Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / پولیس حراست میں دہشت گردوں جیسا سلوک ، تھرڈ ڈگری کا استعمال

پولیس حراست میں دہشت گردوں جیسا سلوک ، تھرڈ ڈگری کا استعمال

(بیگم پیٹ ٹاسک فورس آفس دھماکہ کیس)
پولیس حراست میں دہشت گردوں جیسا سلوک ، تھرڈ ڈگری کا استعمال
جیلوں میں بھی اذیت رسانی ، پولیس تحقیقات نے 12 سال تباہ کردئے ، عدالت سے بری نوجوانوں کا اظہار خیال
حیدرآباد /11 اگست ( سیاست نیوز ) بیگم پیٹ ٹاسک فورس آفس دھماکہ مقدمہ میںبری مسلم نوجوانوں کا کہنا ہے انہیں کوئی کیریکٹر سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں بلکہ تحقیقاتی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری برتی جائے تو مسلم نوجوانوں کا کردار ظاہر ہوجائے گا ۔ 12 سال جیل صعوبتیں برداشت کرنے والے نوجوانوں نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ ان پر ڈھائے گئے مظالم اور اذیتیوں کو ناپنے والا شائد کوئی پیمانہ نہیں ملے گا ۔ ایک روز قبل عدالت سے بری کئے گئے محمد عبدالزاہد نے کہا کہ مجرمین و ملزمین کے ساتھ برتاؤ کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے ۔ لیکن ہم تو ملزم تھے جنہیں پولیس نے ملزم دور جیلوں میں مجرم سے زیادہ ہراسان کیا گیا ۔ انہوں نے تکالیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ الزامات ثابت ہونے سے قبل ہی شک و شبہات میں ہماری شناخت ہی بدل دی گئی تھی ۔ جبکہ ایک ساتھی کو میڈیکل گرانڈ پر ضمانت دی جاسکتی تھی جو نہیں دی گئی ۔ ان نوجوانوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ان جیسے الزامات کا سامنا کرنے والے دیگر افراد کو کیسے ضمانت مل گئی ۔ ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ میڈیا پولیس کی مہربانی سے وہ جیل گئے اور جیل میں انہیں صعوبتیں برداشت کرنا پڑا ۔ میڈیا اور پولیس نے پہلے ہی دہشت گرد قرار دے دیا اور جیل میں بھی اسی نام سے پکارا جاتا تھا ۔ جبکہ ہمارے حقوق کا احترام ان 12 سالوں میں سوائے عدالت کے کہیں اور نہیں رہا ۔ بیگم پیٹ ٹاسک فورس آفس بم دھماکہ کے الزامات میںایک روز قبل عدالت سے بری ہونے والے محمد عبدالزاہد نے بتایا کہ بے قصور ہونے کے بعد بھی ہمیںبارہ سال قید وبند کی صعوبتیں جھیلنے پڑی‘زیر تحویل انہیں ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ‘ معاشرے میںہمیںدہشت گرد کی نظر سے دیکھا گیا‘ جیل حکام نے عدالت کے فیصلے سے قبل ہی ہمیںمجرم مقرر کیااور ہمارا نام ائی ایس ائی ایجنٹ رکھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2006میں موسی رام باغ کی مسجد کے قریب میںپیش آئے ایک معمولی واقعہ کے بعد میرے خلاف سازشیں کی گئی۔ پہلے تو اندرسین ریڈی( بی جے پی لیڈر) سابق رکن اسمبلی ملک پیٹ پر حملے کی سازش کے الزام میںمیری گرفتار ی عمل میںلائی گئی۔پولیس مجھ پر اندرسین ریڈی کے خلاف حملے کی سازش کا الزام ثابت نہیںکرسکی ‘ پھر اس کے بعد بیگم پیٹ ٹاسک فورس آفس بم دھماکہ پیش آیا ‘ جس کے فوری بعد مجھے پولیس نے طلب کیا اور مجھ پر مذکورہ بم دھماکے کو انجام دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ زاہد نے کہاکہ بے قصور ہونے کے باوجود مجھے بارہ سال تک قید میںرکھا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ ٹاسک فورس نے جب مجھے اور میرے ساتھیو ں کو گرفتار کیاتب ہم سے اقبال جرم کے لئے تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے ہمیں بے تحاشہ پیٹا ۔(سلسلہ صفحہ 9 پر )

TOPPOPULARRECENT