Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / پٹھان کوٹ حملہ، عسکریت پسندوں و آئی ایس آئی کی مشترکہ کارستانی

پٹھان کوٹ حملہ، عسکریت پسندوں و آئی ایس آئی کی مشترکہ کارستانی

ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے پر ہندوستانی ٹیم کو دورہ کی اجازت سے پاکستان کا انکار
نئی دہلی۔/8اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کیس کی تحقیقات کیلئے ہندوستانی ٹیم کو دورہ کی اجازت کی وعدہ خلافی کی ہے کیونکہ نیشنل انوسٹگیشن ٹیم نے اس حملہ میں ملوث عسکریت پسند کے ساتھ آئی ایس آئی کے تعلقات کا ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قومی تحقیقاتی ادارہ ( این آئی اے ) نے پاکستان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دورہ ہند کے موقع پر یہ ثبوت حوالے کئے تھے جس میں یہ واضح ہوتا ہے کہ 2جنوری کو پٹھان کوٹ فضائی اڈہ پر جن عسکریت پسندوں نے حملہ کیا  ہے انہیں سرحد پار سے تربیت اور رہنمائی کی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو عسکریت پسندوں اور ان سرپرستوں کے درمیان ٹیلی فون مذاکرات کی تفصیلات اور شناخت کے ساتھ پیش کردی گئی ہے۔ نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی نے پاکستانی عہدیداروں جوکہ آئی ایس آئی کے کارندے ہوسکتے ہیں اور عسکریت پسندوں کے درمیان رابطہ کا ثبوت پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے نے گہرائی تک تحقیقات کے بعد مہلوک عسکریت پسندوں کے پاکستانی تعلقات سے متعلق الکٹرانک اور فارنسک ثبوت حوالے کئے گئے ہیں جو کہ ناقابل تردید ہیں۔

پٹھان کوٹ فضائی اڈہ پر 3دن تک جاری خونریز جھڑپ کے دوران جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی عبدالرؤف دہشت گردوں سے مسلسل رابطہ میںتھے اور پاکستان سے حملہ آوروں کی رہنمائی کررہے تھے جس پر پاکستانی ٹیم ہندوستانی تحقیقات کاروں کی ذہانت اور صلاحیت پر حیرت زدہ ہوگئی کہ کس طرح عسکریت پسندوں کے پاکستانی رابطہ کا ثبوت حاصل کرلیا گیا ہے اور انہیں محسوس ہوگیا کہ اب کھیل ختم ہوگیا ہے جس ۔ جس کے نتیجہ میں این آئی اے ٹیم کو دورہ پاکستان کی اجازت کے وعدہ سے انحراف کردیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر جناب عبدالباسط نے کل یہ اشارہ دیا تھا کہ ہندوستانی تحقیقات کاروں کو پٹھان کوٹ حملہ کے سلسلہ میں چھان بین کیلئے دورہ پاکستان کی اجازت نہیں دی جائے گی۔تاہم ہندوستان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ جوائنٹ انوسٹگیشن ٹیم کے دورہ سے قبل دوونوں فریقین نے یہ اتفاق کرلیا تھا کہ جیسا کو تیسا ہوگا یعنی دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گی۔دریں اثناء مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے آج این آئی اے ٹیم کے دورہ پر پاکستانی سفیر کے تقرر کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس طرح کے بیانات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفیر نے جو بیان دیا ہے بالکلیہ غلط ہے جس کے باعث باہمی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT