Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / پہلے بیرونی دورہ میں ٹرمپ کیلئے بروسلز کا مرحلہ مشکل ترین

پہلے بیرونی دورہ میں ٹرمپ کیلئے بروسلز کا مرحلہ مشکل ترین

مانچسٹر حملہ کے بعد دہشت گردی سے لڑائی میں شدت پیدا کرنے ناٹو ممالک پر صدر امریکہ کا زور

بروسلز ۔ 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج نروس ’’ناٹو‘‘ کو مشورہ دیا کہ مانچسٹر کے دلدوز واقعہ کے بعد اب وقت آ گیا ہیکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مزید شدت پیدا کی جائے۔ یوروپی یونین اور ناٹو قائدین سے انہوں نے آج ملاقات کی تھی۔ ایسی بات بھی نہیں ہیکہ ٹرمپ کے بروسلز آنے پر ان کا صرف اور صرف سرخ قالین والا خیرمقدم کیا گیا بلکہ احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہیکہ مغربی حلیفوں نے ان کا سرخ قالین خیرمقدم کیا کیونکہ وہ صدر امریکہ سے ملاقات کیلئے بے چین تھے اس بات سے قطع نظر کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہمات کے دوران جو کچھ کہا تھا وہ اب گزری ہوئی بات ہے۔ ٹرمپ نے بریگزیٹ سے برطانیہ کے اخراج کی بھی گذشتہ سال تائید کی تھی لیکن اس کے باوجود یوروپی یونین کے ہیڈکوارٹرس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا جہاں ٹرمپ نے یونین کے اعلیٰ سطحی  قائدین ڈونالڈ ٹسک اور جین ۔ کلاڈجنکر سے ملاقات کی۔ یاد رہیکہ اس وقت اگر ٹرمپ نے جس موضوع ؍ مسئلہ پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے تو وہ ہے دہشت گردی کا خاتمہ۔ مانچسٹر کے ایک کنسرٹ میں ہوئے خودکش حملے کے بعد اب اس بات کی ضرورت زیادہ بڑھ گئی ہیکہ ناٹو سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں شدت کی بات کہی جاے۔ چہارشنبہ کو بلجیم کے وزیراعظم چارلس مائیکل سے ملاقات کے بعد اپنے خطاب کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگرآپ کوئی ایسی خبر سنتے ہیں یا ایسا منظر دیکھتے ہیں جو ہم نے گذشتہ ہفتہ سنا اور دیکھا (ان کا ا شارہ مانچسٹر میں ہوئے دہشت گرد حملہ کی جانب تھا) تو پھر یہ بہت ضروری ہوجاتا ہیکہ ہم اس لڑائی میں بہرقیمت فتح حاصل کریں۔

ہمیں یقین ہیکہ ہم یہ لڑائی ضرور جیتیں گے۔ بلجیم کو بھی مارچ 2016ء میں دولت اسلامیہ کے جہادیوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اپنے صدارتی انتخابی مہمات کے دوران ٹرمپ نے ناٹو پر بھی یہ کہہ کر خوب تنقیدیں کی تھیں کہ وہ (ناٹو) دہشت گردی پر توجہ دینے کی بجائے روس پر زائد توجہ دے رہا ہے لیکن یہی ناٹو اب ٹرمپ کی اس درخواست پر لبیک کہنے تیار ہے جہاں انہوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں امریکی اتحادی فوج کے ساتھ ناٹو کو  بھی شامل ہونے کی بات کہی تھی۔ دوسری طرف فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اس وضاحت کے بعد اپنے اعتراضات واپس لے لئے تھے کہ ناٹو اتحاد کوئی دوبدو جنگ کا حصہ نہیں ہوگا بلکہ وہ صرف اواکس نگرانکار طیارے اور تربیت فراہم کرے گی۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ سفر کرنے والے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اب بہت ہی سخت موقف اختیار کرلیا ہے البتہ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں ہیکہ ٹرمپ کو برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی جانب سے بھی مانچسٹر حملہ کی تحقیقات کی خفیہ اطلاع کا امریکی میڈیا کو افشاء کے معاملہ میں سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ برطانوی پولیس کا ادعا ہیکہ تحقیقات خفیہ نوعیت کی ہے اور اگر امریکی میڈیا میں اس کا افشاء ہورہا ہے تو تحقیقات بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے اپنے پہلے بیرونی دورہ کا آغاز کیا۔ اس کے بعد اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دورے کئے۔ وٹیکن پہنچ کر پوپ فرانسس سے ملاقات کی اور یہ تمام مرحلے بہ آسانی طئے ہوگئے البتہ اپنے سفر کے آخری مراحل میں بروسلز کا دورہ ان کیلئے سخت ترین ہے۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ ان کے پہلے بیرونی دورہ کے عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT