Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / پٹنہ میں آر جے ڈی اور بی جے پی کارکنوں میں جھڑپ

پٹنہ میں آر جے ڈی اور بی جے پی کارکنوں میں جھڑپ

چھ زخمی ، بی جے پی کارکنوں کے لاٹھی سے مسلح ہونے پر آر جے ڈی کارکنوں کی سنگباری ، پولیس کی تعینات جمعیت میں اضافہ

پٹنہ ۔ 17 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کم از کم چھ افراد بی جے پی اور آر جے ڈی کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں زخمی ہوگئے جبکہ آر جے ڈی کارکنوں نے بی جے پی کے پٹنہ دفتر کے باہر سنگباری کی ۔ ایک دن قبل محکمہ انکم ٹیکس نے مبینہ بے نامی اراضی کے سودوں کے سلسلے میں جس میں آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کے ملوث ہونے کاشبہ کیا جارہا ہے ، دھاوی کئے تھے ۔ ہزاروں آر جے ڈی کے نوجوانوں کے شعبہ کے کارکن برہنہ جسم کے ساتھ بی جے پی کے ریاستی ہیڈکوارٹر کی طرف جلوس کی شکل میں جارہے تھے تاکہ سینئر بی جے پی قائد سشیل مودی سے آر جے ڈی سربراہ اور اُن کے خاندان پر حساس تنقید کے سلسلے میں احتجاج کرسکیں۔ وہ آر جے ڈی کے پرچم اُٹھائے ہوئے تھے اور ’’لالو زندہ باد‘‘ کے نعرے لگارہے تھے ۔ کارکن اُس وقت پرتشدد ہوگئے اور بی جے پی کے دفتر پر جو ویرچند پٹیل مارگ پر قائم ہے سنگباری کی ۔ جبکہ بی جے پی کارکن اپنے دفتر سے لاٹھیوں کے ساتھ باہر آگئے تھے تاکہ آر جے ڈی کے جلوس پر جوابی کارروائی کی جاسکے۔ انتشار کے عالم میں کم از کم چھ افراد کو پتھروں سے زخم آئے اور کئی گاڑیوں کے ونڈز اسکرینس کو جو بی جے پی کے دفتر کے باہر کھڑی ہوئی تھیں نقصان پہنچا ۔ یہ بلااشتعال تشدد تھا ۔ پولیس نے بروقت مداخلت کی اور جھڑپ میں ملوث دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کو علحدہ کردیا ۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس منو مہاراج نے کہا کہ مزید پولیس جمعیت امن کی برقراری کیلئے تعینات کردی گئی ہے ۔ ایس ایس پی کے بموجب اسی قسم کے مناظر مظفرپور میں بھی دیکھے گئے جہاں آر جے ڈی کارکنوں نے بی جے پی کے دفتر کا گھیراؤ کیا لیکن پولیس کی بروقت مداخلت سے تشدد نہیں ہوسکا ۔ اس ناخوشگوار واقعہ پر سخت سیاسی ردعمل منظرعام پر آیا ۔ سینئر بی جے پی قائد سشیل مودی جو گردنی باغ میں ریاستی صدر پارٹی نتیا نند رائے کے ساتھ دھرنا دے رہے ہیں اور لالو پرساد کے مبینہ بے نامی جائیدادوں کے خلاف دیگر قائدین کے ساتھ احتجاج کررہے ہیں الزام عائد کیا کہ یہ حملہ ’’شرمناک ‘‘ تھا اور اس کی سازش ریاستی حکومت نے کی تھی تاکہ اپوزیشن کی آواز کو ’’خاموش‘‘ کیا جاسکے ۔ بی جے پی کا دفتر ممنوعہ علاقہ میں واقع ہے اور اُنھیں یہاں دھرنا دینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی ۔ ہمیں پارٹی کے دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنا دینا تھا لیکن آج سینکڑوں آر جے ڈی کے غندوں کو اس طرح احتجاج کرنے اور ہم پر سنگباری کرنے کی اجازت دیدی گئی ۔ جب بی جے پی دفتر پر تشدد ہوتا ہے تو چیف منسٹر نتیش کمار ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کے اجلاس میں مختصر سے فاصلے پر موجود تھے۔ اُن کے ساتھی نند کشور یادو نے آر جے ڈی کے بی جے پی کے دفتر پر حملے کو اُن کی ’’ہتاشا اور نراشا‘‘ کا اظہار قرار دیا کیونکہ وہ برسراقتدار نہیں ہے ۔ انھوں نے چیف منسٹر نتیش کمار سے سوال کیا کہ کیا یہ سش آسن (اچھی حکمرانی ) ہے ؟ آر جے ڈی کے ترجمان مرتنجیا تیواری نے بی جے پی پر تشدد کا الزام عائد کیا ۔ انھوں نے کہاکہ آر جے ڈی کارکن پرامن احتجاج کررہے تھے جبکہ بی جے پی کارکنوں نے اُن پر پتھر اور کانچ کی بوتلیں پھینکیں ۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی قائد سشیل مودی بے بنیاد الزامات لالوپرساد اور اُن کے خاندان پر عائد کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT