پر آگئے ہیں لیکن احتیاطی اقدامات کے طور پر مرکزی فورسیس متعین رہیں گی۔ تاہم بعض مقامات پر دیہاتوں کو جانے والی سڑکوں پر سکھ تنظیموں نے آج بھی مظاہرے کئے ہیں جبکہ ریاست کے بیشتر اضلاع بشمول موگا، فرید کوٹ، مکتسر ، بھٹنڈا ، ترن تارن ، امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ میں معمولات زندگی بحال ہوگئے ہیں۔اس کے باوجود امرتسر، لدھیانہ ، ترن تارن اور جالندھر میں مرکزی نیم فوجی دستوں کی 10کمپنیوں کو متعین کردیا گیا ہے۔ دریں اثناء فرید کوٹ کے پنچ گرین گاؤں کے دو دیہاتیوں جنہیں ہرگاؤں ٹاؤن میں مقدس کتاب کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے یہ ادعا کیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور پولیس نے محض حالات کو قابو میں کرنے کیلئے انہیں پھنسایا ہے۔ ہرگاؤں دیہات میں بے حرمتی کا واقعہ پیش آنے کے بعد ریاست کے دیگر اضلاع میں یہ سلسلہ چل پڑا تھا۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس  مسٹر سہوتا جن کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے بتایا کہ حالیہ ناخوشگوار واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست کے 7دیہاتوں میں بے حرمتی کے واقعات پیش آئے ہیں جس پر سکھوں نے قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے عام زندگی کو مفلوج کردیا تھا۔ پولیس نے مذکورہ واقعات میں 6افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں زیادہ تر گردواروں کے خادم ہیں۔ تاہم پنجاب پولیس نے حالیہ واقعات میں ’ بیرونی ہاتھ ‘ ملوث ہونے کا عذر پیش کیا ہے جبکہ مرکز نے بھی ان واقعات پر حکومت پنجاب سے ایک رپورٹ طلب کی ہے۔ سکھ تنظیموں نے حکومت کے اس اعلان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ مقدس کتاب کی بے حرمتی اور پولیس فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کیلئے عوامی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT