Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں درج

پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں درج

An Indian security personnel stands guard on a building at the Indian Air Force (IAF) base at Pathankot in Punjab, India, January 5, 2016. REUTERS/Mukesh Gupta/Files

باقاعدہ تفتیش کا آغاز، ایف آئی آر میں جیش محمد کا نام نہیں
اسلام آباد ۔ 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق ہندوستانی ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ میں گذشتہ ماہ ہندوستانی فضائیہ کے اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جمعہ کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق یہ مقدمہ 18 فروری کو گوجرانوالہ کے انسداد دہشت گردی تھانے میں پٹھان کوٹ میں حملہ کرنے والے مبینہ حملہ آوروں اور ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان کے سہولت کاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ وفاقی وزارت داخلہ کے ڈپٹی سیکریٹری اعتزاز الدین کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے اور اس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ 2 جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ میں ہوئے حملے میں ہندوستان کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ ہندوستان کی جانب سے پٹھان کوٹ حملے کا الزام کالعدم جیش محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر عائد کیا گیا تھا اور مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324 اور 109 جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات سات اور 21 شامل کی گئی ہیں۔ بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مقدمہ درج کیے جانے کے بعد باضابطہ طور پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس کیس کی تحقیقات کرے گی۔ مقدمے کی ایف آئی آر میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کی جانب سے دی گئی معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے

جن کے مطابق 2 جنوری کو چار مسلح افراد ہندوستان کی پٹھان کوٹ کے فضائیہ کے اڈے میں داخل ہوئے جس کے بعد ہونے والی فائرنگ میں سات ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔ ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی بھی پاکستان میں ہی کی تھی اور ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ پٹھان کوٹ پہنچ کر بھی حملہ آور پاکستان کے موبائل فون نمبروں پر بات چیت کرتے رہے، اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ درج کر کے اس کی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ اس حملے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے اور پھر ان کی افغانستان میں موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم وزارت داخلہ کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں جیش محمد کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ جمعہ کو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف مزید ثبوت مانگے گئے ہیں اور اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں، اور اس کے لیے جو ٹیم بنائی جائے گی اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی سے بھی تفتیش کر سکے گی۔ ’لیکن صرف نیوز کانفرنس میں کسی کا یا مسعود اظہر کا نام لینے سے تو کسی کو شامل تفتیش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہندوستان مسعود اظہر یا کسی بھی اور شخص کے خلاف ایسا ثبوت دے گا تو ان لوگوں سے پوچھ گچھ ہو گی۔

TOPPOPULARRECENT