Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / پنجاب میں کانگریس کو تقویت

پنجاب میں کانگریس کو تقویت

دیکھ زنداں کے پرے جوش جنوں رقص بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیرنہ دیکھ
پنجاب میں کانگریس کو تقویت
ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کی مصروفیات کے علاوہ امیدواروں کی توڑ جوڑ اور نئی صف بندیوں کا بھی آغاز ہوگیا ہے ۔ اسی سلسلہ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کئی قیاس آرائیوں اور پس و پیش کے بعد آج کانگریس میںشمولیت اختیار کرلی ہے ۔ نوجوت سنگھ سدھو کرکٹر سے سیاستدان بننے کے بعد سے بی جے پی سے وابستہ تھے ۔ وہ امرتسر سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھی رہے ۔ ان کی شریک حیات بھی بی جے پی کی رکن اسمبلی اور پنجاب کابینہ کی وزیر رہی ہیں۔ سدھو کو 2014 میں لوک سبھا کیلئے ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا اور بعد میں وہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوئے تھے ۔ تاہم سدھو کے عزائم مرکزی سطح پر نہیں بلکہ ریاستی سیاست میں سرگرم رول ادا کرنے کے ہیں اور شائد بی جے پی قائدین اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہے تھے ۔ بی جے پی اگر انہیں ریاستی سطح پر سرگرم رول دینا چاہے تب بھی اکالی دل سے اتحاد کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پا رہی تھی اور بی جے پی میںرہتے ہوئے سدھو اپنے عزائم کی تکمیل میں ناکام تھے ایسے میں انہوں نے اپنے لئے الگ راستہ تلاش کرلیا ہے ۔ ابتداء میں وہ کانگریس سے وابستگی کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھے اور انہوں نے علیحدہ تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم بعد میں انہیں ریاست کے سیاسی حالات کا اندازہ ہوگیا اور اپنی تنظیم کے منصوبے کو تر ک کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ۔ ابتداء میں کہا جا رہا تھا کہ وہ عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں لیکن جب کچھ ہفتے قبل ان کی شریک حیات نے بی جے پی سے ترک تعلق کرکے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تو ان کے عزائم کے تعلق سے بھی واضح اشارہ مل گیا تھا ۔ پنجاب میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے سدھو پہلے قائد نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی شرومنی اکالی دل ‘ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے کئی قائدین کانگریس کی صفوںمیں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ ان میں وہ قائدین بھی شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ عرصے میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے دوسری جماعتوں میں شامل ہونے کو ترجیح دی تھی ۔
نوجوت سنگھ سدھو ہوں یا پھر دوسرے قائدین ہوں ان کی شمولیت سے یقینی طور پر کانگریس کو پنجاب میں تقویت حاصل ہوگی ۔ کانگریس نے بھی آج سدھو کی شمولیت کے بعد اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ سدھو کی شمولیت سے پارٹی کو ریاست میں فائدہ ہوگا ۔ ریاست میں کیپٹن امریندر سنگھ کی قیادت میں پارٹی کو اس بار اقتدار حاصل ہونے کی امید ہے ۔ یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ کانگریس کی پیشرفت میں اگر کوئی رکاوٹ بن سکتی ہے تو وہ عام آدمی پارٹی ہی ہوسکتی ہے کیونکہ شرومنی اکالی دل اور بی جے پی سے ریاست کے عوام بیزار ہوچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس پارٹی عام آدمی پارٹی کے اثر کو کس حد تک ٹال سکتی ہے اور اپنے لئے ریاست کی 117 رکنی اسمبلی میں کتنی نستیں حاصل کرسکتی ہے ۔ ریاست میں جو مسائل عوام کو درپیش ہیں اور خاص طور پر منشیات کی لعنت سے نوجوانوں کے متاثر ہونے کا جو مسئلہ ہے اس نے اکالی دل ۔ بی جے پی سے عوام کو بیزار کردیا ہے ۔ریاست کی سیاست کا وسیع تجربہ رکھنے والے کیپٹن امریندر سنگھ ان حالات میں پارٹی کی بہترین رہنمائی کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے امریندر سنگھ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاطر میں لائے بغیر ان کے تجربہ پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کا یہ فیصلہ بہتر بھی رہا ہے کیونکہ امریندر سنگھ دوسری جماعتوں کے قائدین کو اپنی پارٹی میں لانے اور ان میں اقتدار کی امیدیں پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ حالات پارٹی کیلئے دوسری ریاستوں کے کیڈر میں بھی جوش و خروش پیدا کرنے کا موجب ہوسکتے ہیں۔
پنجاب میں کانگریس کیلئے با اثر قائدین کی شمولیت یقینی طور پر اس کے حوصلے بلند کرنے کا باعث بن سکتی ہے ساتھ ہی کانگریس کیلئے یہ بات بھی خوش آئند کہی جاسکتی ہے کہ اس کی ریاست یونٹ میں جو اختلافات کچھ ماہ قبل پیدا ہوئے تھے انہیں یا تو خوش اسلوبی کے ساتھ ختم کردیا گیا ہے یا پھر ناراض عناصر کی اہمیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ دونوں صورتوں میں کانگریس کو فائدہ ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے ۔ جس طرح نوجوت سنگھ سدھو پارٹی میں شامل ہوئے ہیں اور ان کی عوامی سطح پر جو مقبولیت ہے اس سے کانگریس پارٹی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریگی اور سدھو بھی ریاست کی سیاست میں اپنے سرگرم رول کی خواہش کے ساتھ کانگریس سے اپنا مستقبل وابستہ کرنے کے بعد پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے سرگرم ہوجائیں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس میں اس کے قدیم قائدین اور نئے آنے والوں کے مابین توازن برقرار رکھے ۔

TOPPOPULARRECENT