Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / پولیس کے لیے کام کرنے والا نکسلائٹ نعیم پولیس انکاونٹر میں ہلاک!

پولیس کے لیے کام کرنے والا نکسلائٹ نعیم پولیس انکاونٹر میں ہلاک!

جب ضرورت تھی تب کام لیا گیا بعد استعمال انکاونٹر
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : پولیس کے بارے میں عام شہریوں سے لے کر خود پولیس والوں کا یہ خیال ہے کہ پولیس کسی کی دوست نہیں ہوتی ۔ مخبروں کی اس قدر حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ ان کی طوطی بولنے لگتی ہے ۔ لیکن اپنا مقصد پورا ہوتا ہے یا اقتدار کے ایوانوں سے کچھ اشارے ملتے ہیں تو ان ہی مخبروں کو ٹھکانے لگانے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جاتی جنہوں نے ہر قدم پر پولیس کا ساتھ دیا تھا ۔ آج کل سابق نکسلائٹ بھونگیر نعیم الدین المعروف بالنا کے پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی خبریں چھائی ہوئی ہیں ۔ نعیم الدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پولیس کا ایک ایسا مہرہ تھا جسے نکسلائٹس ، کوٹھکانے لگانے ، پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو ڈرانے دھمکانے یہاں تک کہ ان کے قتل کروانے کے علاوہ سہراب الدین شیخ اور کوثر بی کو گجرات پولیس کے ہاتھوں بیدردانہ انداز میں قتل کرانے کے لیے استعمال کیا گیا ۔ نعیم کی موت کے ساتھ ہی پولیس اسے ارب پتی غنڈہ ثابت کرنے میں مصروف ہوگئی ہے ۔ اس کے گھر اور دیگر مقامات سے کروڑہا روپئے نقد رقم ، قیمتی اراضیات کے دستاویزات اور قیمتی ساز و سامان برآمد کیے جانے کی کہانیاں بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ نعیم الدین 100 سے زائد مقدمات میں ملوث ہے جس میں قتل لوٹ مار ڈرا دھمکا کر رقومات کی جبری وصولی وغیرہ شامل ہے ۔ اب تو اس کا نام کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی اور ان کی اسمگلنگ سے بھی جوڑ دیا گیا ہے ۔ ایک بات ضرور ہے کہ نعیم الدین کے نام سے سیاست داں اور تاجرین بھی ڈرتے تھے ۔ جو شخص سیاستدانوں پر خوف طاری کردے وہ معمولی نہیں ہوسکتا ۔ نعیم کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ نلاملا کوبرا اور کاکتیہ کوبرا کے نام سے تنظیمیں چلایا کرتا تھا اور اس کے ذریعہ اس نے مہذب سماج کے کئی جہدکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو بھی نعیم کے انکاونٹر کی تفصیلات بتائی گئیں ۔

نعیم کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بے شمار سیاستدانوں کے بارے میں کئی ایک خفیہ معلومات رکھتا تھا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر نعیم کون ہے ۔ 1980 کے دہے میں تلنگانہ میں ماویسٹ نظریات سے اکثر کمسن نوجوان متاثر ہو کر تحریک میں شامل ہوجایا کرتے تھے ۔ نعیم نے بھی ان نوجوانوں کی طرح بھونگیر ضلع نلگنڈہ کے ڈگری کالج میں تعلیم کے دوران ریاڈیکل اسٹوڈنٹس یونین کے ایک جہدکار کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا ۔ 1991 میں اسے RSU بھونگیر کا صدر بنایا گیا ۔ اس سال جب کہ اس کی عمر صرف 19 سال تھی ۔ یادگیری گٹہ پولیس نے اسے گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے طفنچہ اور گرینڈ برآمد کیا ۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ پیپلز وار گروپ ( پی ڈبلیو جی ) میں شامل ہوگیا ۔ نعیم کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اُس پی ڈبلیو جی ایکشن ٹیم کا ایک رکن بھی تھا ۔ جس نے فتح میدان میں 27 جنوری 1993 کو آئی پی ایس آفیسر ویاس کا قتل کیا ۔ کے ایس ویاس نکسلائٹس کے خلاف گرے ہانڈس فورس کی تشکیل کے پیچھے کارفرما اصل ذہن تھے ۔ میڈیا رپورٹس میں پولیس ذرائع کے حوالے سے مزید بتایاگیا کہ نعیم دو دہوں تک روپوش رہا لیکن اپنی غیر معمولی ذہانت کے باعث کچھ اعلیٰ پولیس عہدیداروں سے قربت بھی حاصل کرلی ۔ نعیم الدین کے تعلق سے جو تفصیلات منظر عام پر آرہی ہیں ان کے مطابق وہ قتل کے 20 مقدمات میں ملوث تھا ۔ وہ ریاستی اور مرکزی ایجنسیوں کو بھی شدت سے مطلوب تھا ۔ 2007 میں وہ ڈرامائی طور پر پولیس حراست سے فرار ہوا اور تب سے ہی اس کی خدمات سیاستداں اور پولیس مبینہ طور پر حاصل کرتی رہے ۔ 12 فروری 1993 میں جس وقت نعیم کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت اس کے قبضہ سے 32 ریوالور برآمد ہوئے تھے ۔

نعیم چونکہ رقومات کی جبری وصولی اور اراضیات کے تصفیہ کرانے شروع کردئیے تھے ایسے میں اسے پی ڈبلیو جی سے خارج کردیا تھا ۔ 4 مئی 2000 کو اس کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی ۔ پھر 27 نومبر 2000 میں اسے اے پی سی ایل سی رکن کے پرشوتم کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔ اس موت کے دوران کہا جاتا ہے کہ ایک متنازعہ آئی پی ایس آفیسر نے حیدرآباد کے مضافات میں لینڈ گرابنگ کی مبینہ سرگرمیوں کے لیے نعیم الدین کو اپنے ساتھ شامل کرلیا ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جیل میں بھی بیٹھ کر وہ سابقہ نکسلائٹس اور غنڈوں کی ایک ٹولی کو چلا رہا تھا ۔ مئی 1999 میں نعیم کی ٹولی نے بھونگیر میں بالادیر بیلی للیتا کا قتل کیا اور اس کی نعش کے 17 ٹکڑے کرکے ان ٹکڑوں کو للیتا کے ہمدردوں و حامیوں کے گھروں کے سامنے پھینکا گیا تاکہ اپنے دشمنوں کو ایک سخت پیام دے سکے ۔ نعیم کو جس آئی پی ایس آفیسر کی سرپرستی حاصل تھی اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک اور نکسلائٹ لیڈر کے سومیا کو پاسپورٹ کی اجرائی کے لیے سفارش کی تھی ۔ کے سومیا کا اسی سال کولمبو ایرپورٹ پر قتل ہوگیا ۔ وہ دراصل دنڈمل پراجکٹ کے بارے میں تبادلہ خیال کے لیے فرانکفرٹ جارہا تھا ۔ اس وقت دو اعلی آئی پی ایس آفیسر کے بیٹوں کے نام بھی لیے جارہے تھے ۔ جو سومیا کے ساتھ فرانکفرٹ جارہے تھے ۔ لیکن ان کے نام کبھی باقاعدہ طور پر منظر عام پر نہیں آئے ۔ ذرائع کے مطابق ایس پی رینک کے عہدیدار نے ساحلی آندھرا پردیش میں نعیم کو زمینات پر قبضہ کے لیے استعمال کیا ساتھ ہی اسے نکسلائٹس کے چھپائے ہوئے اسلحہ برآمد کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا اور یہ اسلحہ نعیم کی ٹولی کے حوالے کردئیے گئے ۔ پولیس کے کہنے پر نعیم الدین نے پہلے سہراب الدین شیخ اور کوثر بی کا اعتماد حاصل کیا اور پھر اسے آندھرا پردیش پولیس کے تعاون سے گجرات پولیس کے حوالے کردیا ۔ اس طرح گجرات میں سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کو دردناک انداز میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ماویسٹ لیڈر پی گوردھن کے سامبا شیوڈو ، کوناپوری راملو بھی نعیم الدین کے ہی ہتھے چڑھ گئے ۔ جب کہ اس نے سیول لبرٹیز جہدکاروں پرشوتم ، کروناکر اور بیلی للیتا کو بھی موت کے گھاٹ اتارا ۔ 2007 تک نعیم آزادانہ نقل و حرکت کرتا تھا ۔ تقاریب میں شریک ہوا کرتا تھا لیکن اس کے بعد وہ روپوش رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT