Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / پنجاب میں 70 فیصد ، گوا میں 83 فیصد کی بھاری پولنگ

پنجاب میں 70 فیصد ، گوا میں 83 فیصد کی بھاری پولنگ

٭  معمولی جھڑپوں اور ووٹنگ مشینوں میں کچھ تکنیکی خرابیوں کے سواء پُرامن رائے دہی
٭  قطعی اعداد و شمار کی وصولی پر پنجاب کا ووٹنگ تناسب بڑھ سکتا ہے، الیکشن کمیشن کا بیان

چنڈی گڑھ ؍ پناجی ، 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پنجاب اور گوا میں آج بھاری پولنگ ہوئی جیسا کہ ترتیب وار اندازہ ً 75 فیصد اور ریکارڈ توڑ 83 فیصد رائے دہی درج کی گئی ہے، جس کے ساتھ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کا پہلا راؤنڈ بڑی حد تک پُرامن اختتام پذیر ہوا، الیکشن کمیشن نے یہ بات کہی۔ ای سی ذرائع نے کہا کہ ووٹنگ تناسب کے قطعی اعدادو شمار ہنوز وصول ہونا ہیں۔ الیکشن کمیشن نے نئی دہلی میں کہا کہ گوا اور پنجاب میں آج پرامن اسمبلی انتخابات دیکھنے میں آئے جہاں اول الذکر میں ریکارڈ 83 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی اور آخرالذکر کے 70 فیصد میں قطعی اعداد و شمار آنے پر اضافہ ہوگا۔ روایتی حریفوں بی جے پی اور کانگریس کا ان دونوں ریاستوں میں سخت انتخابی مقابلہ ہے جہاں اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں اپنی اولین مسابقت کے ذریعے اقتدار کے دو بڑے دعوے داروں کو زک پہنچا کر مزہ لینے کے درپے ہے۔ عام آدمی پارٹی (عاپ) کیلئے دہلی کے باہر اسمبلی انتخابات میں یہ پہلی قسمت آزمائی ہے۔ دہلی میں وہ ریاستی اسمبلی میں غیرمعمولی اکثریت کے ساتھ برسراقتدار ہے اور اب تمام نظریں اس پارٹی پر لگی ہیں کہ آیا وہ دو بڑی قومی پارٹیوں کے منصوبے کو بگاڑ سکتی ہے۔ بی جے پی پنجاب میں شرومنی اکال دل کے ساتھ متواتر دو میعادوں سے حکومت میں ہے، جبکہ وہ گوا میں بھی حکمرانی کررہی ہے، جہاں حلیف مہاراشٹروادی گومنتک پارٹی نے انتخابات کے اعلان کے بعد علحدگی اختیار کرتے ہوئے تین پارٹیوں کا اتحاد تشکیل دیا ہے۔

پنجاب اور گوا کے انتخابات جن کے بعد اترپردیش، اترکھنڈ اور منی پور میں اس ماہ کے اواخر چناؤ شروع ہونے والے ہیں، انھیں بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی مابعد نوٹ بندی مقبولیت کی بڑی آزمائش سمجھا جارہا ہے۔ معمولی جھڑپوں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کہیں کہیں تکنیکی خرابیوں اور بعض دیگر چھوٹے موٹے مسائل سے کچھ دیر کیلئے رائے دہی میں تاخیر کے سواء پنجاب میں پولنگ پُرامن طور پر گزر گئی جہاں 2012ء چناؤ میں لگ بھگ 79 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا تھا۔ الیکشن آفس کے ترجمان نے بتایا کہ آج 70 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ہے اور تشدد کے معمولی واقعات کے سواء رائے دہی کا عمل پرامن طریقہ پر اختتام کو پہنچا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ضلع سنگرور کے موضع سلطان پورہ میں عاپ اور کانگریس ورکرس کے درمیان تصادم میں 2 افراد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ضلع ترن تارن میں ایک پولنگ بوتھ کے باہر اکالی دل کے حامی کی فائرنگ میں کانگریس ورکر شدید زخمی ہوگیا۔ پناجی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب گوا میں اسمبلی انتخابات کیلئے آج 83 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ جہاں پر حکمراں بی جے پی کو اپوزیشن کانگریس، عاپ اور ایم جی پی ، شیوسینا ، جی ایس ایم اتحاد سے ٹکر کا مقابلہ درپیش ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ متعدد پولنگ مراکز پر لمحہ آخر 5 بجے شام تک بھی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں آج کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم بعض پولنگ بوتھس پر ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ سے رائے دہی روک دی گئی، جبکہ پناجی میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر ایک 78 سالہ شخص قطار میں اچانک گر کر فوت ہوگیا۔ ایک اندازہ کے مطابق گوا میں آج 11.10 لاکھ ووٹروں نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ہے جبکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات 2012 ء میں بھی 83 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT