Sunday , September 24 2017
Home / سیاسیات / پٹھان کوٹ حملہ کی تحقیقات این ایس جی سے کروانا سنگین غلطی

پٹھان کوٹ حملہ کی تحقیقات این ایس جی سے کروانا سنگین غلطی

لوک سبھا میں اپوزیشن کی حکومت پر تنقید ‘ کانگریس اور بی جے ڈی کی جانب سے حکومت کی شدید مذمت
نئی دہلی۔16مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پر آج لوک سبھا میں پٹھان کوٹ فوجی ہوائی اڈہ پر دہشت گردی حملہ کی تحقیقات کروانے پر اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس کی تحقیقات این ایس جی سے کروانے کے فیصلہ کو  ایک ’’ سنگین غلطی‘‘ قرار دیا ۔ اپوزیشن نے وزیراعظم نریندر مودی کے لاہور میں توقف پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ آخر اس سے کیاحاصل ہوا ‘ اس کے چنددن ہی بعد دہشت گرد حملہ کیا گیا ۔ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال میں شرکت کرتے ہوئے بیجو جنتا دل کے کلیکیش سنگھ دیو نے قومی صیانتی مشیر پر خاص طور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حملہ سے نمٹنے کے مکمل اختیارات حاصل تھے لیکن انہوں نے ایک غلط فیصلہ کیا ۔ اس طرح اپنے اختیارات کا استحصال کیا ۔ سنگھ دیو نے اظہار حیرت کیا کہ آخر فوج کو دہشت گرد حملہ سے نمٹنے کی ہدایت کیوں نہیں دی گئی تھی جب کہ خود پٹھان کوٹ میں 50ہزار فوجی موجود تھے اور وہ ایسی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹ سکتے تھے ۔

این ایس جی کو صرف شہری یرغمال جیسی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے آخر یہ سنگین غلطی کیوں کی گئی اور پٹھان کوٹ حملہ کی تحقیقات این ایس جی کے سپرد کیوں کی گئی ۔ محکمہ سراغ رسانی کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے اس حقیقت کے پیش نظر ملک دہشت گردوں سے ایک قدم پیچھے ہے  ۔ سراغ رسانی کے نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مولانا مسعود اظہر اب بھی پاکستان میں آزادانہ گھوم رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کے وہ جیش محمد کو دہشت گرد حملہ کیلئے استعمال کرچکے ہیں ۔ کیا ہم پاکستان پر اتنا دباؤ بھی نہیں ڈال سکتے کہ انہیں انصاف کے کٹھہرے میںکھڑا کیا جائے ۔ وزیراعظم کے لاہور میں توقف پر تنقید کرتے ہوئے سنگھ دیو نے کہا کہ آخر انہیں وزیراعظم پاکستان کی سالگرہ تقریب میں شرکت کرکے کیا حاصل ہوا ۔ ایک پیالی چائے اور عشائیہ میںشرکت ۔ ہند۔ پاک تعلقات پر اس سے کیااثر مرتب ہوا ۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ سے نمٹنے اور بحیثیت مجموعی پاکستان پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس قائد جیوتر آدتیہ سندھیا نے کہا کہ جب کہ دفاع اور داخلہ کی وزارتوں میں ہم آہنگی نہیں ہے تو کابینی کمیٹی برائیصیانت کا اس صورتحال میں کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جاسکتا  ‘ یہ موثر نہیں صرف نمائشی ہوگا۔ سندھیا نے کہا کہ حکومت اکیلے چلو کی پالیسی پرعمل نہیں کرسکتی اُسے ایسے اہم وقت اپوزیشن کو بھی اعتماد میںلینا چاہیئے ۔ کانگریس نے کہا کہ کابینی کمیٹی برائے صیانت کا اجلاس منعقد تو نہیں کیا گیا ۔ وزیرداخلہ نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا تھا کہ ہم نے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ۔ وزیر دفاع اُس وقت گوا میں ایک پارٹی کارکن کی چوٹی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT