Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / پٹیل برادری کے نوجوان کی پولیس تحویل میں موت سی آئی ڈی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کا حکم

پٹیل برادری کے نوجوان کی پولیس تحویل میں موت سی آئی ڈی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کا حکم

احمد آباد ۔ 28 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : گجرات ہائی کورٹ نے آج تحفظات کے مطالبہ پر احتجاج کے دوران پٹیل برادری کے ایک 32 سالہ نوجوان کی حوالاتی موت کی سی آئی ڈی تحقیقات کا حکم دیا ہے جب کہ پوسٹ مارٹم کی دوسری رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ سرپر زخموں کی وجہ سے اس نوجوان کی موت واقع ہوئی ہے ۔ جسٹس جے پی پردیوالا نے یہ ہدایت دی کہ سویتنگ پٹیل کے موت کی سی آئی ڈی تحقیقات کروائی جائے ۔ ہائی کورٹ نے بادی النظر میں یہ پایا کہ نوجوان کی موت دراصل قتل کا معاملہ ہے اور علاقہ باپو نگر کے پولیس انسپکٹر سے کہا کہ حوالاتی موت کیس میں ایف آئی آر درج کیا جائے اور سی آئی ڈی کو بھی ہدایت کی ہے کہ 31 اگست تک تحقیقات میں پیشرفت کی رپورٹ داخل کرے ۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم سویتنگ پٹیل کے دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد جاری کیا ہے  رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس نوجوان کی موت سر پر زخموں کی وجہ سے دماغ مفلوج ہوگیا تھا ۔ قبل ازیں عدالت نے مہلوک نوجوان کی والدہ پربھابین پاٹل کی ایک عرضی پر نعش کا دوسری مرتبہ پوسٹ مارٹم کروانے کا حکم دیا تھا ۔ اس خاتون نے عدالت کو بتایا کہ ان کا فرزند سویتنگ 25 اگست کو شب 10-30 بجے مکان میں تھا اس وقت بعض پولیس عہدیدار ہاوزنگ سوسائٹی میں داخل ہوگئے اور وہاں ٹھہری ہوئی کاروں اور دیگر گاڑیوں پر حملہ کر کے نقصان پہنچایا اور بعد ازاں سویتنگ اور دیگر 4 افراد کو پکڑ کر لے گئے ۔ پولیس نے ایک سڑک پر سویتنگ کو بے رحمی کے ساتھ مار پیٹ کی اور باپو نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا جہاں اسے دوبارہ زد و کوب کئے جانے پر زخموں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ والدہ نے اپنے فرزند کے موت کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کی تھی ۔ واضح رہے کہ پٹیل برادری نے تحفظات کے مطالبہ پر 29 اگست کو احمد آباد شہر میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔۔

 

گرداسپور حملہ کیس این آئی اے کے حوالے کرنے سے انکار

نئی دہلی۔/28اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت پنجاب نے گرداسپور دہشت گردانہ حملہ کیس قومی تحقیقاتی ادارہ ( این آئی اے ) کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات کیلئے ریاستی پولیس کے پاس اہلیت اور صلاحیت ہے ۔ مرکزی وزارت داخلہ کو ایک مراسلہ روانہ کرتے ہوئے حکومت پنجاب نے بتایا کہ ریاستی پولیس اس کیس سے نمٹ رہی ہے اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں کیس این آئی اے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

 

 

TOPPOPULARRECENT