Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / پولیس کی مداخلت سے وکلا کا ’’چلوہائیکورٹ جلوس ‘‘روک دیا گیا

پولیس کی مداخلت سے وکلا کا ’’چلوہائیکورٹ جلوس ‘‘روک دیا گیا

بشمول 12خواتین 239 وکلاء گرفتار ‘ حیدرآباد ہائیکورٹ کے اطراف امتناعی احکام کے باوجود افرا تفری ‘ احتجاج میں توسیع

حیدرآباد۔ 13 جون (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کیلئے علیحدہ ہائیکورٹ اور آندھرا سے تعلق رکھنے والے ججس کو ان کے آبائی مقام کو مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ وکلاء کی جانب آج منعقدہ ’’چلو ہائیکورٹ‘‘ احتجاجی جلوس نکالا گیا جس کے نتیجہ میں 239 وکلاء بشمول 12 خاتون وکلاء کو ساؤتھ زون پولیس نے گرفتار کرلیا۔ فیڈریشن آف بار اسوسی ایشن نے آج ’’چلو ہائیکورٹ‘‘ اپیل جاری کی تھی جس کے تحت تلنگانہ وکلاء جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور مسلم وکلاء جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے وابستہ سینکڑوں وکلاء نے ہائیکورٹ کی جانب بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا۔ تلنگانہ ایڈوکیٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی ( جے اے سی ) کے معاون کنوینر پی سری رنگاراؤ نے کہا کہ ’’ پولیس نے اگرچہ یہ پروگرام منظم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا لیکن وکلاء کی کثیر تعداد سٹی کریمنل کورٹ کامپلکس میں جمع ہوگئی تھی اور ہائیکورٹ کی طرف پیش قدمی کی جارہی تھی کہ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے جلوس کو روک دیا ‘‘ ۔ ’’چلو ہائیکورٹ‘‘ مارچ کے پیش نظر پولیس نے آج صبح 7 بجے سے ہی ہائیکورٹ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں بھاری پولیس فورس متعین کردی تھی اور حیدرآباد ہائیکورٹ میں صرف ان وکلاء کو داخلہ دیا گیا جن کے مقدمات کی سماعت مقرر تھی۔ تلنگانہ وکلاء کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے نتیجہ میں ہائیکورٹ کے اطراف و اکناف دور دور تک ٹریفک جام ہوگئی تھی۔ پولیس کی خصوصی ٹیموں نے احتجاج کرنے والے وکلاء کو مدینہ چوراہے ، ہائیکورٹ کے باب الداخلہ اور دیگر علاقوں سے گرفتار کرکے انہیں فلک نما اور کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ واضح رہے کہ کل کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے ’’چلو ہائیکورٹ‘‘ مارچ کی اجازت نہیں دی تھی اور ہائیکورٹ کے اطراف ضروری امتناعی احکامات نافذ کردیئے گئے تھے۔ اس صورتحال کے مدنظر رجسٹرار جنرل ہائیکورٹ نے عدالت کے احاطہ اور اطراف و اکناف میں جلوس اور جلسوں کو ممنوع قرار دیا تھا ۔فیڈریشن آف بار اسوسی ایشن نے 13 جون تک ریاست کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن آج اس فیڈریشن نے احتجاجی پروگرام میں 17 جون تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 14 جون کو بھوک ہڑتال ، 15 جون تک مون ورت،16 جون کو سڑکوں پر کھانا پکانے کا احتجاج اور 17 جون تک آندھرا ججس کو پوسٹ کارڈ روانہ کرنے کا احتجاجی منصوبہ بنایا ہے۔ اسی دوران تلنگانہ جوڈیشیل ایمپلائیز اسوسی ایشن نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو ہڑتال کی نوٹس حوالے کرتے ہوئے یکم جولائی سے عدلیہ کے کام کاج کا بائیکاٹ کی اطلاع دی، تاہم تلنگانہ وکلاء جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حیدرآباد ہائیکورٹ کے کارگذار چیف جسٹس مسٹر دلیپ بھوسلے کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے آندھرا سے تعلق رکھنے والے جوڈیشیل آفیسرس کی عبوری فہرست کو واپس لیتے ہوئے ان کے آبائی مقام کو مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاج میں فیڈریشن کے صدر ایڈوکیٹ جیتندر ریڈی ، ایڈوکیٹ جئے کرن ، ایڈوکیٹ موہن راؤ ، ایڈوکیٹ کے جناردھن ریڈی کے علاوہ مسلم ایڈوکیٹ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء ایڈوکیٹ زیڈ ایچ جاوید ، ایڈوکیٹ وحید اور دیگر احتجاج میں شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT