Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / پونے کالج میں اے بی وی پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پونے کالج میں اے بی وی پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

امبیڈکر نواز تنظیم کے خلاف قوم دشمن نعرے بلند کرنے کا الزام
پونے ۔ 23 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) فیرگوسن کالج کے پرنسپال جنہوں نے قبل ازیں کیمپس میں دو طلباء گروپس میں تصادم کے دوران قوم دشمن نعرے بلند کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس سے رجوع ہوئے تھے ، آج اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور کہا کہ انہوں نے صرف یہ تحقیقات کرنے کی درخواست کی تھی کہ کالج کیمپس میں قوم دشمن نعرے بلند کئے گئے تھے یا نہیں ؟ کالج پرنسپال مرارجی پردیشی نے کل پولیس کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا تھا کہ طلباء کے دو گروپس میں تلخ و تند بحث کے دوران قوم دشمن نعرے بلند کئے گئے ۔ جب الوک سنگھ صدر اے بی وی پی جواہر لعل یونیورسٹی کالج طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کنہیا کمار کے قبضہ پر حقائق سے وضاحت کر رہے تھے۔ سٹی پولیس کو موسومہ مکتوب میں پردیشی نے یہ گزارش کی تھی کہ کیمپس میں قوم دشمن نعرے بلند کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

لیکن انہوں نے آج اس مکتوب سے دستبر داری اختیار کرلی۔ مسٹر پردیشی نے یہ وضاحت کی کہ پولیس کو روانہ مکتوب میں بعض ٹائپنگ کی غلطیاں سرزد ہوگئی تھیں جس کی اصلاح کر کے دوبارہ روانہ کیا جائے گا ۔ رکن جمخانہ پولیس انسپکٹر مسٹر پروین چوگلے نے نو متنازعہ مکتوب سے دستبرداری کی توثیق کردی۔ واضح رہے کہ بائیں بازو کی حامی امبیڈکر نواز تنظیم سے وابستہ طلباء کا ایک گروپ اے بی وی پی اجلاس میں جواب (کاؤنٹر) اپنے لئے کالج پہنچا تھا۔ آر پی آئی لیڈر اور سابق ایم پی پرکاش امبیڈکر کے فرزند سجیت امبیڈکر نے بتایا کہ احتجاج کے دوران کوئی قوم دشمنی نعرے بلند نہیں کئے گئے۔ تاہم پولیس نے بتایا کہ کالج کیمپس میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج ریکارڈ کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ حریف گروپ کے احتجاج کے دوران قابل اعتراض نعرے بلند کرنے کا پتہ چلایا جاسکے ۔ کالج پرنسپال پردیشی نے بتایا کہ کیمپس میں اجلاس منعقد کرنے کی اے بی وی پی کو اجازت نہیں دی گئی جبکہ اے بی وی پی کے ترجمان نے بتایا کہ کالج انتظامیہ نے کہا تھا کہ طلباء کے ساتھ رسمی ملاقات اور تبادلہ خیال کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہ یں ہے۔

TOPPOPULARRECENT