Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / پولیس کے اقدامات اور کارروائی کی اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ

پولیس کے اقدامات اور کارروائی کی اعلی سطحی تحقیقات کا مطالبہ

راجندرنگر پولیس پر مختلف شبہات کا اظہار ، متاثرین انسانی حقوق کمیشن سے رجوع
حیدرآباد /5 نومبر ( سیاست نیوز ) راجندر نگر پولیس کی کارروائی اور اقدامات پر اعلی سطح تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ سارقوں کی گرفتاری میں پولیس کی غیر ضروری مستعد اور اذیت رسانی کے بعد زبردستی سرقہ کے الزام میں جیل بھیجنے کو پولیس الزامات کا سامنا کر رہی ہے ۔ دو کم عمر افراد کی گرفتاری میں پولیس کے روم پر بھی شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد ان دو افراد نے جو سرقہ کے الزام میں راجندر نگر پولیس کی جانب سے جیل منتقل کئے گئے تھے آج انسانی حقوق تنظیم سے رجوع ہوگئے اور پولیس پر سنگین الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ پولیس نے 20 سالہ عمران اور 21 سالہ اعجاز کو سیل فون سرقہ کے معاملہ میں حراست میں لے لیا اور ان پر زبردستی ایسے جرائم کو قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا ۔ جس کو انہوں نے ا نجام نہیں دیا ۔ ان متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان پر کافی دباؤ ڈالا اور اذیت پہونچائی ۔ یہاں تک انہیں برہنہ انداز میں پیش کیا ۔ پولیس نے ان پر کافی دباؤ ڈالا اور اذیت پہونچائی ۔ اس دوران پولیس کے مبینہ ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والی پی یو سی ایل قائد محترمہ جیہ دیندیالہ نے راجندر نگر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور پولیس کے اعلی عہدیداروں کے فرینڈلی پولنگ پالیسی پر سوالیہ نشان اٹھایا ۔ انہوں نے پولیس کے اعلی عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سارے واقعہ کی اعلی سطح تحقیقات کروائے اور خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کو انجام دے ۔ انہوں نے مشتبہ سارقین عمران اور اعجاز کے افراد خاندان کے الزام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے معمولی سرقہ کے معاملہ میں ان کے ساتھ بہت زیادتی کی جہاں اذیت رسانی اور شرمناک انداز میں سزا دینے کا جرام انہوں نے نہیں کیا تھا ۔ پولیس نے 6 دن تک ان دونوں سارقین کو اپنی تحویل میں رکھتے ہوئے 40 سیل فون کے سرقہ کا ان پر الزام لگایا اور مبینہ طور پر خود سیل فون پیش کرتے ہوئے ان سارقوں کے قبضہ سے برآمدگی کی بات پیش کی گئی ۔ راجندر نگر پولیس پر 15 ہزار روپئے رشوت مطالبہ کا بھی سنگین الزام عائد کیا گیا ۔ دیگر صورت میں مزید تکالیف اور مقدمات میں پھانسنے کی دھمکیاں دینے کے پولیس پر الزام لگائے گئے ۔ جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد پی یو سی ایل قائد محترمہ جیہ ویندیالہ سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی تکالیف بیان کی ۔ اس موقع پر محترمہ جیہ دیندیالہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT