Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / پٹرولیم و توانائی کے شعبہ میں ہند۔امریکہ تعاون

پٹرولیم و توانائی کے شعبہ میں ہند۔امریکہ تعاون

وزیر تیل پردھان کا امریکہ میں ہم منصب حکام اور دیگر کے ساتھ مختلف اجلاس

کلیولینڈ(امریکہ ) ۔ 20 جولائی۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور ہندوستان نے پٹرولیم اور توانائی کے شعبہ میں کئی کلیدی اقدامات سے اتفاق کرلیا ہے جن کا مقصد توانائی کے معاملے میں خود مکتفی بننا ہے ۔ اس ضمن میں پٹرولیم کی ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت کو فروغ دینا اہم منصوبہ ہے جو قومی سلامتی اور کلیدی ضرورتوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے اہم ہے ۔ اس سے نئی ٹکنالوجیز کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی ۔ یہ فیصلہ مرکزی مملکتی وزیر پٹرولیم و قدرتی گیس دھرمیندر پردھان اور اُن کے ہم منصب وزیر توانائی ارنسٹ مونیز کے درمیان دوشنبہ کو منعقدہ میٹنگ کے دوران کیا گیا۔ پردھان ہیوسٹن اور واشنگٹن ڈی سی کے دورہ کے بعد گزشتہ سال ہندوستان کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔ وزیر موصوف نے بین الاقوامی اُمور توانائی سے متعلق خصوصی امریکی قاصد و کوآرڈنیٹر ایموس ہوشسٹین سے بھی ملاقات کی جس کے دوران دونوں نے توانائی کے شعبہ میں باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے بارے میں غور و خوص کیا ۔ ہند ۔ امریکہ باہمی تعاون برائے توانائی کی شروعات 2005 ء میں مذاکرات کی شکل میں ہوئی تھی جس کے تحت تیل اور گیس کو بھی زیرغور رکھا گیا ۔

گزشتہ دہے کے دوران تعاون کی مختلف شعبوں کی نشاندہی کی گئی جیسے تیل کے کنوؤں سے استفادہ ،گیاس پائپ لائین نٹورک کی تیاری ، ریفائنری کی قابلیت کو بہتر بنانا وغیرہ ۔ پردھان اور مونیز نے اتفاق کیا کہ دونوں طرف کے عہدیداروں اور ماہرین کی باقاعدہ میٹنگس کی ضرورت ہے تاکہ اہم شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ گیل (GAIL) نے امریکہ سے سالانہ 5.8 MMT کی حد تک ایل این جی کی درآمد کا کنٹراکٹ حاصل کیا ہے جو اختتام 2017 ء سے شروع ہوگا۔ ہندوستانی کمپنیوں نے امریکہ میں تیل اور گیس کے پراجکٹوں میں سرمایہ کاری بھی کی ہے ، جیسا کہ گیل کے ایگل فورڈ طاس میں 20 فیصد حصص ہیں ، آئی او سی اور آئیل کے نیوبرارہ طاس میں 10 فیصد حصص ہیں۔ دونوں فریقوں نے گیاس ہائیڈریٹس میں تعاون کی تجدید کیلئے ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط بھی کئے جو پانچ سالہ مدت کیلئے ہے ۔ اس تعلق سے قبل ازیں دستخط کردہ یادداشت 2013 ء میں ختم ہوگئی تھی ۔ پردھان نے امریکہ میں تجارتی قائدین ، توانائی کے شعبہ سے وابستہ ماہرین اور دیگر کے اجتماع سے خطاب بھی کیا ۔

TOPPOPULARRECENT