Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پولیس کا چبوترہ مشن، عوام کا ملاجلاردعمل

پولیس کا چبوترہ مشن، عوام کا ملاجلاردعمل

چبوترہ مہم کے ساتھ خوردنوش کے مقامات پر توجہ دینے پر زور
حیدرآباد ۔ 14 اگست (سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے ایک مرتبہ پھر چبوترہ مشن کا آغاز عمل میں آچکا ہے اور محکمۂ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی نگرانی میں پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں رات دیر گئے چبوتروں پر بیٹھنے والے نوجوانوں کو حراست میں لینا شروع کردیا ہے۔ محکمۂ پولیس کی اس کاروائی سے والدین میں خوشی و ناراضگی کے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں ۔ رات کے اوقات میں وقت گذاری کرنے والے نوجوانوں کی جلد گھر واپسی کو یقینی بنانے کے لئے پولیس کے اقدامات کی ستائش کرنے والے والدین کا احساس ہے کہ پولیس کے خوف سے ہی سہی نوجوان رات جلد گھروں کا رخ کر رہے ہیں لیکن جو والدین ان کاروائیوں کی مخالفت کر رہے ہیں ان کا احساس ہے کہ پولیس نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان تمام وقت گذاری کے مقامات اور اشیائے خورد و نوش کے مراکز کو رات کے اوقات میں بند کروانے کے اقدامات کرے جہاں یہ نوجوانوں میں بگاڑ آرہا ہے۔ رات کے اوقات میں سڑکوں پر گھومنے والے اور چبوتروں پر گپ شپ مارنے والے نوجوانوں کو حراست میں لئے جانے سے حل برآمد نہیں ہوگا بلکہ رات کے اوقات میں بازار کو وقت پر بند کروانے کے اقدامات میں سختی لائے جانے کی صورت میں نوجوانوں کے لئے گپ بازی اور وقت گذاری کے مراکز ہی نہیں رہیں گے تو ایسی صورت میں نوجوان از خود جلد گھروں کا رخ کرنے لگیں گے۔ محکمۂ پولیس کی جانب سے نوجوانوں کو حراست میں لیتے ہوئے ان کے والدین کی موجودگی میں ان کی کونسلنگ کی جا رہی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے لیکن جن مقامات سے ان نوجوانوں کو حراست میں لیا جارہا ہے ان مقامات پر رات دیر گئے کھلے رہنے والے تجارتی مراکز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ بعض مقامات پر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس کے اہلکار ان تجارتی مراکز کی رکھوالی میں مصروف ہیں۔ مشن چبوترہ کے متعلق محکمۂ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی سنجیدگی شبہ سے بالاتر ہے لیکن ان عہدیداروں کے ماتحتین کی غیر سنجیدہ حرکات ان کی ان کاروائیوں کو بدنام کر رہی ہیں۔سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر اے کے موہنتی جس وقت شہر حیدرآباد کے کمشنر تھے اس وقت شہر کے ہر علاقہ میں رات 10بجے بازار بند کروا دیئے جاتے تھے 2005میں مسٹر موہنتی کے دور میں کسی چبوترہ مشن یا آپریشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی بلکہ بازار بند ہوجانے کے بعد لوگ بالخصوص نوجوان رات کے وقت گھروں کا رخ کر لیا کرتے تھے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں رات کے اوقات میں فوڈ بازار لگائے جار ہے ہیں جو کہ نوجوانوں کی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اگر محکمۂ پولیس کی جانب سے ان مراکز کو ان کے وقت پر بند کروایا جانے لگے اور کھلے رہنے والے مراکز کے خلاف سخت کاروائی کی جائے تو ایسی صورت میں نوجوانوں کے طرز زندگی کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔ ساؤتھ زون پولیس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی سراہنا کے ساتھ ان پر کی جانے والی تنقیدوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ محکمۂ پولیس کے اعلی عہدیدار اگر نوجوانوں پر سختی کے ساتھ اپنے ماتحتین کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں رات میں بازار بند کروانے کا پابند بنائیں اور یہ ہدایت دیں کہ رات کے اوقات میں میڈیکل ہال کے علاوہ کسی بھی تجارتی مرکز کو کھلا رکھنے کی اجازت نہ دیں تو حالات میں غیر معمولی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT