Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / پولیس لاٹھی چارج

پولیس لاٹھی چارج

چمن میں آتشِ گُل پھر سے بھڑکانے بھی آئیں گے
خزاں آئی تو اب صحرا سے دیوانے بھی آئیں گے
پولیس لاٹھی چارج
تلنگانہ ریاست کے قیام میں ساری توانائی صرف کرنے والے کے چندرشیکھر راؤ کو اب اپنے ہی علاقہ میں عوام کی شدید ناراضگی کا سامنا ہے۔ نئی ریاست کی ٹی آر ایس حکومت کیلئے اتنی جلد ہی اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت محسوس ہوگی یہ سوچا نہ تھا۔ کسانوں نے اگر ٹی آر ایس حکومت کا کولیسٹرول غیرصحتمندانہ لیول تک بلند کردیا ہے تو یہ ابتدائی تشویش کی بات ہے جس کا علاج عاجلانہ کیا جانا ضروری ہے۔ اس وقت چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی حکومت کی شریانوں میں کثافتوں کا مرحلہ شروع نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہی حکومت کے قلب کی دھڑکن غیرمتوازن دکھائی دینے لگے تو پھر آنے والے دنوں میں حالات کچھ بھی  رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ ملنا ساگر پراجکٹ کے متاثرین نے چیف منسٹر کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ ان پر پولیس لاٹھی چارج کیا گیا تو اپوزیشن کو مدتوں بعد حکومت کے خلاف خود کو مصروف رکھنے کا بہانہ مل گیا۔ اپوزیشن نے میدک بند منایا۔ اس میں کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی، سی پی آئی ایم اور سی پی آئی کے کئی قائدین کو حراست میں لیا گیا۔ ضلع میدک کے گجویل منڈل کے ایراویلی کے قریب کسانوں نے ملنا ساگر پراجکٹ کیلئے زبردستی اراضیات حاصل کرنے ٹی آر ایس حکومت کے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ کسانوں کے احتجاج کو ناکام بنانے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ ہجوم پر قابو پانے کیلئے پولیس کے پاس اس سے ہٹ کر کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لاٹھی چارج کا واقعہ بھی حکومت کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ چیف منسٹر کو اپنے ہی حلقہ میں عوام کی ناراضگی کا سامنا ہے تو ماباقی اضلاع میں چیف منسٹر کے موقف کے بارے میں بہت کچھ قیاس کیا جاسکتا ہے۔ ملنا ساگر پراجکٹ اب حکومت کیلئے وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔ پولیس لاٹھی چارج کیلئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس پراجکٹ سے متاثر ہونے والے کسانوں اور فائدہ حاصل کرنے والے سیاستدانوں کی اکثریت کا جائزہ لیا جائے تو ملنا ساگر پراجکٹ تلنگانہ میں آبپاشی کے شعبہ کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے مگر کسانوں اور عام عوام کی پریشانیوں کو سمجھے بغیر کسی بھی پراجکٹ کا جلد بازی میں آغاز کرنا اسی طرح مسائل کا شکار بن جانا ہے۔ کسانوں اور پولیس کے درمیان تصادم کے واقعات نئے نہیں ہیں لیکن تلنگانہ میں نئی حکومت ہے اور اس کی نئی پالیسیاں اور نئے منصوبے ہوتے ہیں اگر حکومت کی کوئی پالیسی یا منصوبہ ناقابل قبول ہو تو اس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اب تک اپنے کئی منصوبوں کا اعلان بھی کیا اور ان میں سے کئی منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ چیف منسٹر کے پاس اب ویسی دور بین نہیں ہے، جس کی مدد سے انہوں نے تلنگانہ کے مستقبل کو دیکھا تھا۔ حصول تلنگانہ کی جدوجہد کے دوران انہوں نے ریاست کی ترقی کیلئے جس دوراندیشانہ خیالات کا اظہار کیا تھا اس پر حقیقی طور پر عمل آوری کی کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ اس لئے عوام میں بھی ناراضگی جنم لے رہی ہے۔ بظاہر تلنگانہ میں سکون اور خاموشی سے حکومت چلائی جارہی ہے۔ اس کے باوجود لاحق تشویش کی وجہ عوام میں دھیرے دھیرے ناراضگیاں پیدا ہونا ہے۔ ایسے میں چیف منسٹر کا رویہ بتاتا ہیکہ ریاست کی صورتحال کسی تصفیے کی طرف نہیں بڑھے گی بلکہ اپوزیشن کو آئے دن نئے بہانے دستیاب ہوتے رہیں گے اور پھر ریاست کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ عوامی فلاحی اسکیمات طلباء کی تعلیم، کسانوں کے مسائل، روزگار اور لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ سارا نظام ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔ چیف منسٹر کے بارے میں فی الحال پیشن گوئی کرنا درست نہیں کیونکہ انہوں نے بڑی محنت سے تلنگانہ حاصل کیا ہے تو اپنی محنت کا کچھ نہ کچھ صلہ لینے کی کوشش ضرور کریں گے۔ کے سی آر کو اگر سیماب صفت شخص سمجھا گیا ہے تو ان کے بارے میں غلط سوچنے کا ڈیڈ لائن تعین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ریاست کی صورتحال جب سنگین ہوجائے تب دیکھا جائے گا کے خیال کے ساتھ اگر حکومت یوں ہی کی جائے تو پھر مسائل اور شکایات کا بھاری پتھر حکومت کے سینے پر رکھا جائے گا جو وقت گذرنے کے ساتھ قوی ہوکر سرکنے کا نام ہی نہیں لے گا۔ یقیناً تلنگانہ اب کسی انتہائی انتشار کی کیفیت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا حکمراں پارٹی ٹی آر ایس اور اس کے سربراہوں کو چاہئے کہ وہ خود کو کنٹرول میں رکھ کر کارکردگی کا ثبوت دیں۔ ریاست کی اپوزیشن پارٹیوں کو صرف اسٹریٹ ہاؤز کا مظاہرہ کرنا آتا ہے تو یہ ریاست کی فلاح و بہبود کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ اپوزیشن کی حیثیت سے سیاسی پارٹیوں کو عوام کی بہبود اور ان کے مستقبل کے بارے میں اچھی رائے قائم کرکے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کے احتجاج اور پولیس لاٹھی چارج کے بعد اپوزیشن کی طاقت قوی ضرور ہوتی ہے مگر حکومت کا اختیار ابھی مضبوط ہے۔ حکومت کو ایسی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی جس سے کسی کو نقصان نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT