Tuesday , October 17 2017
Home / اداریہ / پچاس دن تکمیل کے قریب

پچاس دن تکمیل کے قریب

ہرسال یہی کہتے ہیں گلشن کے نگہباں
اس سال نہیں فصل بہار اب کے برس ہے
پچاس دن تکمیل کے قریب
وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کرنے کے بعد ملک کے عوام کو تسلی دی تھی کہ وہ پچاس دن تک مشکلات کا سامنا پورے صبر کے ساتھ کریں۔ اس کے بعد ان کی مشکلات کا سفر ختم ہوجائیگا ۔ اب وزیر اعظم کے وعدہ کے مطابق پچاس دن پورے ہونے والے ہیں۔ دو تین دن میں یہ مدت تکمیل کو پہونچ جائیگی ۔ تاہم جو آثار و قرائن اورملک بھر میں جو حالات پائے جاتے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ امید موہوم ہی لگتی ہے کہ عوام کی مشکلات میں کوئی کمی آنے والی ہے ۔ خاص طور پر اس لئے بھی اس معاملہ میں ریزرو بینک اور خود حکومت بھی الجھن کا شکار نظر آتی ہے ۔ بظاہر یہی محسوس ہو رہا ہے کہ ریزرو بینک اور حکومت ہند کیلئے اس مسئلہ کا حل دریافت کرنا آسان نہیں رہا ہے ۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ جس دن وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا اس کے بعد سے اب تک خود حکومت کے معلنہ قوانین میں درجنوں بار تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ہر بار نئی شرائط والے سرکلر جاری کئے گئے ہیں۔ بعد میں حالات کو دیکھتے ہوئے ان احکامات میں یا تو تبدیلی کی گئی ہے یا پھر ان سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے معلنہ وقت اب ختم ہونے کے قریب ہیں لیکن ایسے اشارے قطعی نہیں مل رہے ہیں کہ عوام کے مسائل میں کوئی کمی آنے والی ہے ۔ بینکوں کی صورتحال میں بہتری پیدا ہونے والی ہے ۔ ملک میںکرنسی اور نقد رقم کی جو قلت پیدا ہوگئی ہے وہ ختم ہونے والی ہے ۔ یہ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کا منصوبہ کیا ہے ۔ وہ عوام کی مشکلات کو ختم کرنے ‘ انہیں راحت فراہم کرنے اور خود ملک میں تجارت و کاروبار پر جو منفی اثرات ہوئے ہیں انہیں ختم کرنے کیلئے کیا کچھ کرنے والی ہے اس کا اشارہ ابھی تک نہیں مل سکا ہے ۔ اب جبکہ پچاس دن کی مہلت ختم ہونے کیلئے دو تین کا وقت ہی باقی رہ گیا ہے ایسے میں ملک کے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ آیا حکومت واقعی کوئی ایسا اعلان کرنے والی ہے جس کے نتیجہ میں ان کی مشکلات میں کوئی کمی آئیگی ؟ ۔ کیا بینکوں سے رقومات نکالنا آسان ہوجائیگا ۔ کیا اے ٹی ایم مراکز پر جو طویل قطاریں ہیں وہ کم ہوجائیں گی ؟ ۔ کیا اے ٹی ایم مشینوں کو راتوں رات کارکرد کردیا جائیگا ؟ ۔
بظاہر جو حالات ہیں وہ ایسا کوئی اشارہ نہیں دیتے کہ صورتحال میں کوئی بہتر اور مثبت تبدیلی آنے والی ہے ۔ یہ امید اس لئے بھی نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ اب تک حکومت نے نوٹ بندی کے بعد جتنے بھی اعلانات کئے ہیں ان میں صرف آئندہ دور میں پیش آنے والی مزید مشکلات کا ہی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ نت نئی افواہیں گشت کر رہی ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ عوام کے گھروں میں نقد رکھنے کی حد پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے ۔ کس شخص کے پاس کتنا سونا ہونا چاہئے اس کی حد مقرر کردی جائیگی ۔ نوٹ بندی کے بعد جتنی رقومات بینکوں میں جمع کی گئی ہے ان کا جائزہ لیا جائیگا ۔ بینک کھاتوں کی تفصیلات معلوم کی جائیں گی ۔ پھر جہاں جہاں ممکن ہو وہاں جرمانے عائد کئے جائیں گے ۔ کچھ رقم ایک مقررہ وقت تک کیلئے بطور بلاسودی قرض حاصل کرلی جائیگی ۔ یہ سب جو منصوبے ہیں وہ اسی بات کی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجہ میں عوام کے مسائل میں اضافہ ہی ہونے والا ہے اور ان میں کوئی کمی آنے کے آثار نہیں ہیں۔ حکومت نے ابھی بھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ 30 ڈسمبر کے بعد کیا کچھ کیا جانے والا ہے ۔ عوام کو راحت پہونچانے کیلئے اس نے کیا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہوسکا ہے کہ نئی کرنسی کی اجرائی کس حد تک کی جائیگی ۔ نئے نوٹوں کی طباعت کا کام کس حد تک پہونچا ہے ۔ ان کی اجرائی کس طر ح سے ہوگی ۔ مرحلہ وار انداز میں ہوگی یا پھر بیک وقت یہ کرنسی بینکوں تک پہونچادی جائیگی ۔
وزیر اعظم نریندر مودی ہوں یا پھر حکومت کے دوسرے ذمہ داران وہ صرف یہ دعوے کرنے میں مصروف ہیں کہ حکومت کے فیصلے کو ملک کے عوام کی تائید حاصل ہے ۔ ملک کے عوام یقینی طور پر اس معاملہ میں صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں اور پورے تحمل سے کام لے رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ان کی مشکلات میں کمی آئی ہے ۔ انہیں یقینی طور پر بے طرح مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق پچاس دن کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ منتظر ہیں کہ حکومت ایسے اقدامات کا اعلان کرے جن کے نتیجہ میں کرنسی اور نقد رقم کی قلت کم ہوجائے ۔ بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ حکومت نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے اور نقدی کی قلت کو ختم کرنے کی بجائے کیش لیس معاملتوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ کارڈز اور سوائپنگ مشینوں کے استعمال کو فروغ دینے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مشکلات سے بھرے پچاس دن کا عوامی صبر کیا رنگ لاتا ہے اور حکومت کیا اقدامات کرتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT