Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / پولیس کا چبوترہ مشن کی مقبولیت، ہوٹلوں اور طعام خانوں کو کھلی چھوٹ

پولیس کا چبوترہ مشن کی مقبولیت، ہوٹلوں اور طعام خانوں کو کھلی چھوٹ

نوجوانوں کی سرگرمیوں میں اضافہ، عوام میں ناراضگی، پولیس کی چشم پوشی سے منفی اثرات

حیدرآباد۔19مارچ (سیاست نیوز) پرانے شہر میں پولیس کی جانب سے چلائے جانے والے چبوترہ مشن کو کافی مقبولیت حاصل ہونے کے بعد اب ان کے اس مشن پر عوام کی جانب سے ہی سوال اٹھائے جانے لگے ہیں اور عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ پولیس کی جانب سے تجارتی سرگرمیوں بالخصوص طعام خانوں اور ہوٹلوں کے علاوہ دیگر مراکز کو کھلی چھوٹ فراہم کرتے ہوئے مشن چبوترہ کرتی ہے تو اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے اور ان اداروں کے سبب ہی شہر میں نوجوانوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔پرانے شہر میں نوجوان رومیو کے خلاف چلائی جانے والی پولیس کی مہم کو عوامی تائید حاصل ہے لیکن ساتھ ہی عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ پرانے شہر کی ہوٹلوں میں رات دیر گئے تک تجارتی سرگرمیاں انجام دیئے جانے کی اطلاع رکھتے ہوئے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی رہتی ہے جو کہ پولیس کے کردار کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ نوجوانوں کو رات دیرگئے تک طعام خانوں میں بیٹھنے کیلئے جگہ میسر آنے کے سبب وہ رات دیر گئے تک گھروں سے باہر رہنے لگتے ہیں اگر ان نوجوانوں کو یہ سہولت نہ ملے تو ممکن ہے کہ پولیس کو اس طرح کے مشن چلانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔ ٹھیلہ بنڈی پر رات کے اوقات میں تجارت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر تجارت کرنے سے روکا جاتا ہے اور بڑی ہوٹلوں پر کوئی پابندی نہ ہونے کے سبب نوجوان ان ہوٹلوں میں رات دیر گئے تک موجود رہتے ہیںحالانکہ پولیس اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ رات میں کونسی ہوٹلیں کھلی ہوتی ہیں۔ محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے ماتحتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں جاری سرگرمیوں کو بند کروائیں لیکن ایسی شکایات معمول بنتی جا رہی ہیں اور اس کے باوجود اعلی عہدیداروں کی جانب سے کوئی کاروائی نہ کیئے جانے کے متعلق عوام کے ذہنوں میں سوال ابھرنے لگے ہیں۔ شہر کی کئی ہوٹلیں ایسی ہیں جن کے روبرو پولیس کے بڑے بڑے کیمرے نصب ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ہوٹلیں رات دیر گئے تک کھلی رہتی ہیں اور ان ہوٹلوں میں سینکڑوں افراد موجود ہوتے ہیں لیکن نہ ان کیمروں کے ذریعہ ان ہوٹلوں کی سرگرمیوں کو اعلی عہدیدار دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی رات کے وقت تجارتی سرگرمیو ںکو بند کروانے کیلئے نکلنے والے عہدیدار ان تجارتی سرگرمیو ںکو بند کروانے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ سڑکوں پر رہنے والے نوجوانوں کو حراست میں لیتے ہوئے اسے چبوترہ مشن یا روڈ رومیو کا نام دیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ رات دیر گئے نوجوانوں کو گھروں سے باہر رہنے سے روکنے کے لئے پولیس کی کاروائی اچھی بات ہے لیکن نوجوانوں کیلئے وقت گذاری کی جگہوں کو کھلی چھوڑے جانے کے سبب یہ نوجوان ان مقامات کا رخ کر رہے ہیں اس بات پر بھی توجہ دی جانی چاہئے یا پھر محکمہ پولیس کو کھلے طور پر یہ اعلان کردینا چاہئے کہ رات دیر گئے تک بازار کھلے رکھنے کی اجازت دیدی گئی ہے تاکہ تاجرین اور عوام میں کسی قسم کا خوف باقی نہ رہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT