Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / پولیس پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں ، عبداللہ سہیل

پولیس پر انگلیاں نہیں اٹھائی گئیں ، عبداللہ سہیل

چند پولیس آفیسرس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے ڈگ وجئے سنگھ کے ٹیوٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے سینئیر قائد نے تلنگانہ پولیس پر انگلیاں نہیں اٹھائیں بلکہ چند پولیس آفیسرس کی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنایا ہے جو انعام حاصل کرنے کے لیے داعش کی فرضی ویب سائٹ کی جال میں مسلم نوجوانوں کو پہلے پھنسا رہے ہیں اور پھر انہیں گرفتار کرتے ہوئے کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں مسئلہ کی نوعیت اور سنگینی کو سمجھے بغیر ٹی آر ایس کے قائدین میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ڈگ وجئے سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنانے اور ان کے پتلے نذر آتش کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے استفسار کیا کہ کیا معصوم مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسنا جرم نہیں ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ کو جو بھی اطلاعات ملی ہیں اس کی بنیاد پر انہوں نے ٹیوٹ کرتے ہوئے اس کا انکشاف کیا ہے ۔ اگر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو مسلمانوں سے حقیقی ہمدردی ہے تو وہ ڈگ وجئے سنگھ کے الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائے ۔ کانگریس پارٹی ملک سے غداری کرنے والوں کی ہرگز تائید نہیں کرے گی ۔ مگر فرضی ویب سائٹس کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو بھی ہرگز برداشت نہیں کرے گی ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اس معاملے میں سارے محکمہ پولیس کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ چند پولیس عہدیداروں کی جانب سے بے قصور معصوم مسلم نوجوانوں کے خلاف کی جانے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے جو انعام و اکرام کے لالچ میں مسلم نوجوانوں کو داعش کی سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے یاد دلایا کہ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں پولیس نے انکاونٹر کے نام پر 5 مسلم زیر دریافت قیدیوں کا بے رحمانہ انداز میں مبینہ طور پر قتل کردیا ۔ اس کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی نے دو سال بعد بھی اپنی رپورٹ پیش نہیں کی ۔ 11 سالہ لڑکے شیخ مصطفی کا مبینہ طور پر مہدی پٹنم میں بے رحمانہ قتل کیا گیا ۔ تین سال بعد قاتلوں کا پتہ چلانے میں پولیس ناکام رہی ۔ کشن باغ میں پولیس فائرنگ میں تین نوجوان ہلاک ہوئے ۔ اس کی تحقیقات کرانے اور قصور وار پولیس عہدیداروں کو سزا دینے میں حکومت ناکام رہی ۔ پھر بھی چیف منسٹر اپنے آپ کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سہراب الدین کے فرضی انکاونٹر میں تعاون کرنے والے ایک آئی پی ایس عہدیدار کو ریاست کے اعلیٰ عہدے پر فائز کیا ہے اور 4 فیصد مسلم تحفظات کی مخالفت کرنے والے وکیل کو ایڈوکیٹ جنرل بنایا گیا ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT