Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / دہلی سکریٹریٹ کے بشمول 14 مقامات پر سی بی آئی کے اچانک دھاوے

دہلی سکریٹریٹ کے بشمول 14 مقامات پر سی بی آئی کے اچانک دھاوے

اروند کجریوال کے پرنسپال سکریٹری کے خلاف کرپشن مقدمہ میں کارروائی کی گئی،تحقیقاتی ایجنسی کی وضاحت

نئی دہلی ۔ 15 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی نے آج چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے پرنسپال سکریٹری راجندر کمار اور دیگر 6 کے خلاف کرپشن کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں 14 مقامات پر دھاوے کرتے ہوئے سیاسی طوفان کھڑا کردیا۔ سی بی آئی کی اس کارروائی پر اپوزیشن نے مرکز کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا جبکہ تحقیقاتی ایجنسی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ قانونی عمل کے عین مطابق یہ دھاوے کئے گئے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے متعلقہ عدالت سے تلاشی وارنٹ بھی حاصل کیا تھا ۔ آج صبح سے ہی ڈرامائی حالات دیکھنے میں آئے جبکہ سی بی آئی کے کئی عہدیداروں نے مل کر دہلی سکریٹریٹ پر دھاوا کردیا ۔ وہ 1989 ء بیاچ کے آئی اے ایس آفیسر گپتا کے خلاف تلاشی وارنٹ لائے تھے ، ان پر مبینہ طور پر حکومت دہلی سے بعض کنٹراکٹس  کے حصول کیلئے مخصوص کمپنیوں کی طرفداری کا الزام ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم جیسے ہی گپتا کے دفتر واقع تیسری منزل پر پہنچے تو حیرت و تعجب کا شکار چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے ٹوئیٹ کیا کہ ان کے دفتر پر سی بی آئی نے دھاوا کردیا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان نے اس دعویٰ کو مسترد کردیا اور کہا کہ چیف منسٹر کے دفتر کی تلاشی کے بارے میں بعض گوشوں کی اطلاعات بے بنیاد ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خبردار کیا کہ تحقیقاتی عمل کو متاثر کرنے کیلئے جھوٹا پروپگنڈہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ سی بی آئی کی اس وضاحت سے متاثر ہوئے بغیر کجریوال نے یکے بعد دیگرے ٹوئیٹس جاری رکھے اور سی بی آئی کی اس کارروائی کو ’’غیر معلنہ ایمرجنسی‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سی بی آئی جھوٹ بک رہی ہے ۔ میرے دفتر پر دھاوا کیا گیا۔ چیف منسٹر کے دفتر کی فائلس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ مودی کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ کونسی فائل چاہتے ہیں؟ سی بی آئی نے کہا کہ اس نے کمار اور دیگر کے خلاف ان الزامات پر مقدمہ درج کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سرکاری عہدہ کا بیجا استعمال کیا ہے اور وہ گزشتہ چند سال سے ایک مخصوص فرم کی تائید و حمایت کر رہے ہیں اور حکومت دہلی کے محکمہ جات سے اسی فرم کو ٹنڈرس دلا رہے ہیں۔

آج جن مقامات پر دھاوے کئے گئے ، ان میں کمار کی رہائش گاہ بھی شامل ہے ۔ تلاشی کے بعد سی بی آئی عہدیداروں نے راجندر کمار سے پوچھ تاچھ شروع کی اور کئی گھنٹے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں رہنے کے بعد کمار رات ساڑھے دس بجے باہر نکلے۔ ان پر ایک خانگی کمپنی کو 2007-14 ء کے دوران 9.5 کروڑ روپئے مالیتی  5 کنٹراکٹس دلانے میں مدد کا الزام ہے۔ سی بی آئی نے مجموعی طور پر قومی دارالحکومت اور اترپردیش میں راجندر کمار سے تعلق رکھنے والے 14 مقامات کی تلاشی لی اور یہ دعویٰ کیا کہ 16 لاکھ روپئے بشمول 2.4 لاکھ روپئے نقد اور 3 لاکھ روپئے مالیتی بیرونی کرنسی برآمد کی گئی ۔ سی بی آئی نے کہا کہ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد ہی یہ دھاوے کئے گئے۔ کمار کے خلاف اشیش جوشی سابق رکن سکریٹری دہلی ڈائیلاگ کمیشن نے شکایت کی تھی۔ دیگر میں گپتا کے علاوہ اے کے دگل اور جے کے نندا سابق ایم ڈی انٹلیجنٹ کمیونکیشن سسٹم انڈیا لمٹیڈ ، آر ایس کوشک، ایم ڈی ، سندیپ کمار اور دنیش کے گپتا ڈائرکٹرس انڈیور سسٹمس پرائیوٹ لمٹیڈ شامل ہیں۔ سی بی آئی نے دعویٰ کیا کہ نندا کے پاس سے 10.5 لاکھ روپئے نقد اور تین غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ گپتا اپنا ای میل اکاؤنٹ کھولنے کے معاملہ میں سی بی آئی سے تعاون نہیں کر رہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT