Friday , August 18 2017
Home / دنیا / پٹھان کوٹ دہشت گردحملے کے چند مشتبہ افراد گرفتار

پٹھان کوٹ دہشت گردحملے کے چند مشتبہ افراد گرفتار

وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل ‘ہندوستانی اور پاکستانی اعلیٰ عہدیدار شامل
لاہور/اسلام آباد۔11جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) نفاذ قانون محکموں نے ’’ چند مشتبہ ‘‘ افراد کو پٹھان کوٹ فوجی فضائی اڈہ پر ضلع بھاونپور سے گرفتار کیا ہے ۔ یہ قصبہ مولانا مسعود اظہر صدر ممنوعہ دہشت گرد تنظیم جیش محمد کا آبائی وطن ہے ۔ پاکستانی خبر رساں چینل اے آر وائی نیوز کی خبر کے بموجب آج گرفتاریاں عمل میں آئیں ۔ پولیس نے کسی گرفتاری کی پٹھان کوٹ حملہ کے سلسلہ میں توثیق نہیں کی ۔ سراغ رساں محکموں نے بعض مشتبہ افراد کو بھاونپور سے ہندوستان کے فراہم کردہ سراغوں کی بناء پر جو پٹھان کوٹ فوجی اڈہ پر حملہ کے بارے میں تھے ‘ گرفتار کیا ہے ۔ انہیں نامعلوم مقام پر تفتیش کیلئے منتقل کردیا گیا ۔ علاقائی پولیس عہدیدار بھاونپور احسن سعد نے کہا کہ انہیں پٹھان کوٹ حملہ کے سلسلہ میں کسی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اسلام آباد میں سراغ رساں عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھاوے گوجراں والا ‘ جھیلم اور بھاونپور اضلاع میں کئے گئے تھے افراد کو گرفتار کیا گیا ‘ تاہم پولیس نے ان کی تعداد کا انکشاف نہیں کیا ۔ تحقیقات جاری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ یہ افراد حملہ میں ملوث تھے یا انہوں نے اس میں سہولت فراہم کی تھی ۔ امریکہ نے پاکستان سے خواہش کی تھی کہ وہ تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے خاطیوں کو گرفتارکرے ۔ اس کے بعد وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) تشکیل دی تاکہ حملہ آوروں کے پاکستان کے ساتھ تعلق کی تحقیقات کی جائیں ۔ روزنامہ ایکسپریس ٹریبون نے اطلاع دی کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ ہندوستان کی جانب سے فراہم کردہ سراغوں کے بعد کیا جو 15جنوری کو مقرر ہے ۔ معتمدین خارجہ ہند۔ پاک بات چیت میں شرکت کرنے والے ہیں ۔ پاکستان نے ہندوستان کے فوجی فضائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے خلاف تیز رفتار کارروائی کا فیصلہ کیا ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اٹیلیجنس بیورو ( آئی بی ) ‘ انٹرسروسیس انٹیلجنس ( آئی ایس آئی) اور فوجی انٹیلیجنس ( ایم آئی ) کے عہدیداروں پر مشتمل ہوگی ۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں حال ہی میں کیاگیا جس کی صدارت وزیر اعظم نواز شریف کررہے تھے ۔ ہندوستان نے مسعود اظہر کی شناخت کی ہے جنہوں نے اس حملہ کی سازش تیار کی تھی ۔ ہندوستان نے برادر رؤف اور دیگر پانچ افراد کو حملہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جس میں تمام چھ دہشت گرد اور سات ہندوستانی فوجی 2جنوری کو ہلاک ہوگئے ۔ ہندوستان نے پاکستان کو ٹیلیفون نمبرس فراہم کئے ہیں جن سے حملہ آوروں کو کنٹرول کیا جارہا تھا ۔ ان ٹیلی فون نمبرس کا تعلق پاکستان سے تھا ۔ ہندوستان نے حکومت پاکستان سے کہہ دیا تھا کہ اگر وہ مقررہ تاریخ 15جنوری کو معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کا خواہاں ہے تو اسے ہندوستان کے فراہم کردہ سراغوں پر عاجلانہ کارروائی کرنی چاہیئے ۔ مسعود اظہر کا دینی مدرسہ عثمان اور علی بھاولپور میں قائم ہے جو لاہور سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ اس دینی مدرسہ میں طلبہ کی تعداد پہلے 400تھی جو اب 700ہوچکی ہے ۔روزنامہ دی نیوز کے بموجب پاکستان نے دہشت گرد حملہ کے بارے میں ابتدائی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور رپورٹ ہندوستانی عہدیداروں کو حوالے کردی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT