Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں جھڑپ کی درخواست کی آج سماعت

پٹیالہ ہاؤز کورٹ میں جھڑپ کی درخواست کی آج سماعت

سپریم کورٹ کا اتفاق، ایس اے آر گیلانی گرفتار، عالمی یونیورسٹیوں کے ماہرین تعلیمات کا اظہار یکجہتی
نئی دہلی 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج اتفاق کرلیا کہ ایک درخواست کی عاجلانہ بنیادوں پر کل سماعت کی جائے گی جس میں صحافیوں اور جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کو پٹیالہ ہائیکورٹ کی عمارت میں زدوکوب کرنے والے افراد کے خلاف درخواست کی سماعت کی جائے۔ اس عدالت میں طلبہ یونین کے ایک قائد کو پیش کیا گیا تھا۔ یہ درخواست این ڈی جئے پرکاش سابق طالب علم جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے پیش کی ہے جس کے جذبات کل کے تشدد پر مجروح ہوگئے ہیں۔ اُس نے اُن افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے جو اس تشدد میں ملوث تھے۔ علاوہ ازیں دہلی پولیس کی بے عملی کے خلاف بھی کارروائی کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست چیف جے ٹی ایس ٹھاکر کے اجلاس پر سینئر ایڈوکیٹ اندرا جئے سنگھ نے پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ عدالت کی عمارت میں صیانتی انتظامات ایسے ہونے چاہئیں کہ کوئی بھی شخص تشدد کا نشانہ نہ بن سکے۔

درخواست کے بموجب عدالت میں تشدد سے نہ صرف صدر جے این یو ایس یو کنہیا کمار کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جنھیں غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے بلکہ صحافیوں کو بھی عدالت کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے کے فرض سے روک دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کنہیا کو پولیس تحویل کے اختتام پر دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس درخواست میں گزارش کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ اور دہلی پولیس کو بھی ہدایت دی جائے کہ تمام انسدادی اقدامات کئے جائیں تاکہ تشدد کا ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آسکے۔ چاہے وہ عدالت میں ہو یا عدالت کے کمرہ سے باہر۔ عدالت کی عمارت میں کیوں کہ اس نوعیت کی عدالت کے احاطہ میں سرگرمیاں ملزمین کی جان کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ دریں اثناء دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرر ایس اے آر گیلانی نے آج غداری اور دیگر الزامات میں گرفتار کرلیا گیا جو ملک دشمن نعرہ بازی کے واقعہ سے متعلق ہیں۔ ڈی سی پی جتن ناروال نے کہاکہ گیلانی کو 3 بجے شب پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا

اور غداری ، مجرمانہ سازش اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق دفعات کے تحت اُنھیں گرفتار کرلیا گیا۔ اُن کی گرفتاری جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج میں شدت پیدا ہونے کے پس منظر میں اہمیت رکھتی ہے جو اپنی یونین کے صدر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ایک اور خبر کے بموجب 400 سے زیادہ ماہرین تعلیمات نے عالمگیر سطح پر یونیورسٹیوں سے بشمول کولمبیا ۔ ایل ۔ ہاورڈ ۔ کیمبرج یونیورسٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں، جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے ہیں۔ ایک مشترکہ بیان پر 455 ماہرین تعلیم نے جن کا تعلق پوری دنیا کی یونیورسٹیوں سے ہے، کہا گیا ہے کہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی ایک اہم تصور ہے جو کسی بھی یونیورسٹی کے بارے میں کیا جاسکتا ہے۔ یہاں پر ناقدانہ انداز فکر، جمہوری ناراضگی، طلبہ کی حرکیات اور سیاسی فلسفوں کی تکثیریت پائی جاتی ہے۔ یہ اُن کا ناقدانہ تصور ہے کہ موجودہ انتظامیہ ہندوستان کے مسائل سے واقف نہیں ہے اور اِسے تباہ کردینا چاہتا ہے۔ اہم ناراضگی پر کسی قسم کے حملہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں کئے جارہے ہیں۔ دنیا کو ایک کھلے، روادار اور جمہوری سماج کی ضرورت ہے جس کا تعلق ناقدانہ مکتب فکر سے ہو اور ہندوستان اور بیرونی ممالک کی یونیورسٹیاں اسی قسم کے اظہار خیال کے لئے طلبہ کو تیار کرتی ہیں، دنیا بھر کے اساتذہ ، طلبہ اور اسکالرس انتہائی تشویش کے ساتھ اس صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں جو جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پیدا ہوگئی ہیں اور ہمارے ساتھی (طلبہ، ارکان عملہ اور اساتذہ) غیر قانونی حراست اور آمرانہ معطلی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو گزشتہ ہفتہ غداری، مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT