Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / پوٹن کا دورہ جاپان ، جزیرہ کا تنازعہ برقرا ر

پوٹن کا دورہ جاپان ، جزیرہ کا تنازعہ برقرا ر

ٹوکیو، 15 دسمبر(سیاست ڈاٹ کام) روس کے صدر ولادمیر پوتن آج جاپان کے دورے پر پہنچے ہیں، جہاں وہ وزیر اعظم شنجو آبے سے ملاقات کے دوران باہمی رشتوں کو سدھارنے کی کوشش کریں گے ۔دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کی سب سے بڑی وجہ جاپان کے شمال میں واقع چار جزائز ہیں جسے دوسری عالمی جنگ کے دوران روس نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ ہوتا ہے تو دوسری عالمی جنگ کو سرکاری طور پر ختم سمجھا جائے گا۔ان متنازعہ جزائر کے نام جاپان میں کناشری، ایٹوروفو، شکوتان اور دی ھبومائي جزائر گروپ ہیں۔ روس میں ان جزائر کو جنوبی کرلس کے طور پر جاناجاتا ہے ۔ان جزائر پر جب روس نے جب قبضہ کیا تھا اس وقت تقریباً 17 ہزار جاپانی آبادی یہاں مقیم تھی لیکن جاپان کے خلاف روس کی جنگ کے اعلان کے بعد ان جزائر سے جاپانی آبادی کو بھاگنا پڑا۔روس کی حکومت کے مطابق ان جزائر کی آبادی 12،346 افراد پر مشتمل ہے ۔ یہ جزیرے روس کے تیل اور گیس پیداوار کے علاقوں کے قریب ہیں اور مستقبل میں یہ معدنی ذخائر کے بندرگاہ ہو سکتے ہیں۔2011 میں روس نے یہاں فوج کے ساڑھے تین ہزار جوانوں کو تعینات کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ مزید بڑھ گیا۔ روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگوف نے گزشتہ مارچ میں کہا تھا کہ روس نے ان جزائر پر تعینات فوجی یونٹ کو سیلف پروپیلڈ توپ خانے ، طیارہ شکن نظام، راکٹ توپ خانے اور سات درجن ٹینکوں کے ساتھ مضبوط بنایا ہے ۔
ٹرمپ متوقع معاون : صدر شام بشارالاسد
ماسکو، 15 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شام کے صدر بشار الاسد نے کہا کہ اگر امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدگی دکھائیں گے تو وہ ہمارے معاون بن سکتے ہیں۔ مسٹر اسد نے ایک روسی ٹیلی ویژن کو دیئے انٹرویو میں کہا اگر ٹرمپ صحیح معنوں میں دہشت گردی کے خلاف لڑ سکتے ہیں تو وہ ہمارے فطری معاون ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران انتہاپسندی کے خلاف لڑنے اور دیگر ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنے کی بات کی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا صدر بننے کے بعد وہ اپنے وعدے پر قائم رہیں گے یا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT