Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / پولیس ملازمین ، ٹی آر ایس کے ایجنٹ : محمد علی شبیر

پولیس ملازمین ، ٹی آر ایس کے ایجنٹ : محمد علی شبیر

نظام آباد۔16 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)پولیس ملازمین ٹی آرایس کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ خاکی وردی نکال کر گلابی کپڑے پہنا ہی باقی رہ گیا ہے۔ پولیس اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ورنہ آنے والے دنوں میں انہیں خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ تلاری ستیم کے والد کی جانب سے دئیے گئے درخواست پر فوری رکن اسمبلی آرمور کیخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کاآغاز کیا گیا تو بہتر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر آج آرمور میں 9؍ جنوری کے روز ہوئے تلاری ستیم، چے پوری روی کی موت کے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کل جماعتی قائدین کی جانب سے چلائی جانے والی ہڑتالی کیمپ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ کل جماعتی قائدین کی جانب سے گذشتہ 9 دنوں سے کلکٹریٹ کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے آج ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر طاہر بن حمدان کی قیادت میں منعقدہ دھرنے میں قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، پردیش کانگریس کے کار گذار صدر ملو بٹی وکرامارکا،آکولہ للیتا ایم ایل سی، سابق اسپیکر کے آر سریش ریڈی، سابق گورنمنٹ وہپ ای انیل کمار، اربن کانگریس کے انچارج مہیش کمار گوڑکے علاوہ تلگودیشم کے ریاستی قائد راجہ رام یادو، سی پی آئی ایم کے سکریٹری دنڈی وینکٹی، سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی کے وی پربھاکر، سی پی آئی کے سکریٹری بھومنا، امبیڈکر سنگم کے مانکیم نے شرکت کی ۔ اس موقع پر محمد علی شبیرنے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ضلع نظام آباد کی عوام نے ٹی آرایس پر اعتماد کرتے ہوئے 9 اسمبلی اور دو پارلیمانی حلقوں میں کامیاب بنایا تو ہر شعبہ میں حکومت عوام کو نظر انداز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو دھوکہ باز ہے اور انہوں نے ایس سی طبقات کے ساتھ ابتداء ہی سے دھوکہ دہی کررہے ہیں ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو چیف منسٹر کی حیثیت سے نامزد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انحراف کیااور آرمور میں رکن اسمبلی کیخلاف مقابلہ کرنے والے ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ستیم کو سڑک حادثہ کے نام پر ہلاک کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس حکومت کی ایجنٹ کی طرح کام کررہی ہے۔ میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے انتخابات میں اسد الدین اویسی ایک روڈی کی طرح ان پر حملہ کروایا تو پولیس خاموش تماشائی رہی اور چیف منسٹر اور ان کے فرزند اس واقعہ کے بعد خاموش تماشائی رہے اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان پر کئے گئے حملے پر لب کشائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ یہاں تک کہ فون پر بھی بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ جبکہ سابق میں نکسلائٹس کی جانب سے جان لیوا حملے کے بعد چندرا بابو نائیڈو بحیثیت چیف منسٹر دو مرتبہ ان سے بات چیت کی تھی۔ اقتدار کے نشہ میں عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں کہ بی جے پی کا دہلی میں 7ماہ کے بعدجو حال ہوا تھا ٹی آرایس کا آئندہ بھی یہی حال ہوگا۔ ورنگل، حیدرآباد کے بعد اب کھمم میں عوام کو رعایتیں دینے کی بات کہی جارہی ہے۔جبکہ نظام آباد میں 9 حلقہ اسمبلی میں کامیاب بنانے والی عوام کو کیوں برقی بقایہ جات معاف نہیں کئے جارہے ہیں جہاں کہی بھی انتخابات ہورہے ہیں یہاں پر معافی کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 9 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کا تقرر نہیں کیا گیا اور دلت طبقوں کے ساتھ ریاست بھر میں ناانصافی کی جارہی ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی میں روہیت ویمولہ کے واقعہ کے بعد چیف منسٹر یا ان کے کابینہ کے رفقاء ملاقات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ گذشتہ 9 دنوں سے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد احتجاج چلایا جارہا ہے۔ چیف منسٹر اس بارے میں کوئی وضاحت پیش کرنا مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس خصوص میں جے اے سی کے زیر اہتمام چلو اسمبلی، چلو حیدرآباد پروگرام کے تحت چیف منسٹر کے آفس کا گھیرائو کرنے کا انتباہ دیا۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی کے کار گذار صدرملو بٹی وکرا مارکا نے کہا کہ کئی افراد کی قربانیوں کے بعد تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا تو تلنگانہ میں دلت اور پچھڑے طبقات کے ساتھ زبردست نا انصافی کی جارہی ہے اور چیف منسٹر چندر شیکھر رائو تلنگانہ تحریک میں تمام طبقات کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر آنے کے بعد ایس سی اور پچھڑے ہوئے طبقات کوکچلنے کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں جاری حکمرانی کیخلاف پھر ایک مرتبہ تحریک چلانا ناگزیر سمجھا جارہا ہے اور تمام تنظیموں سے پھر ایک مرتبہ تحریک میں شامل ہوتے ہوئے ریاست میں حکمرانی کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کرنے کی خواہش کی۔ انہوں نے تلاری ستیم اور روی کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ستیم کے والد نے تحریری طور پر پولیس میں شکایت کے باوجود بھی ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا جبکہ پولیس چھوٹے موٹے واقعات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اقدامات کرتی ہے لیکن اس واقعہ میں پولیس خاموش تماشائی اور حکومت کی جانبداری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس واقعہ پر اسمبلی اور کونسل میں منصوبہ بند طریقہ سے احتجاج کرنے کا ارادہ ظاہر کیااور اس واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا ۔قانون ساز کونسل کی رکن آکولہ للیتا نے اپنی تقریر میںکہا کہ ستیم اور روی کے موت کے واقعہ کی تحقیقات اور مسئلہ کی یکسوئی تک کانگریس کی جانب سے جدوجہد کو جاری رکھا جائیگا۔ تلنگانہ کا قیام سونیا گاندھی کی دین ہے لیکن موجودہ حکومت اپوزیشن پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو زبردستی ہراساں کرتے ہوئے اپنی پارٹی میں شمولیت کیلئے مجبور کررہی ہے ۔ انہوں نے کل جماعتی قائدین کے ہمراہ جدوجہد کو جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تلاری ستیم کے والد بکنا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں ان کے فرزند ستیم نے رکن اسمبلی آرمور کیخلاف الیکشن آفیسر سے شکایت کی تھی اور الیکشن کے بعد سے ان کے فرزند کے خلاف دھمکیاں شروع ہوگئی تھی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی جارہی تھی ۔ رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی ان کے فرزند کے موت کے ذمہ دار ہے۔ تلگودیشم قائد راجہ رام یادو، سی پی ایم سکریٹری دنڈی وینکٹی نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ اس واقعہ کے بعد مسلسل ہراساں کیا جارہے اور بلواستہ طور پر مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہے۔ سابق اسپیکر کے آر سریش ریڈی نے اپنی تقریر میں اس واقعہ کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی مسئلہ کے حل تک جدوجہد کو جاری رکھے گی۔ سابق گورنمنٹ وہپ انیل کمار کے علاوہ دیگر نے بھی مخاطب کیا ۔ کانگریس قائدین نے دھرنے میں شرکت سے قبل کانگریس بھون سے ریالی کے ذریعہ یہاں پہنچ کر دھرنے میں شامل ہوگئے ۔ اس موقع پر ٹی پی سی سی سکریٹری این رتناکر، ٹائون کانگریس صدر کیشو وینو، سابق صدر ضلع کانگریس جی گنگادھر، ناگیش ریڈی سابق صدر زرعی مارکٹ کمیٹی،کانگریس فلور لیڈر ایم اے قدوس، اشفاق صدور ضلع کانگریس احمد خان نائب ، محمد فیاض الدین، مولانا کریم الدین کمال،سید نجیب علی ایڈوکیٹ، ضلع وقف کمیٹی صدر محمد جاوید اکرم، صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیر احمد، مسعود احمد اعجاز، جمیل احمد خان، محمد امر، محمد ذاکر، مصطفی الکاف، عبیدبن حمدان، ارشاد پاشاہ سابق نائب صدر بلدیہ بودھن کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔ بعدازاں ضلع کلکٹر کو ایک یادداشت بھی پیش کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT