Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / پولیس فائرنگ میں 3 دلتوں کی ہلاکت

پولیس فائرنگ میں 3 دلتوں کی ہلاکت

4 سال بعد دوبارہ تحقیقات کیلئے حکومت گجرات کا فیصلہ
احمدآباد 20 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں ضلع سریندر نگر کا تھنگڈہ میں 3 دلت نوجوانوں کی فائرنگ کے واقعہ میں ہلاکت کے 4 سال بعد ریاستی حکومت نے اس کیس کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دلت لیڈروں کی نمائندگیوں پر چیف منسٹر وجئے روپانی نے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرداخلہ پردیپ سنگھ جڈیجہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دلت لیڈروں بشمول کابینی وزیر آتما رام پرمار، سابق وزیر رمن لال ورا اور راجیہ سبھا رکن شمبھو پرساد کونڈیا نے اس خصوص میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی تھی۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ کیس کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے خصوصی عدالت کا قیام اور اسپیشل پبلک پراسکیوٹر کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ جبکہ مہلوکین کے ورثاء کو مزید 2 لاکھ روپئے کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ تھنگڈہ پولیس فائرنگ کا واقعہ حالیہ اون ٹان میں دلتوں کی پٹائی کے قضیہ کے بعد دوبارہ اٹھایا گیا ہے جبکہ دلت ایتا چارپڈکر سمیتی کے زیراہتمام احمدآباد تا اونا نکالی گئی ایک ریالی میں دلت لیڈروں نے تھنگڈ فائرنگ کے متاثرین سے انصاف کا مطالبہ کیا۔ متاثرین نے بھی اس مطالبہ پر احمدآباد میں بھوک ہڑتال کی تھی۔ ضلع سریندر نگر کے تھنگڈ ٹاؤن میں 22 اور 23 سپٹمبر 2012 ء کی شب 3 دلت نوجوانوں پنکج سومرا، پرکاش پرمار اور میہول راتھوڑ کے وقت پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے جبکہ دلتوں اور او بی سی بھرواڈ کمیونٹی کے درمیان تصادم پر قابو پانے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی گئی۔ آج جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات کے بعد ایک رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی لیکن ہنوز منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

TOPPOPULARRECENT