Saturday , April 29 2017
Home / ہندوستان / پنجاب میں ای وی ایم میں خلل اندازی کا اندیشہ

پنجاب میں ای وی ایم میں خلل اندازی کا اندیشہ

عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال کا بی جے پی پر الزام
نئی دہلی۔15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی کا نتیجہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے ناقص مظاہرے کی شکل میں ظاہر ہوا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج الزام عائد کیا کہ ممکن ہے کہ یہ ان کی پارٹی کو پنجاب میں اقتدار پر آنے سے روکنے کی سازش کا ایک حصہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی 20 تا 25 فیصد ووٹ حاصل کئے لیکن ان کے ووٹوں کا چوتھائی حصہ اکالی دل۔بی جے پی اتحاد کو منتقل ہوگیا۔ انتخابی نتائج ناقابل فہم ہیں اور ان سے ایک بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے کہ برقی رائے دہی مشینوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ سیاسی پنڈتوں نے عام آدمی پارٹی کی زبردست کامیابی کی پیش قیاسی کی تھی۔ ان کا الزام ایک دن قبل بی ایس پی کی صدر مایاوتی کے اسی طرح کے الزامات کے بعد منظر عام پر آئے ہیں۔ یو پی اسمبلی انتخابات میں مایاوتی نے بی ایس پی کے غلبے کا دعوی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ای وی ایم میں خلل اندازی کے خلاف عدالت سے رجوع ہوں گی۔ انہوں نے بی جے پی پر جمہوریت کے قتل کا بھی الزام عائد کیا۔ کجریوال نے دعوی کیا کہ ای وی ایم میں خلل اندازی مخصوص ریاستوں جیسے پنجاب میں کی گئی جہاں وہ چاہتے تھے کہ عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے باہر رکھیں۔ ساتھی ہی ساتھ اروند کجریوال نے کہا کہ وہ پارٹی کے پنجاب میں مظاہرے کے مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں

تاہم انہوں نے نے گووا کا تذکرہ نہیں کیا جہاں عام آدمی پارٹی کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوسکی۔ کجریوال نے مطالبہ کیا کہ ای وی ایم پر جو ووٹ درج ہوئے ہیں، ان کا تقابل کاغذی آڈٹ کے نتائج سے کیا جائے۔ پنجاب کے کم از کم 32 مقامات پر ایسا کرنے کا انہوں نے مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام ریاستوں میں کاغذی ووٹنگ کا طریقہ دوبارہ رائج کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مراکز رائے دہی پر عام آدمی پارٹی کو وہاں پر تعینات کیئے ہوئے لوگوں کی تعداد سے بھی کم ووٹ ملے۔ چیف منسٹر دہلی نے کہا کہ اگر جو ووٹ ڈالے گئے ووٹ پارٹیوں کے متوقع ووٹوں کے مطاق نہ ہوں تو دوسرا متبادل اختیار کرتے ہوئے دوبارہ رائے دہی کروائی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ضروری ہے تاکہ برقی رائے دہی مشینوں کی ساکھ برقرار رکھی جاسکے۔ اور رائے دہی کے طریقہ کار پر عوام کا بھروسہ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان کے مطالبہ کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ اگر لوگوں کا بھروسہ انتخابات پر ختم ہوجائے تو جمہوریت بھی باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکالیوں نے 30 فیصد ووٹ کیسے حاصل کئے اور عام آدمی پارٹی کو شکست کیسے ہوئی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT