Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / پوٹن اور اوباما کی ٹیلیفون پر شام کی صورتحال پر بات چیت

پوٹن اور اوباما کی ٹیلیفون پر شام کی صورتحال پر بات چیت

ماسکو۔14فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) روس کے صدر ولادمیرپوٹن اور صدر امریکہ بارک اوباما نے شام کی صورتحال پر کھل کر بات چیت کی ۔ صدر اوباما نے کرد نیم فوجی اہداف پر جو شمالی شام میں واقع ہیں جنگ بندی معاہدہ کے طئے پانے کے باوجود شل باری پر اظہار تشویش کیا ۔ پوٹن نے اوباما سے کہا کہ دونوں فریقین گذشتہ ہفتہ یونخ کی بات چیت کا مثبت تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ کریملن سے جاری کردہ بیان کے بموجب دونوں صدور کے درمیان بے باکانہ اور دوٹوک بات چیت ہوئی ۔ روسی قائد نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ متحدہ انسداد دہشت گردی اتحاد کی شام میں بھی ضرورت ہے جہاں روس کی زیرقیادت فوجی مہم چلائی جارہی ہے تاکہ سرکاری زمینی افواج کو مدد فراہم کی جاسکے ۔ یہ مہم گذشتہ ستمبر سے جاری ہے ۔ دونوں قائدین نے اتفاق کیا کہ باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا ۔یونخ میں طئے پائے معاہدہ کا مقصد روبہ عمل لایا جائے گا ۔ یورو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم روس دیمتری میڈویڈیف نے کہا کہ صدر شام ملک کی واحد دستوری اتھاریٹی ہیں ۔ ان کی بے دخلی سے شام میں انتشار پیدا ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اسے پسندکریں یا نہ کریں صدر بشارالاسد جب تک ملک کے صدر ہیں وہ صورتحال پر قابو پالیں گے ۔ اگر انہیں اقتدار سے بے دخل کردیا جائے تو اس کا نتیجہ ملک میں انتشار پیدا ہونے کی صورت میں ظاہر ہوگا جیسا کہ ہم مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں جہاں کے حکمرانوں کو فوجی کارروائی کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT