Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پھلوں کو پکانے کیلئے تین بھٹیوں کے قیام کا فیصلہ

پھلوں کو پکانے کیلئے تین بھٹیوں کے قیام کا فیصلہ

حیدرآباد ہائی کورٹ کے احکام کے بعد محکمہ باغبانی کے اقدامات
حیدرآباد۔/19اگسٹ، ( سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ کی جانب سے احکامات اور پھلوں کی دکانات پر متواتر دھاوے کئے جانے کے بعد محکمہ باغبانی بیدار ہوا ہے اور اس نے ریاست تلنگانہ میں پھلوں کو پکانے والے تین چیمبرس ( بھٹیاں ) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عام طور پر پھلوں کے بیوپاری پھلوں کو پکانے کیلئے بڑے پیمانے پر کیلثیم کاربائیڈ اور دیگر مضرت رساں کیمکل کا استعمال کرتے ہیں خاص کر آم کو جلد سے جلد پکانے کیلئے کاربائیڈ کا استعمال کیا جاتا ہے جو صحت کیلئے مضر ہوتا ہے۔ ریاستی باغبانی مشن کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ کے تین مقامات بودھن، کھمم  اور حیدرآباد میں ایک ، ایک پھل پکانے والی  بھٹیاں قائم کی جائیں۔ پرنسپال سکریٹری ( زراعت ) سی پارتھا سارتھی کی زیر قیادت منعقدہ اجلاس میں محکمہ زراعت اور باغبانی سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے شرکت کی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو دکاندار بھاری مقدار میں پھلوں کو پکانے کیلئے کاربائیڈ کا استعمال کرتے ہیں یہ انسانی صحت کیلئے مضر ہوتا ہے۔ بیوپاریوں کے اس عمل کو روکنے کیلئے دھاوے کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے قائم کئے جانے والے پھلوں کو پکانے والی بھٹیوں میں صرف ایتھیلن گیس کا استعمال کیا جائے گا جس سے کوئی مضرت رساں کیمیکل خارج نہیں ہوتا، یہ گیس پھلوں کو پکانے کیلئے مفید ہے۔ ایتھیلن گیس کا استعمال کرتے ہوئے آم کو چار دن میں پکایا جاسکتا ہے اس سے صارفین کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ باغبانی مشن کے تحت پھل پکانے کی بھٹی قائم کرنے کیلئے ایک لاکھ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ ایک ٹن گنجائش والی بھٹی تیار کی جائے گی۔ کسانوں کو جملہ لاگتی رقم کا 10فیصد حصہ خرچ کرنا ہوگا اور 60فیصد بینک سے قرض دیا جائے گا جس میں 30فیصد کی سبسیڈی ملے گی۔ پھلوں کو پکانے والی ان بھٹیوں سے آم، موز اور دیگر پھلوں کو پکانے میں مدد ملے گی۔ ذرائع نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکام کے بعد محکمہ باغبانی نے کیمیائی اثرات سے پاک پھلوں کی تیاری کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ میوہ مارکٹ کے تاجرین بڑے پیمانے پر کاربائیڈ کا استعمال کرتے ہیں جس سے پھل بہت جلد پک کر تیار ہوجاتے ہیں لیکن یہ پھل انسانی صحت کیلئے مضر ہوتے ہیں۔ ہارٹیکلچر مشن نے آم، موز اور دیگر پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT