Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / پنجاب میں دہشت گرد حملہ ‘ چلتی بس اور پولیس اسٹیشن پر فائرنگ

پنجاب میں دہشت گرد حملہ ‘ چلتی بس اور پولیس اسٹیشن پر فائرنگ

سات افراد بشمول دو عام شہری ہلاک ، مہلوک حملہ آوروں کے پاکستانی ہونے کا شبہ
گرداس پور۔27جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) تین زبردست مسلح فدائن جو فوجی وردی میں ملبوس تھے اور سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان سے آئے تھے‘ آج ایک چلتی ہوئی بس پر گولیوں کی بھوچاڑ کردی اور ایک پولیس اسٹیشن میں زبردست داخل ہوگئے ۔ اس حملہ میں 8افراد ہلاک ہوگئے جن میں ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی شامل ہے ۔ تمام عسکریت پسندوں کو دن بھر طویل کارروائی میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ۔ یہ پنجاب میں گذشتہ 8سال میں پہلا بڑا دہشت گرد حملہ ہے ۔ دہشت گرد جن پر شبہ ہے کہ یا تو پاکستانی لشکر طیبہ کے آدمی تھے یا جیش محمد کے ارکان تھے ۔ جنہوں نے سحر کے وقت حملہ کیا تھا ۔ لب سڑک ایک طعام خانہ اور ایک بس کو حملہ کا نشانہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں وہ دیناپور پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہوگئے ۔ دہشت گردوں نے 8افراد ‘ تین شہری ‘ ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس ( سراغ رسانی) بلجیت سنگھ ‘ پنجاب صوبائی خدمات کے عہدیدار ‘ دو ہوم گارڈس اور دو ملازمین پولیس کو ہلاک کردیا ۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ ہے ۔ کیونکہ زخمی 15 افراد کی حالت نازک ہے ۔ تینوں عسکریت پسندوں کو فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں ہلاک کردیا گیا ۔ عسکریت پسند ایک ویران عمارت میں جو دیناپور پولیس اسٹیشن سے متصل ہے محصور تھے ۔ حالانکہ سرکاری طور پر کوئی خبر نہیں دی گئی کہ حملہ آور کون تھے لیکن شبہ کیا جارہا ہے کہ وہ پاکستان سے ہندوستان میں گھس آئے تھے اور انہوں نے جموں اور پٹھان کوٹ یا چک ہیرا اور ضلع جموں کے درمیان سرحد پار کی تھی جہاں باڑ نصب نہیں ہے ۔ جاریہ سال قبل ازیں جیش محمد کے دہشت گرد جو فدائن جنگجو تھے اور فوجی وردی میں ملبوس تھے ۔ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوا میں ایک پولیس اسٹیشن میں 20مارچ کو زبردستی داخل ہوگئے تھے اور چھ افراد بشمول تین فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا ۔ پنجاب پولیس کے اعلیٰ عہدیدار نے خوفناک فائرنگ کے تبادلہ کے اختتام پر کہا کہ کارروائی مکمل ہوچکی ہے ۔فائرنگ میں پنجاب پولیس اور اعلیٰ سطحی خصوصی ہتھیاروں اور حکمت عملی کی ٹیم ایس ڈبلیو اے ٹی کے کمانڈرس شامل تھے ۔ یہ لڑائی12گھنٹے جاری رہی ۔ تلاشی کارروائی کچھ دیر جاری رکھی گئی جب کہ کئی حملے ہوئے جن کے درمیان دیگر 15 افراد زخمی ہوئے ۔ ہتھیاروں اور عالمی مقام کی نشاندہی کرنے والے نظام ( جی ٹی ایس ) آلات اس عمارت سے دستیاب ہوئے جہاں دہشت گرد محصور تھے ۔ پنجاب پولیس کے آئی جی پی ’’ کاؤنٹر انٹلیجنس ‘‘ گوورو یادو کے بموجب سپرنٹنڈنٹ پولیس بلجیت سنگھ گولیوں کے زخموں سے جانبر نہ ہوسکے جو فائرنگ کے تبادلہ میں انہیں آئے تھے ۔ پولیس کے بموجب ان افراد کو سیول ہاسپٹل گرداس پور منتقل کیا گیا ہے ۔ ان میں سے 7 افراد کو جن کی حالت نازک ہے امرتسر منتقل کیا گیا ہے ۔ زخمیوں کی عمریں 15 تا 55سال ہیں ۔ کارروائی میں تین عسکریت پسند ہلاک کردیئے گئے ۔ ڈپٹی کمشنر گرداس پور ابھینو تریکھا نے اس کی اطلاع دی ۔ دریں اثناء متصلہ ریاستوں ہماچل پردیش ‘ پنجاب اور راجستھان میں احتیاطی اقدام کے طور پر سخت چوکسی اختیار کرلی گئی ہے ۔ مہاراشٹرا میں بھی سختی چوکسی کا اعلان کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT