Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر دوبارہ دہشت گردانہ حملے کا خدشہ

پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر دوبارہ دہشت گردانہ حملے کا خدشہ

آئی ایس آئی کو دورہ کی اجازت پر پارلیمانی کمیٹی کا اعتراض
جموں، 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے کا دورہ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے فضائیہ کے اس ٹھکانے کے اندر دہشت گردوں کے موجود ہونے کی بات کہتے ہوئے وہاں دوبارہ حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ وزارت داخلہ سے وابستہ مستقل پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین پی بھٹاچاریہ نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہاکہ “پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے دورے میں ہمیں دیہاتیوں کے ساتھ بات چیت اور دیگر ذرائع سے پتہ لگا کہ ائیر بیس کے اندر دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ وہاں پھر دہشت گرد انہ حملہ ہونے کا خدشہ ہے “۔ مسٹر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ایئر بیس کے اندر دہشت گرد کس طرح چھپا ہے ، یہ پتہ لگانا ہمارا کام نہیں ہے ۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ پٹھان کوٹ سے واپس آنے کے بعد کمیٹی نے حکومت کو پٹھان کوٹ ائیر بیس کی صورتحال کی اطلاع دی۔اس کے بعد حکومت نے حال ہی میں وہاں اضافی فوجی دستہ کی تعیناتی کرکے سیکورٹی مضبوط کردی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ 2 جنوری کو پنجاب کے پٹھان کوٹ میں واقع مغربی فضائیہ کمان کے ٹھکانے پر دہشت گردانہ حملے میں تین سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور پانچ دہشت گرد ہلاک گئے تھے ۔پریس کانفرنس میں کمیٹی کے 13 میں سے 11 ارکان موجود تھے ۔

مسٹر بھٹاچاریہ نے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی(آئی ایس آئیـ کو پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لئے بلائے جانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ آئی ایس آئی کو یہاں کیوں بلایا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ خارجہ پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے ۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہحکومت کو پاکستان کی جانب سے سرحد کے بالکل قریب کنکریٹ بنکر بنائے جانے کا مسئلہ پڑوسی ملک کے سامنے سنجیدگی سے اٹھانا چاہئے ۔ انہوں نے سرحد پر جدید ترین آلات تعینات کرنے کی سخت ضرورت ظاہر کی۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے پایا کہ مرکزی نیم فوجی دستوں کے جوانوں پر ذہنی دباؤ ہے ۔ وہ 15-15 گھنٹے کی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ان کے پروموشن اور حکام کے دباؤ کا بھی مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے فوری حل کے لئے کمیٹی حکومت سے ایک کمیشن قائم کرنے کی سفارش کرے گی۔ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ سیل میں خود کشی کے مسئلے پر دہلی میں حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور اس کے لئے کئی اقدامات بھی کئے گئے تھے ۔ اس مسئلہ پر کمیٹی مزید تجاویز دے گی۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ نے بتایا کہ سرحد کے باشندوں اور کسانوں نے کمیٹی کے سامنے چار اہم مسئلے اٹھائے ۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورس کی طرف سے جن لوگوں کی زمین لی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر کو معاوضہ نہیں ملا ہے اور جنہیں ملا ہے انہیں زمین فروخت کرنے کا حق نہیں ہے ۔ ان لوگوں نے زمین کو فروخت کرنے کا حق مانگا ہے ۔ مسٹر بھٹاچاریہ نے بتایا کہ شمال مشرقی خطہ ، پٹھان کوٹ اور جموں کا دورہ کرنے کے بعد پارلیمانی کمیٹی اب کشمیر کا دورہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT