Saturday , August 19 2017
Home / Health / پھلوں کا مناسب استعمال

پھلوں کا مناسب استعمال

زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے کھانے کے ساتھ پھل کھانا صحت مند رہنے کا اچھا طریقہ ہے ۔ جسم کے 24 گھنٹے کے دوران نظام ہضم کی کارکردگی سے واقفیت حاصل کئے بغیر کئی لوگ پھل اس طرح استعمال کرتے ہیں جس سے انہیں تغذیہ کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔
کھانے کے ساتھ کثیر مقدار میں پھلوں کا استعمال ‘یا کھانے کے بعد بطور ذائقہ ان کا استعمال پھل کھانے کا درست طریقہ نہیں ہے ۔ پھلوں کے استعمال سے جسم کو اعظم ترین فائدہ پہنچانے حسب ذیل ہدایات پر عمل کریں۔
v  پھل اسی وقت کھائیں جب پیٹ خالی ہو ۔ دن میں کسی بھی وقت پھل کھائے جاسکتے ہیں۔ جب بھی پیٹ خالی ہو پھل کھائے جاسکتے ہیں ۔
v  پھل کھانے کے بعد کم از کم 30 منٹ تک غذایا مزید پھل استعمال نہ کریں ۔
v  مناسب غذا استعمال کرنے کے بعد کم از کم 3 گھنٹہ کوئی پھل نہ کھائیں ۔ اس سے یہ بات یقینی ہوجائے گی کہ پہلے استعمال شدہ غذا سے پیٹ خالی ہوجائے ۔ اس طرح معدے میں سابقہ غذا کے ذخیرہ اور اس میں خمیر پیدا ہونے سے گریز کیا جاسکے گا ۔
v  آپ کو پھل زیادہ تر دوپہر سے پہلے کھانے چاہئیں ۔
v  دیگر غذاؤں کے ساتھ پھل ہر گز استعمال نہ کریں۔پھل کھاتے وقت صرف پھل کھائیں۔
v  پھل بطور ذائقہ یا چورن استعمال نہ کریں ۔ کھانے کے بعد پھل استعمال کرنا اس کی افادیت ضائع کرنا ہے ۔
v  صبح کے وقت موز اور Avocodosاستعمال نہ کریں ۔ یہ ثقیل غذا ہیں اور ان سے صبح صبح نظام ہضم پر بوجھ پڑتا ہے ۔ یہ پھل دوپہر میں کھائے جاسکتے ہیں جب جسم کا نظام ہضم انہیں ہضم کرسکتا ہے ۔
v  صبح کے وقت بھوک محسوس ہوتو پھل کی تھوڑی تھوڑی مقدار استعمال کریں یہاں تک کہ خون میں شکر کی سطح دوبارہ معمول پر آجائے اور اس کے نتیجہ میں بھوک مٹ جائے ۔
v  اپنی بہترین صلاحیت کیلئے صرف organicپھل استعمال کریں ۔
v  تیار شدہ ‘پکائے ہوئے اور ڈبہ بند پھلوں کے استعمال سے گریز کریں۔ ان میں شکر کی کثیر مقدار ہوتی ہے ۔ فاضل اور دیگر غیر مطلوب مادے ہوتے ہیں ۔
v  پھل معدے میں نہیں آنتوں میں ہضم ہوتے ہیں ۔ یہ زود ہضم ہوتے ہیں اور آدھے گھنٹے میں ہاضمہ کا عمل پورا ہوجاتا ہے ۔ دماغ کی کارکردگی گلوکوز پر منحصر ہوتی ہے اور پھل خون میں شکر کا انتہائی کارآمد ذریعہ ہیں ۔ کافی مقدار میں پھل کھانے سے خون میں شکر کی سطح معمول پر رہتی ہے ۔ آپ کے جسم کا بھوک کا نظام مناسب طور پر باقاعدہ ہوجاتا ہے ۔ اس طرح بسیار خوری اور موٹاپے سے بچا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT