Monday , March 27 2017
Home / دنیا / پُل کا نام سوچی کے والد کے نام پر رکھنے پر احتجاج

پُل کا نام سوچی کے والد کے نام پر رکھنے پر احتجاج

نسلی اقلیتیں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہروں پر مجبور ‘ تہذیب و ثقافت برقرار رکھنے کا ادعا
یانگون۔19مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مشرقی میانمار میں آج ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جب کہ حکومت نے ایک پُل کو آنگ سانگ سوچی کے والد کے نام سے موسوم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ آنگ سانگ سوچی کے انتظامیہ اور ملک کی بے چینی کا شکار نسلی اقلیتوں کے درمیان یہ تازہ تنازعہ ہے ۔ اس تنازعہ سے میانمار کی اقلیتوں میں ہمر نسلی اکثریت پر عدم اعتماد کی اعلیٰ سطح کا اظہار ہوتا ہے ۔ سوچی اکثریت سے ہی تعلق رکھتی ہے ‘ سیاسی قیادت کی زیادہ تر تعداد بھی اکثریتی طبقہ کی ہے ۔ مشرقی ریاست مون میں آج ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے نکل آئے ۔ مقامی تھان لیوان پُل کو سوچی کے والد کے نام سے موسوم کرنے پر ملک کا سب سے بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔ یہ پُل وسیع دریا سلوین پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ سوچی کی قومی لیگ برائے جمہوریت پارٹی کے ارکان مقننہ نے تجویز پیش کی ہے کہ پُل کا نام تبدیل کرکے اسے آنگ سانگ سوچی کے والد کے نام سے موسوم کردیا جائے‘ جنہوں نے مابعد نوآبادیاتی دور کے میانمار کی بنیاد رکھی تھی اور جنہیں ملک کے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے سے پہلے ہی قتل کردیا گیا تھا ۔ کئی احتجاجیوں نے آج کہا کہ مقامی افراد کا احساس ہے کہ پُل کا پرانا نام برقرار رکھا
جائے کیونکہ آج کل پرانے ناموں کو نظرانداز کرنے کا رواج بڑھتا جارہا ہے ۔ سوچی کی پارٹی پارلیمنٹ میں کافی طاقتور ہے اور اپنی کسی بھی تجویز کو منظور کرواسکتی ہے لیکن تمام نسلی اقلیت کے افراد اپنی تہذیب و ثقافت کی بنیادوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور مقامی افراد کی من مانی چلنے نہیں دیں گے ۔ ارکان مقننہ کو عوام کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرنا چاہیئے کیونکہ عوام نے ہی انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا ہے  ۔پُل کے نام کے بارے میں تنازعہ صرف ایک علامتی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک وسیع تر نسلی اقلیتوں کے حق خود اختیاری کا ایک حصہ ہے ۔ سوچی کے والد آنگ سان کو خاص طور پر ہمر اکثریت کی جانب سے قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن نسلی اقلیت کے کئی گروپس انہیں زیادہ متنازعہ شخصیت سمجھتے ہیں جنہوں نے عظیم تر معیشت اور وفاقیت کے اپنے تیقنات کی تکمیل نہیں کی تھی ۔ برسوں تک میانمار کے سرحدی علاقوں میں شورش پسندی اور خانہ جنگی جاری رہ چکی ہے ۔ زبردست انتخابی کامیابی 2015ء کے اواخر میں حاصل کرنے کے بعد سوچی نے اپنی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس میں پائیدار امن کے قیام کو ترجیح دی گئی تھی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT