Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / پٹرول ڈیزل سے عوام کی لوٹ

پٹرول ڈیزل سے عوام کی لوٹ

 

محمد مبشر الدین خرم
حکومت ہند عوام کو لوٹ رہی ہے یا عوام خود نقصان اٹھانے کیلئے تیار ہیں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہوتی جا رہی ہے جبکہ حکومت ہند گذشتہ ایک ماہ کے دوران صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کے ذریعہ عوام کی جیب سے 84ہزار کروڑ روپئے نکالنے میں کامیاب ہوچکی ہے لیکن اس کا احساس عوام کو نہیں ہو رہا ہے اور وہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کے خلاف مذمت کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتو ںمیں روزانہ تبدیلی کا منصوبہ کس کے حق میں بہتر ہے اب تک کسی کے سمجھ میں نہیںآیا لیکن اس منصوبہ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ عوام پر اضافی بوجھ تو عائد ہورہا ہے لیکن اس کا فائدہ حکومت کو ہوگا یا پٹرولیم کمپنیو ںکو یہ بات واضح نہیں ہے کیونکہ اضافی شدہ قیمتیں تو عوام کی جیب سے وصول کرلی جا رہی ہیں لیکن یہ کمائی کیا حکومت کو ہو رہی ہے؟اور اگر ہو رہی ہے تو عوام کی جیب سے حکومت نے بہ آسانی 84ہزار کروڑ روپئے نکال لئے ہیں اور عوام کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ انہیں قیمتوں میں اضافہ کے نام پر کس طرح لوٹا جا رہا ہے اور ان کی لوٹی ہوئی رقم کا حساب بھی کس سے طلب کیا جائے کوئی نہیں جانتا۔

ملک میں گذشتہ دو ماہ کے دوران 7تا8روپئے پٹرول کی قیمت میں ہوئے اضافہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ حکومت ہند نے تیل کی قیمت پر روزانہ نظر ثانی کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے لگے ہیں اور اس کا بوجھ عوام پر عائد ہورہا ہے ۔ یکم جولائی 2017 میںحکومت ہند نے نظام معیشت میں انقلابی تبدیلی کے لئے ملک کے نظام محصولات کو تبدیل کرتے ہوئے تمام اشیاء پر یکساں ٹیکس عائد کرنے کا نظام روشناس کروایا اور اسے جی ایس ٹی کا نام دیا گیا لیکن اس میں پٹرولیم اشیاء بالخصوص پٹرول و ڈیزل کو شامل نہ کرتے ہوئے حکومت نے اپنی آمدنی میں اضافہ کا سلسلہ جاری رکھنے کے علاوہ پٹرولیم کمپنیوں کی چاندی کو برقرار رکھا اور اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود حکومت نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور خاموشی اختیار کی گئی۔جی ایس ٹی میں پٹرول و ڈیزل کو شامل نہ کئے جانے پر مختلف گوشوں کی جانب سے اعتراض کیا گیا لیکن اس احتجا ج کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ پیغام دیا گیا کہ حکومت اس مسئلہ پر کوئی مفاہمت کیلئے تیار نہیں ہے۔ پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کا فائدہ صرف حکومت ہند کو نہیں بلکہ ریاستی حکومتوں کو بھی ہوتا ہے اسی لئے ریاستی حکومتوں نے اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرلی لیکن ان دو اہم اشیائے ضروریہ کی فہرست میں شامل چیزوں کو جی ایس ٹی کے زمرہ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ حکومت ہند کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے۔ہندستان میں جملہ پٹرول و ڈیزل کے استعمال کی مقدار کا جائز ہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ہندستان سالانہ ہزاروں کروڑ لیٹر پٹرول و ڈیزل کا استعمال کرلیتا ہے اور یومیہ بھی کروڑوں لیٹر تیل کی فروخت ہوا کرتی ہے۔ پٹرول ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ کا اضافہ تیل کمپنیو ںاور حکومت کو کروڑہا روپئے کی آمدنی کا ذریعہ بنتاہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2016-17کے دوران3ہزار 210کروڑ 64لاکھ 25ہزار 294 لیٹر پٹرول ہندستانیوں نے استعمال کیا ہے اور اسی طرح 9ہزار 60کروڑ 92لاکھ 88ہزار 530لیٹر ڈیزل استعمال ہو چکا ہے۔ مالی سال 2016-17 کے دوران استعمال کئے گئے پٹرول اور ڈیزل کی مقدار میں جاریہ سال اضافہ ہوا ہے اور اس میں گذشتہ برسوں کے کے اضافہ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ جاریہ سال پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کی مقدارمیں مجموعی اعتبار سے 9فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ہندستان میں پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں بتدریج ہو رہے اضافہ کومد نظر رکھتے ہوئے اسے اشیائے ضروریہ کی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے اور تیل کی خرید و فروخت میں اگر کو ئی غیر قانونی عمل انجام پاتا ہے تو ایسی حرکت کے مرتکب کے خلاف اشیائے ضروریہ ایکٹ کے تحت کاروائی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔حکومت ہند نے پٹرول اور ڈیزل کو سرکاری کنٹرول میں برقرار رکھنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کے بجائے جو مراعات و راحتیں فراہم کر رکھی ہیں اس کا زیادہ فائدہ عوام کو نہیں بلکہ خود حکومت اور تیل کمپنیو ںکو ہونے لگا ہے۔

ملک کی معیشت کا استحکام شہریوں کیلئے فائدہ بخش ہے لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ہونے والے اضافہ سے ہونے والی آمدنی کہاں جا رہی ہے اس بات کا عوام کو پتہ تک نہیں ہے اور اگر یہ سرکاری خزانہ میں جارہی ہے تو اس کا استعمال کہاں کیا جا رہا ہے؟ یہ سوال کیا جانا عوام کا حق ہے لیکن اس کے باوجود عوامی سرد مہری کا راست فائدہ پٹرولیم کمپنیوں اور حکومت کو ہونے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پٹرول وڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو پٹرول یا ڈیزل میں ہونے والے اضافہ جتنا ہی ڈاکہ عوام کی جیب پر پڑتا ہے کیونکہ جیسے ہی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ٹرانسپورٹ کے کرایہ بڑھا دیئے جاتے ہیں اور اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی منتقلی پر مرتب ہوتے ہیں اسکے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتو ںمیں اضافہ ہونے لگتا ہے اور اس کا احساس عوام کو ہوتا ہی نہیں ہے بلکہ اسے قیمتوں پر عدم کنٹرول تصور کیا جانے لگتا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ مالکین کا یہ کہنا ہے کہ جب پٹرول اورڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو انہیں کرایوں میں لازمی اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی قیمتو ںمیں اضافہ کا بنیادی سبب بن جاتا ہے جس کا راست بوجھ عوام پر عائد ہونے لگتا ہے۔

حکومت کو سال گذشتہ پٹرول پر عائد محصولات کے ذریعہ 37ہزار 789کروڑ 26لاکھ روپئے وصول ہوئے اور اس میں سب سے زیادہ ٹیکس ٹووہیلر مالکین نے ادا کیا ہے۔ پٹرول کی فروخت سے حاصل ہونے والے ٹیکس میں 23ہزار 210کروڑ 16لاکھ روپئے ٹووہیلر مالکین نے ادا کئے ہیں جبکہ کاروں میں پٹرول کے استعمال کرنے والوں نے 12ہزار 973کروڑ 5لاکھ روپئے ٹیکس ادا کیا ہے۔ تیسرے نمبر پر آٹو رکشا ہے جنہوں نے پٹرول کے ذریعہ ایک سال کے دوران حکومت کو 888کروڑ 5لاکھ روپئے ٹیکس ادا کیا ہے۔ ایس یو کار یعنی جیپ کے طرز کی کاریں استعمال کرنے والوں نے 570کروڑ 62لاکھ اس مد میں بطور ٹیکس ادا کئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے پٹرول حاصل کرنے والوں نے پٹرول کے استعمال کے ذریعہ 147کروڑ 38لاکھ کا ٹیکس ادا کیا ہے اور یہ اعداد و شمار اس وقت کے ہیں جب پٹرول کی قیمتوں پر مہینہ میں دو مرتبہ نظر ثانی کی جاتی تھی لیکن اب روزانہ کے اساس پر پٹرول و ڈیزل کی قیمت پر نظ ثانی کی جا رہی ہے۔
ڈیزل کے استعمال کرنے والوں نے مالیاتی سال 2016-17کے دوران حکومت کو ٹیکس کی شکل میں 1لاکھ 22ہزار 956 کروڑ 80لاکھ روپئے ادا کئے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ ڈیزل پر ٹیکس ادا کرنے والوں میں ٹرانسپورٹ لاریاں ہے جن کے ذریعہ 28.25فیصد ٹیکس وصول کیا گیا جو کہ 34ہزار 735کروڑ 3لاکھ روپئے ہوتا ہے۔ اس کے بعد خانگی کاروں کے مالکین جو ڈیزل استعمال کرتے ہیں اس کے ذریعہ حکومت کو 16ہزار 168کروڑ 82لاکھ روپئے حاصل ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت کو ڈیزل کی فروخت پر عائد ٹیکس ادا کرنے والوں میں ان دو کے علاوہ آٹو رکشا‘ بسیں‘ پمپ سیٹ‘ صنعتی ادارے بھی شامل ہیں جن کے ذریعہ حکومت کو لاکھوں کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے اور حکومت کی جانب سے وصول کیا جانے والا ٹیکس تیل کی قیمت سے زیادہ ہوتا ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ریلوے کی جانب سے ڈیزل کے استعمال پر حکومت کو 3983کروڑ روپئے بطور ٹیکس ادا کئے گئے ہیں اور اسی طرح پمپ سیٹ اور زرعی سرگرمیوں کے لئے ڈیز ل کا استعمال کرنے والوں نے سال گذشتہ حکومت کو بطور ٹیکس 15ہزار 984کروڑ 38 لاکھ روپئے ادا کئے ہیں۔ڈیزل کی فروخت سے ہونے والی حکومت کی آمدنی میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس اضافہ میں گذشتہ دو ماہ کے دوران اور زیادہ اضافہ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ۔

پٹرول پر مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے وصول کئے جانے والی ٹیکس کی رقم 39.68 روپئے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے اور ڈیزل پر 28.10 روپئے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ۔پٹرول کمپنیو ںکا کہنا ہے کہ پٹرول کی بنیادی قیمت 30.70 روپئے لیٹر ہے اور ڈیزل کی بنیادی قیمت 30.29روپئے لیٹر ہے۔تیل کمپنیو ںکا کہنا ہے کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمت پر حکومت کے عائد کردہ محصولات کے بعد جب تیل کمپنیاں تیل فروخت کرتی ہیں تو اس پر حاصل ہونے والی آمدنی پر انہیں دوبارہ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے ۔پٹرول و ڈیزل کی موجودہ قیمت کے متعلق یہ ادعا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ کے سبب تیل کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے انتہائی ناقابل فہم ہے کیونکہ جس وقت عالمی بازار میں تیل کی قیمت میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی تھی اس وقت ہندستان میں تیل کی قیمت میں کوئی کمی نہیں لائی گئی اور حکومت کی من مانی کے سبب عوام کو تکالیف کا سامناکرنا پڑا ۔

دو ماہ کے دوران پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئے گی کہ ان دو ماہ کے دوران حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 7تا 8روپئے کا اضافہ کیا ہے اوراس اضافہ کا اگر حکومت کو 41فیصد حصہ بھی حاصل ہورہا ہے تو ایسی صورت میں حکومت نے 8نومبر کو کرنسی تنسیخ کا فیصلہ کرتے ہوئے جتنا کالا دھن حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی اس سے کافی زیادہ دولت حکومت کو دو ماہ کے دوران عوام کے ذریعہ حاصل ہو چکی ہے کیونکہ عوام اس بتدریج اضافہ کا نوٹ نہیں لے رہی ہے اور اس اضافہ کے ذریعہ راست جیب پر ڈاکہ بھی پڑ رہا ہے تو مجبوری کے باعث پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کو ترک نہیں کر سکتے اسی لئے ایسا محسوس ہو رہا ہے اس کی قیمتو ںمیں اضافہ کے ذریعہ بالواسطہ مہنگائی کو فروغ دیا جا رہاہے۔

TOPPOPULARRECENT