Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / پہلی رخصت آخری بن گئی اور شادی کی بارات، جلوس جنازہ میں تبدیل

پہلی رخصت آخری بن گئی اور شادی کی بارات، جلوس جنازہ میں تبدیل

جنوبی کشمیر میں جواں سال فوجی لیفٹننٹ کا اغواء اور قتل، وزیردفاع جیٹلی کا اظہارتعزیت
سرینگر ۔ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک جوان سال فوجی لیفننٹ کی پہلی رخصت آخری بن گئی اور شادی کی ایک بارات جس میں وہ شرکت کرنا چاہتے تھے خود ان کا جلوس جنازہ بن گئی۔ فوجی لیفٹننٹ 23 سالہ عمر فیاض کا تعلق گڑبڑ زدہ ضلع کلگام سے ہے، انہیں 2 راجپوتانا رائفلز میں تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے ایک رشتہ کے بھائی کی تقریب شادی میں شرکت کیلئے رخصت کی درخواست دی تھی۔ جب وہ رخصت پر پہنچے کہ کلگام کے ہرمین ٹاؤن میںکل رات کسی نے انہیں گھر سے اٹھا لیا تھا اور بعد میں گھر سے تین کیلو میٹر دور ان کی نعش دستیاب ہوئی۔ فیاض نے جنوبی کشمیر کے اشمقام علاقہ کے نودیہ ودیالیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف گذشتہ سال ڈسمبر میں ہی فوج میں ملازمت حاصل کیا تھا۔ وہ پونے میں واقع باوقار فوجی ڈیفنس اکیڈیمی کے کیڈیٹس کے 129 ویں بیاچ سے تعلق رکھتے تھے۔ فیاض نے فوج میں بھرتی کے بعد پہلی مرتبہ رخصت لی تھی۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ 25 مئی کو اکھنور میں واقع ان کے یونٹ میں فیاض کی واپسی متوقع تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ  کے مطابق ان کی نعش پر زخموں کے نشانات پائے گئے، جس سے اشارہ ملتا ہیکہ فیاض نے اپنا اغواء کرنے والے مشتبہ عسکریت پسندوں سے بچنے کیلئے مزاحمت کی تھی۔ انہیں قریب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ایک گولی ان کے سر میں اور دوسری معدہ اور سینہ کے درمیان پیوست ہوگئی۔ مقامی  افراد نے کہا کہ دو نقاب پوش افراد کل 8 بجے شب ان کے گھر میں داخل ہوئے اور لیفٹننٹ فیاض کو آواز دی۔ وہ غیرمسلح تھے اور فیاض کو اپنے ساتھ چلنے کیلئے اصرار کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دینے کے خلاف ارکان خاندان کو وارننگ دی۔ ان کی ہلاکت سے سارے علاقہ میں برہمی پھیل گئی اور مقامی افراد نے خاطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں سزاء دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اکثر فورسیس کے جنرل آفیسر ان کمانڈ میجر جنرل بی ایس راجو نے جو جنوبی کشمیر میں انسداد دہشت گردی اور جوابی کارروائیوں کے انچارج ہیں، اپنی تمام یونٹوں میں اس علاقہ اور اطراف و اکناف کے فورسیس کو ہدایت کی ہیکہ قافلوں کو پکڑنے کیلئے تلاشی مہم شروع کی جائے۔ فوجی لیفٹننٹ فیاض عمر کے جسد خاکی کی مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ تدفین عمل میں آئی۔ جلوس جنازہ میں ان کے گاوں کے متعدد افراد نے شرکت کی۔ وزیردفاع ارون جیٹلی نے لیفٹننٹ فیاض کے اغواء اور ہلاکت کو بزدلی کا ایک بہیمانہ اور وحشیانہ واقعہ قرار دیا۔ جیٹلی نے ٹوئیٹر پر کہاکہ ’’جموں و کشمیر کے یہ جواں سال افسر ایک مثالی نمونہ ہیں‘‘۔ جیٹلی نے کہاکہ ’’لیفٹننٹ عمر فیاض ایک بہترین اسپورٹسمین بھی تھے اور ان کی قربانی دراصل وادی کشمیر سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے اس ملک و قوم کے عزم و عہد کا اعادہ کرتی ہے۔ راہول گاندھی نے اظہارتعزیت کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’فیاض کے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے غم میں ساری قوم برابر کی شریک ہیں۔ ان کی یاد میں کبھی فراموشی نہیں ہوں گی۔ جس مقصد پر وہ ثابت قدم رہے وہاں انہیں شکست دینے کی کوشش والے خود شکست فاش ہوجائیں گے۔ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بہت افسوسناک اور خطرناک ہے جو مرکز کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

 

لیفٹیننٹ فیاض وادی کے نوجوانوں کیلئے مشعل راہ :جیٹلی
نئی دہلی 10مئی (سیاست ڈاٹ کام)وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ کشمیر میں دہشت گردوں کی جانب سے اغوا کرنے کے بعد ہلاک کئے گئے فوج کے لیفٹیننٹ عمر فیاض وادی کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ  ہیں ۔ جیٹلی نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ میں لیفٹننٹ فیاض کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ،”ہم بحران کی اس گھڑی میں لیفٹیننٹ عمر فیاض کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لیفٹیننٹ فیاض وادی کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ بنے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT