Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / پوتین اور روسی ڈوپرز کے آگے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی بے بس

پوتین اور روسی ڈوپرز کے آگے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی بے بس

روس کا سرکاری ڈوپنگ اسکینڈل عام ہونے کے باوجود آئی او سی کا ریو گیمز میں روسی شرکت پر امتناع سے گریز

ماسکو ، 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پھر ایک بار وہ لوگ جو اولمپکس کے کرتا دھرتا ہیں، ولادیمیر پوتین کو ’نا‘ کہنے سے قاصر ہیں۔ تب بھی کچھ نہیں کہہ سکے جب انھوں نے ونٹر اولمپکس کی میزبانی کیلئے زائد از 50 بلین امریکی ڈالر خرچ کئے تاکہ پُرجوش روس کی نمائش ہوجائے۔ تب بھی کچھ نہیں کہہ پائے جب وہ 1980ء اور 1984ء میں اولمپک بائیکاٹس کے دنوں کو واپس لانے کی منفی باتیں کرتے ہیں۔ بلاشبہ تب بھی کچھ نہیں کہا جب وہ یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک مخصوص طاقتور ملک (کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں) کے ڈوپنگ عہدیداران روس کو ریو اولمپکس سے دور رکھنے کی کوشش کے پس پردہ کارفرما ہیں۔ جب پوتین بولتے ہیں تو اولمپک عہدیدار سنتے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ کیوں روسی اتھلیٹس (تھوڑے ہی سہی) اب سے اندرون دو ہفتے برازیل میں افتتاحی تقاریب میں مارچ کرتے دکھائی دیں گے۔ روسی وقار داؤ پر لگا دیکھ کر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کا ایگزیکٹیو بورڈ پسر گیا۔ روس پر سرکاری منظورہ ڈوپنگ آپریشن چلانے کی پاداش میں ریو گیمز کیلئے امتناع عائد کردینے کی بجائے آئی او سی ممبرز نے گزشتہ روز یہ فیصلہ کیا کہ انفرادی اسپورٹس فیڈریشنز کو یہ طے کرنے کی اجازت دی جائے کہ کون سے روسی اتھلیٹس مسابقت کرسکتے ہیں۔ بے کیف، ہاں، مگر یہی کچھ توقع تھی۔ کوئی وجہ نہیں کہ معمولی ڈوپنگ اسکینڈل کو خوشگوار رشتے میں حائل ہونے دیا جائے جو دونوں فریقوں کیلئے مفید ہے۔ دو سال سے کچھ زائد قبل کی بات ہے کہ پوتین ونٹر اولمپکس کی شناخت بن چکے تھے جسے انھوں نے کھیل کود کے ایونٹ سے کہیں بڑھ کر سمجھتے ہوئے منعقد کرایا۔ وہ روسی اتھلیٹس کا جوش و خروش بڑھانے کیلئے مقابلوں کے مقام حتی کہ پہاڑیوں پہ تک پہنچ گئے اور اُن کے ساتھ مل کر خوشیاں منائیں جب وہ میزبانوں کے تمغوں کی تعداد بڑھا رہے تھے۔ اس درمیان اُن کے ایجنٹس سوچی ڈوپنگ لیاب میں راتوں میں دیر تک سرگرم رہے، اور وسیع تر اسکیم کے تحت اپنے ملک کے اتھلیٹس سے لئے گئے قارورہ نمونوں کو صاف ستھرے نمونوں سے بدل دیا تاکہ کوئی ڈوپنگ کا پتہ نہ چلے۔ اس کا روس کو فائدہ ہوا جسے 33 میڈلز ملے جن میں سے 11 گولڈ تھے۔ اس ملک نے تمغوں کی درجہ بندی میں اول پوزیشن پائی اور ہر جیت کے ساتھ روسی افتخار بڑھتا رہا۔ اس اسکام کا کئی ماہ بعد پتہ چلا اور جب معلوم ہوا تو سب کچھ عیاں ہوگیا کہ اس طرح کی دھوکہ دہی روسی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام کی منظوری اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔ اس کے باوجود روسی اتھلیٹس ریو میں مسابقت کرتے نظر آئیں گے۔ سرکاری وضاحت صدر آئی او سی تھامس باش کی طرف سے سامنے آئی، جنھوں نے کہا کہ تمام روسیوں پر امتناع عائد کردینا غیرمنصفانہ رہے گا کیونکہ ایسا ثابت نہیں ہوا ہے کہ وہ تمام دھوکہ باز ہیں۔ تاہم غیرسرکاری وضاحت زیادہ کاٹ دار ہے۔ رشین اولمپک کمیٹی کے عہدہ دار گینادی الیوشین نے اپنے تبصرہ میں نیوز ایجنسی ’تاس‘ سے کہا: ’’آئی او سی کا فیصلہ متوقع تھا۔ آپ روس جیسی طاقت کے تئیں نامناسب رویہ اختیار نہیں کرسکتے ہو۔‘‘ ظاہر ہے آپ ایسا نہیں کرسکتے، کیونکہ آئی او سی ڈرگ سے پاک اولمپکس کے انعقاد کے معاملے میں عملاً صاف ستھرے اتھلیٹس کو بچانے سے کہیں زیادہ روس کی ناراضگی سے بچنے کوشاں ہے۔

TOPPOPULARRECENT