Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / پٹھان کوٹ حملہ آوروں کے خلاف پاکستان جلد کارروائی کرے : امریکہ

پٹھان کوٹ حملہ آوروں کے خلاف پاکستان جلد کارروائی کرے : امریکہ

زبانی وعدوں کو عملی شکل دینے کا انتظار ۔ ممبئی حملوں کے خاطیوں کی طرح ٹال مٹول کی پالیسی اختیار نہ کرنے نواز شریف حکومت کو مشورہ
واشنگٹن 9 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کا یہ احساس ہے کہ اب پاکستان کیلئے وقت آگیا ہے کہ وہ دہشت گرد نیٹ ورکس اور پٹھان کوٹ میں کئے گئے حملہ کے مرتکبین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا خانگی اور سرکاری طور پر جو دعوی کیا ہے اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے اقدامات کرے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان پٹھان کوٹ حملہ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہونچائے ۔ ہندوستانی انٹلی جنس کی یہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان میں ہی کچھ گروپس اور افراد نے پٹھان کوٹ فضائی ٹھکانہ پر حملہ کا منصوبہ تیار کیا تھا اور اس پر عمل آوری کی حکمت عملی بنائی تھی ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ پاکستان کو اب دہشت گردوں کو بچانے کیلئے ناقابل قبول عذر پیش نہیں کرنے چاہئیں جیسا کہ اس نے ممبئی حملوں کے مرتکبین کے تعلق سے کیا تھا ۔ عہدیدار نے کہا کہ پاکستان نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریگا ۔ اس نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپس کے مابین کسی طرح کا امتیاز نہیں کریگا ۔ ہم پاکستان کے وعدوں پر عمل کے منتظر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کے قول و فعل میں یکسانیت پیدا ہوجائے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان نے سرعام کہا ہے کہ وہ اس حملہ کی تحقیقات کریگا ۔ ہم کو اس عمل کے آگے بڑھنے کا انتظار ہے ۔ تاہم ہم چاہتے ہیںکہ اس حملہ کے خاطیوں اور مرتکبین کو کیفر کردار تک پہونچایا جائے ۔ یہ کام جتنا جلد ممکن ہوسکے ہوجاناچاہئے ۔

عہدیدار نے پٹھان کوٹ حملہ کے ابتدائی چند ایام میں ہی وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے رد عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ماننے کی بات نہیں ہے ۔ ہم کو جو وعدے کئے گئے ہیں انہیں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس حملہ کی تحقیقات کریگا ۔اسے یہ موقع دیا جانا چاہئے ۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ آیا وہ پاکستانی حکام کی جانب سے کئے جانے والے دعووں میں یقین رکھتے ہیں۔ پٹھان کوٹ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد سے امریکی حکومت کے سینئر عہدیدار اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی روابط رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسا ہی ایک حملہ افغانستان کے شہر مزار شریف میں بھی ہوا تھا ۔ امریکی حکام کا پاکستانی عہدیداروں پر دباؤ ہے کہ وہ ان حملوں کے بعد دہشت گردوں اور ان کے گروپس کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیں اور صحیح راستہ اختیار کریں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ‘ دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی نہیں کرتا ہے تو پھر اوباما انتظامیہ کیلئے پاکستان کو مزید کوئی فوجی امداد فراہم کرنے کانگریس میں تائید حاصل کرنے میں مشکل پیش آئیگی ۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک چیلنجنگ اور مشکل کام ہے ۔ یہ ایک پیچیدہ رشتہ ہے ۔ ہم ہر چیز پر پاکستان سے اتفاق نہیں کرتے ۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے کیا کارروائی کرتا ہے ۔ عہدیداروں کے بموجب امریکی حکومت کیلئے پاکستان کو مزید کوئی فوجی امداد فراہم کرنا اور اس کیلئے کانگریس میں تائید حاصل کرنا مشکل ہوجائیگا اگر نواز شریف حکومت دہشت گردوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی سے گریز کرتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT