Thursday , August 17 2017
Home / ادبی ڈائری / پُرانے اقدار اور نئی نسل

پُرانے اقدار اور نئی نسل

صابر علی سیوانی
حالات اور زمانے کے تغیرات کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں کچھ مفیداور کارآمد ہوتی ہیں تو کچھ نقصان دہ اور دور ازکار ہوتی ہیں ۔ طرزِ زندگی میں تبدیلی انسان کو کبھی منفعت سے ہمکنار کرتی ہے تو کبھی نقصان کا سودا کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ موجودہ دور میں جس طرح سے زندگی کے تمام شعبوں میں تبدیلیاں آئی ہیں، اس نے انسانوں کے سوچنے کا انداز بدل دیا ہے ۔ رہنے سہنے کا ڈھنگ یکسر تبدیل ہوچکا ہے ۔ کھانے پینے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے ۔ تغیراتِ زمانہ نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے ۔ جدید ٹکنالوجی اور خصوصاً انفارمیشن ٹکنالوجی نے زندگی کی دھارا ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ خاص طور پرنئی نسل نے اس تکنیک کو جس مضبوطی اور تیزی سے اپنایا ہے ، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ نسل اب تکنیکی آلات کی غلام بن کر رہ گئی ہے ۔ اسمارٹ فون ، واٹس اپ کے اس دور میں انسان کو سوچنے کا وقت ہی نہیں رہ گیا ہے ۔انٹرنیٹ، ذہنی ورزش کی ضرورت نہیں باقی رہی ہے۔ تخلیقی صلاحیت کے استعمال کی حاجت نہیں رہ گئی ہے۔ اب جس چیز کی ضرورت ہو اس کا حل موبائیل فون کے ذریعہ ڈھونڈا جاسکتا ہے ۔ کسی شخصیت کے بارے میں جاننا ہو یا کسی مقام کی تاریخی یا موجودہ صورتحال کا علم حاصل کرنا ہو تو صرف انگلیوں کی حرکت کافی ہے، تمام تفصیلات چشم زدن میں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں ۔ اس مواصلاتی و اطلاعاتی ترقی نے زندگی کا نظام ہی بدل کر رکھ دیا ہے ۔ یہ درست ہے کہ اس طرح کی آسانیوں اور تبدیلیوں سے ہمیں ضرور استفادہ کرنا چاہئے ، لیکن یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ کہیں پہ خوش آیند تبدیلیاں ہمیں اپنی جڑوں سے دور تو نہیں کرتی جارہی ہیں ۔ کہیں یہ تبدیلیاں ہمیں اپنی روایتی ثروتمند قدروںسے انحراف کرنے پر مجبور تو نہیں کر رہی ہیں ؟

مغربی تمدن اور خارجی اثرات کو ہم نہایت کشادہ دلی سے قبول کرتے جارہے ہیں ۔ زبان ، لباس، طعام اور رہن سہن کا انداز کم و بیش اسی طرح کا ہوتا جارہا ہے جس طرح مغربی ممالک میں ہوتا ہے ۔ نئی نسل کی اب تو یہ حالت ہے کہ جس کے پاس اسمارٹ فون نہ ہو یا جس کے فون میں وا ٹس اپ نہ ہو اسے نہایت پسماندہ اور روایت پسند شمار کیا جانے لگا ہے ۔ خیر یہ تو انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں انقلابات کے اثرات کی مثالیں ہیں۔ ہمارا معاشرہ تو ہر چیز میں انگریزیت کو ہی ترجیح دینا چاہتا ہے ۔ اشیائے خورد و نوش کے ناموں کو بھی مقامی یا اپنے دیسی زبان میں مستعمل ناموں سے یاد کئے جانے کی روایت اختتام پذیر ہوتی جارہی ہے ۔ سبزیوں ، میووں ، خشک میووں ، اناجوں ، ملبوسات ، ظروف ، آرائشی اشیاء ، مکان سے جڑے حصوں (دروازے ، کھڑکیاں ، بالکونی، صحن، باب الداخلہ ، چھت ، دیوان خانہ ، خوابگاہ) وغیرہ کے ناموں کو انگریزی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس  معاملے میں نوجوان نسل بلکہ کمسن بچے اور بچیاں پیش پیش ہیں۔ رشتہ کے لوگوں ، رشتہ داریوں، اہل خانہ کے ایک دوسرے سے رشتوں کو بھی انگریزی نام سے پکارنے میں ترقی پسندی سمجھی جاتی ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ نسلِ نو کو فکر نو اور جدید انقلابات سے روشناس ہونا چاہئے ۔ ترقی کے ہر امکان کواپنانا چاہئے ۔ جدید مواصلاتی نظام سے استفادہ کرنا چاہئے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کی سوغات کو خوش آمدید کہنا چاہئے ۔ انگریزی میں مہارت حاصل کرنی چاہئے لیکن یہ مہارت اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ پیغام رسانی میں جس طرح مخففات کا استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح اپنے والد اور والدہ کیلئے مخفف لفظوں خصوصاً انگریزی لفظیات کا استعمال کرتے ہوئے مام یا ڈیڈ کے القاب سے یاد کیا جائے ۔ کچھ تو اپنی روایتی قدروں کا لحاظ ہونا چاہئے ورنہ رفتہ رفتہ ہم اپنی ثقافتی اور تہذیبی قدروں کو بھول ہی جائیں گے ۔ ایسے میں کیا ہماری شناخت اور انفرادیت کی کوئی علامت باقی رہے گی، یقیناً نہیں رہے گی۔
انگریزی الفاظ ہی ہماری روز مرہ زندگی کا ایسا حصہ بن گئے ہیں کہ ہم انہیں چاہ کر بھی اپنی زندگی کے شب و روز سے دور نہیں کرسکتے ہیں۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ بچے مرغ کا گوشت، بکرے کا گوشت، گائے یابھینس کا گوشت اور مچھلی کہنے کی بجائے چکن ، مٹن ، بیف ، فش ہی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ٹماٹر ، پیاز ، آلو ، نیبو ، بھنڈی ، پھول گوبھی ، بند گوبھی ، مرچی ، وغیرہ کو بالترتیب ٹومیٹو ، اونین، پوٹیٹو، لیمن، لیڈی فنگر، کالی فلاور ، کیبیج ، چلی وغیرہ کے انگریزی ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ انگور ، سیب ، آم ، تربوز ، سنترہ ، موز (کیلا) بولنے کی بجائے گریپس ، ایپل ، مینگو، واٹر میلن ، آرنج ، بنانا وغیرہ کے ناموں کا چلن بڑھ گیا ہے ۔ ایسی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں روایتی قدروں کا زوال اور انگریزی تہذیب کا عروج کس تیزی سے ہوتا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ اب ماں اپنے بیٹے سے یہ کہتی ہے کہ بیٹے ڈور (Door) بند کردو، سیب کٹ کر کے لاؤ ، ٹیپ (پانی کی ٹوئنٹی) بند کردو ، واش روم سے جلدی نکلو ، بیڈروم میں کھیل کود مت کرو ، چیئر پر چڑھ کر جمپ مت کیا کرو ورنہ لیگ پر انجوری ہوجائیگی ۔ اس طرح کے جملے عام طور پر ہر مہذب اور نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے گھروں میں سننے کو ملتے ہیں ۔ اسے ہم کیا کہیں گے ؟ اسے تو یہی کہا جائے گا کہ والدین گھروں میں بھی اپنی روایتی قدروں اور مادری زبان میں استعمال ہونے والے لفظوں کے استعمال کی بجائے انگریزی الفاظ کو بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ کم از کم گھروں میں تو اپنے بچوں کو اپنی تہذیبی و ثقافتی قدروں کی پاسداری کیلئے آمادہ کرنا چاہئے۔

نئی نسل اپنی روایتی قدروں اور تہذیبی اقدار سے کس قدر دور ہوتی جارہی ہے، اس کی چند مثالیں یہاں پیش کرنا چاہوں گا ۔ چند واقعات جو مبنی بر حقیقت ہیں، ان کا ذکر یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ہمارے ہم وطن جناب ظفر رانی پوری ، جو ایک کہنہ مشق شاعر ہیں۔ وہ حیدرآباد میں برسوں سے مقیم ہیں ۔ ان کے دو فرزند یہاں ملازمت سے وابستہ ہیں ۔ اس لئے وہ زیادہ تر یہیں پر رہتے ہیں ۔ چند روز قبل وہ روزنامہ سیاست میں آئے تھے ۔ برسبیل تذکرہ یہ بات نکل آئی کہ اب نئی نسل کس طرح سے اشیائے خورد و نوش ، لباس وغیرہ کے اردو نام سے نابلد ہوتی جارہی ہے ۔ انہوں نے بڑے افسوس کا اظہار کتے ہوئے ایک سچا واقعہ سنایا جو ان کے گھر کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کل ہی اپنے چھ سال کے پوتے سے پوچھا کہ بیٹے ! ’’مرغ کا گوشت لادوں کھاؤ گے ‘‘؟ اس بچے نے برجستہ کہا کہ ’’نہیں دادا مرغ کا گوشت نہیں ہم چکن کھائیں گے‘‘۔ اس بچے کے جواب نے انہیں حیرت زدہ کردیا ۔ وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر اس بچے نے جو جواب دیا ، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بلکہ  گھر کے ماحول کا قصور ہے کیونکہ گھر میں مرغ کی بجائے اکثر و بیشتر چکن لفظ کا ہی استعمال ہوتا ہے۔
نامور مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے ایک واقعہ سنایا ، وہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے ۔ دروازے پر دستک دی تو ایک بچہ گھر سے نکلا ۔ مجتبیٰ صاحب نے اس بچے سے پوچھا کہ ’’بیٹے ! تمہارے گھر میں قبلہ والد محترم تشریف رکھتے ہیں‘‘۔ بچہ گھر میں آیا اور اپنی والدہ سے پوچھاکہ ’’ممی ! یہاں قبلہ والد محترم نام کے کوئی آدمی رہتے ہیں کیا ‘‘؟ ماں اس کے اس سوال پر حیرت زدہ ضرور ہوئی لیکن وہ سوائے افسوس کے کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اس بچے کی پر ورش و پرداخت اور تربیت کا یہ حصہ ہی نہیں رہا کہ اس بچے کو یہ بتایاجاتا کہ والد محترم ڈیڈی کو یا فادر کو کہاجاتا ہے ۔ اس واقعہ میں بڑی تلخ سچائی پوشیدہ ہے ۔ یہ کوئی حیرت کی بات بھی نہیں کیونکہ اب بچوں کی پرورش جس انگریزی طرز پر ہورہی ہے ، اس ماحول میں اس کی توقع رکھنا فضول ہے کہ بچہ ڈیڈی کے بجائے قبلہ والد محترم کے معنی سمجھ پائے گا ۔ یا تشریف لائیے یا تشریف رکھئے کا مفہوم جان پائے گا۔

کشن باغ حیدر میں مقیم سید سمیع الزماں سماعی (ریٹائرڈ ملازم آر ٹی سی) نے ایک سچا واقعہ سناتے ہوئے اپنے نوجوان بیٹے کی کامن سینس کا ذکر کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ میں مہاراشٹرا اپنے فرزند کے ساتھ گیا ہوا تھا ۔ وہاں میری ملاقات میرے ہم زلف سے ہوئی ۔ واپسی کے بعد جب میں نے اپنے فرزند سے پوچھا کہ جس شخص سے میری ملاقات ہوئی اور جس کا تعارف میں نے تم سے کرایا وہ ہمارے ہم زلف ہوتے ہیں ۔ تم بتاسکتے ہو کہ ہم زلف کسے کہتے ہیں ؟ سماعی صاحب کے فرزند نے اپنی کامن سینس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا چونکہ آپ کے زلف اور ان کے بال مہندی کلر سے رنگے ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ ایک دوسرے کے ہم زلف ہوئے ۔ یعنی دونوں کے بال ایک جیسے کلرکئے ہوئے ہیں اس لئے آپ دونوں ایک دوسرے کے ہم زلف ہوئے ۔ سماعی صاحب نے اپنے فرزند کے اس جواب پر سر پیٹ لیا ، لیکن انہیں اس بات پر افسوس بھی ہوا کہ کاش ان کی اولاد رشتوں کے ناموں کو اپنی تہذیبی شناخت  کے ساتھ پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ۔ یہ افسوس کی بات ضرور ہے کہ اب نوجوان نسل رشتوں کی اصطلاحوں سے بھی نابلد ہوتی جارہی ہے۔
پنشن پورہ میں رہنے والے ایک شخص نے بالکل سچا واقعہ سناتے ہوئے تھوڑی دیر تک سوچنے پر مجبور کردیاکہ آج کی نوجوان نسل کس قدر مغرب زدگی کا شکار ہوگئی ہے اور انگریزی اصطلاحات و لفظیات کی کس قدر اسیر بن چکی ہے ۔ اس شخص نے ایک نہایت دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی ہائی فائی یا پاش کالونی میں ایک بزرگ کا گزر ہوا جو مشرقی تہذیب کے پروردہ تھے ۔ اچانک انہیں طہارت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہاں نوجوانوں کا یک گروہ خوش گپیوں میں مصروف تھا ۔ بزرگ شخص نے ان نوجوانوں سے پوچھا کہ ’’یہاں کہیں پر عوامی بیت الخلاء ہے کیا‘‘ ؟ ایک نوجوان نے کہا کہ اس نام کا یہاں نہ کوئی گھر ہے اور نہ ہی اس نام کا کوئی آدمی یہاں رہتا ہے ۔ آپ ان کی گاڑی کا نام بتائیے ۔ ایک دوسرے نوجوان نے پوچھا کہ کس کلر کی بلڈنگ میں وہ رہتے ہیں ۔ پہلے وہ کہاں رہتے تھے ۔ بہرحال اس گروپ کے تمام نوجوان ’’بیت الخلاء‘‘ لفظ کے معنیٰ سے نابلد تھے ۔ آخر کار وہ بزرگ شخص ان نوجوانوں سے پیچھا چھڑاتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہیکہ انگریزی کا خمار یا بخار نئی نسل پر اس قدر چڑھ چکا ہے کہ وہ بیت الخلاء جیسے لفظ تک کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہے ۔ اسے ٹائلیٹ کہنے میں بڑی آسانی محسوس ہوتی ہے ۔ اس واقعہ سے یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ واقعی موجودہ نوجوان نسل ایسے الفاظ اور ایسے ناموں سے بے بہرہ ہوچکی ہے ۔ اس کی وجہ ایک تو اسکول کا انگریزی ماحول ہے اور دوسرا اس کے گھر کے ترقی پسند نظریے کے حامل افراد ہیں، جو اپنی روایت سے لاتعلقی کو ہی ترقی پسندی سمجھتے ہیں۔ انہیں کم از کم اپنے گھروں میں بول چال کی زبان میں ایسے لفظوں یا ایسے اصطلاحات سے اپنی اولاد کو روشناس ضرور کرانا چاہئے۔
اس دور کا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اب خوش دامن، ہمشیرہ ، برادر نسبتی ، ہم زلف ، خواہر ، مادر ، پدر، خسر ، برادر خرد، برادر کلاں جیسے رشتوں کے ناموں سے بھی بے خبر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کیا اس طرح کی بے خبری ہمیںاپنے روایتی اقدار سے دور نہیں کردے گی ۔ اب حالت تو یہ ہونے والی ہے کہ کچھ سالوں میں یہ نئی نسل جوانگریزی کے ماحول میں پرورش پارہی ہے ، وہ رکابی (پلیٹ) شطرنجی ، قالین، کمبل، کلاہ ، تہبند،زیر جامہ ، غلاف ، گاؤ تکیہ ، ازاربند ، صافہ ، عمامہ دستار جیسے لفظوں کو نہیں سمجھ پائے گی، بلکہ آج بھی ایسے نوجوانوں کی کثیر تعداد مل جائے گی جو ان اشیاء یا ملبوسات کے ناموں سے ناواقف ہوگی ۔ وہ توخیر کہئے کہ ’’چینائی اکسپریس‘‘ فلم میں شاہ رخ خان اور دیپکا پاڈوکون نے لنگی پہن کر لنگی ڈانس (ہنی سنگھ کا گایا ہوا گانا) کر کے بتادیا ہے کہ لنگی کس لباس کو کہتے ہیں ورنہ نئی نسل اس لفظ کو تو جانتی ہی نہیں ہے اور اگر جانتی ہے تو اس کی تعداد بہت کم ہے۔
نئے ماحول میں پرورش پانے والے چھوٹے بچے ، کمسن لڑکے یا بلوغت کی عمر کو پہنچ جانے والے نوجوانوں کو شاید ہی شہتیر چار پائی، رضائی قیراط، دوربین، خرد بین ، پاندان، فنجان ، سائبان ، روشن دان، دالان ، طاق ، چوکھٹ ، آنگن ، حویلی ، رسوئی ، طشتری، قاب، تمباکو ، زردہ جیسے لفظوں کے معانی معلوم ہوں کیونکہ شہری ماحول میں ان اشیاء کو عام طور پر انگریزی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔ شہروں میں جو گھر بنائے جاتے ہیں ان میں آنگن ، دالان ، چوکھٹ وغیرہ کی گنجائش ہی نہیں ہوتی ۔ اس لئے ان لفظوں کے مفہوم سے اس نسل کوکہاں واقفیت ہوسکتی ہے؟

ایسے کئی واقعات پیش کئے جاسکتے ہیں جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ نئے ماحول میں پروردہ نسل پرانے گھریلو استعمال میں آنے والے عام الفاظ کے معنی سے بے خبر ہے ۔ اس کی ذمہ داری صرف ان بچوں پرنہیں عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے عام فہم اور بنیادی لفظوں کو جاننے کی کوشش کریں بلکہ ان کے سرپرستوں اور والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انگریزی زبان کو سیکھنے کی ترغیب ضرور دیں، لیکن روز مرہ استعمال میں لائے جانیوالے مذکورہ لفظوں اور ا شیاء کے اردو یا دیسی ناموں  سے واقف کر ائیں۔ یہ ذمہ داری  والدین اور سرپرستوں کی بنتی ہے ، ورنہ جب وہ بوڑھے ہورجائیں گے اوران بچوں سے کہیں گے کہ بیٹا پاندان لاؤ تو وہ اغالدان لائے گا۔ لنگی لاؤ تو وہ پائجامہ لائے گا ، آپ کہیں گے کہ دالان میں چار پائی سگریٹ ہے لاؤ تو وہ گھر میں سگریٹ تلاش کرے گا۔ ایسے ماحول میں جبکہ ہم زندگی کے تمام شعبوں میںانگریزی کی بالادستی محسوس کر رہے ہیں۔ ہر جگہ ، ہر موڑ پر انگریزی سے ہی ہمیں پالا پڑتاہے تو انگریزی جاننا اور بچوں کو انگریزی میڈیم اسکولوں میں پڑھانا ہماری مجبوری بن گئی ہے لیکن یہ ہماری مجبو ری تو نہیں ہے کہ ہم اپنے روایتی قدروں اور تہذیبی میراث کو ہاتھ سے جانے دیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ گھروں میں ایسا ماحول بنائیں جہاں بچے انگریزی میں اشیاء ضروریہ کے ناموں کا استعمال ضرور کریں لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ ان کو اردو میں یامادری زبان میں یا دیسی بھاشا میں کیا کہا جاتاہے ورنہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ہم مسلمان تو ضرور کہلائیں گے مگر ہماری کوئی انفرادی شناخت نہیں رہ جائے گی بسہم انگریزی اور غیر ملکی تہذ یب و ثقافت کے پاسدار بن جائیں گے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT