Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / !پولیس اگر چاہے تو فریش آدمی بھی مجرم بن سکتا ہے

!پولیس اگر چاہے تو فریش آدمی بھی مجرم بن سکتا ہے

: مدھیہ پردیش :

جیل میں محروس شخص پر بھی ہنگامہ برپا کرنے کا مقدمہ
حیدرآباد ۔ 22 جولائی (سیاست نیوز) تحقیقاتی ایجنسیوں اور پولیس کے تعلق سے مشہور ہیکہ وہ پولیس چاہے تو کچھ بھی کرسکتی ہے؟ لیکن پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں پر پائے جانے والے الزامات مدھیہ پردیش کے واقعہ کے بعد درست ثابت ہوتے ہیں جہاں پولیس نے دو ایسے افراد کو مجرم بنا ڈالا جس میں ایک جیل کی سزاء کاٹ رہا ہے اور ایک بستر مرگ پر ہے۔ مدھیہ پردیش کے ضلع مندسور میں حالیہ دنوں پرتشدد واقعات پیش آئے ان واقعات میں ملوث افراد کی فہرست میں پولیس نے دو ایسے افراد کے ناموں کو شامل کیا ہے جن میں سے ایک فی الحال جیل ہی میں موجود ہے جبکہ دوسرا بستر مرگ پر فریش حالت میں موجود ہے ان دونوں کو پولیس نے ایک معاملات میں ملوث قرار دیا ہے جو کسانوں کے احتجاج میں شامل تھے اور منصوبہ بند طریقہ سے تشدد کو پھیلانے اور ہوا دینے کے سنگین الزامات اس فریش اور محروس شخص پر لگائے گئے۔ یہ دو افراد سنگین الزامات کے تحت کارروائی کا سامنا کرچکے ہیں اور ان میں سے ایک مندسور کی ڈسٹرکٹ جیل میں موجود ہے اور یہ شخص مارچ 2017ء سے جیل میں قید ہے جو نارکوٹیک ڈرگ اینڈ سائکوتھراپک سب اسٹائیفنس (این ڈی بی ایس) ایکٹ کے تحت سال 2010ء کے مقدمہ میں ملوث تھا۔ اس وقت 32 افراد کی فہرست جاری کی گئی تھی جن پر منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات پائے جاتے ہیں۔ تاہم ایسے افراد کو کسانوں کے احتجاج میں ملوث قرار دے دیا گیا ہے اور زبردستی ان پر تشدد کے الزامات عائد کردیئے گئے ہیں۔ کسانوں نے حقوق کے حصول اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے مندسور ضلع میں احتجاج کیا تھا جو آہستہ آہستہ پرتشدد احتجاج میں بدل گیا اور کسانوں کے اس احتجاج میں 5 کسان ہلاک ہوئے تھے۔ یہ احتجاج 5 تا 7 جون بہت شدید رہا اور 6 جون کو کسان ہلاک ہوئے تھے۔ یہ احتجاج مندسور ضلع کے مختلف حصوں میں پھیل گیا تھا جس پر قابو پانے میں پولیس کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب پولیس کی باری آئی تو پولیس نے اپنا کام کردیا اور ایسے افراد کو بھی مجرموں کی فہرست میں شامل کرلیا جن کا دور تک ایسے واقعات سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب پولیس کو اس فریش اور محروس شخص کے تعلق سے علم ہوا اور اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے تو پھر پولیس نے ایک قدم دور ہٹتے ہوئے ان افراد کے ناموں کی فہرست نکالنے کی بات کی۔ پولیس پر ایسے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہر مرتبہ الزامات درست ہونے کے باوجود بھی پولیس اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتی۔ پولیس کا یہ حال صرف مدھیہ پردیش ہی تک نہیں بلکہ ملک بھر میں پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیاں ایسے الزامات کا سامنا کررہی ہیں۔ اترپردیش میں انتخابات کے دوران ایک شخص کو آئی ایس سے جوڑ دیا گیا تھا جبکہ حیدرآباد میں تو حالیہ عرصہ کا ریکارڈ ہی مثال ہے جبکہ مکہ مسجد دھماکہ کے وقت کئی مسلم نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات میں پھانس کر انہیں ایسی تنظیموں اور دہشت گرد کارروائیوں سے جوڑا گیا جو چند عرصہ بعد عدالت سے بے گناہ ثابت ہوگئے لیکن پھر بھی پولیس کا رویہ اور طرزعمل بے گناہ اور بے قصور افراد کو پھانسنے میں تبدیل ہی نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT