Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / ! پہلے 100 دن اب 50 دن

! پہلے 100 دن اب 50 دن

انہیں پھر سے تازہ جفاؤں کی سوجھی
مری چشم نم جو ذرا مسکرائی
!  پہلے 100 دن اب 50 دن
وزیر اعظم نریندر مودی ایسا لگتا ہے کہ 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کا چلن ختم کرنے کے مسئلہ پر ملک میں پائی جانے والی بے چینی اور عوام کی مشکلات سے توجہ ہٹانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ پہلے تو وہ عوام کو مشکل میں ڈال کر بیرون ملک چلے گئے ۔ جاپان میں پرسکون وقت گذارنے کے بعد اب وہ ایک بار پھر عوام کو اپنی لچھے دار باتوں میں الجھانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم آج گوا میں دورہ پر تھے ۔ انہوں نے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے مسئلہ پر خود کو جذباتی اوتار میں پیش کرنے کی بھی کوشش کی ۔ انہوں نے یہ ادعا کیا کہ انہوں نے ملک کیلئے اپنے خاندان اور اپنے گھر کو ترک کردینے تک کا ادعا کردیا ۔ اب انہوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ انہیں 50 دن کا وقت دیں تاکہ وہ ملک سے کرپشن اور بدعنوانیوں اور کالے دھن کا خاتمہ کرسکیں۔ انہوں نے جذباتی انداز سے عوام کو رجھانے کی کوشش کی ہے اور جو برہمی پائی جاتی ہے اسے ہمدردی میں بدلنے کیلئے ایسا کیا ہے ۔ تاہم وزیر اعظم کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ملک کے عوام کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مودی نے اور ان کے ساتھیوں نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ 100 دن میں بیرونی ممالک میں رکھا کالا دھن واپس لائیں گے اور ہر ہندوستانی شہری کے بینک کھاتوں میں 10 تا 15 لاکھ روپئے مفت میں جمع کروادئے جائیں گے ۔ مودی نے کالا دھن واپس لانے کیلئے تو کچھ نہیں کیا بلکہ کالا دھن رکھنے والوں کو اپنا دھن قانونی بنانے کیلئے موقع فرا ہم کردیا اور ان سے حاصل کردہ ٹیکس اور جرمانوں سے سرکاری خزانے بھر لئے ۔ جب تمام کالا دھن رکھنے والوں نے اس سہولت سے استفادہ کرلیا تو انہوں نے عملا عوام کو نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ 100 دن کے وعدہ پر جب اپوزیشن نے خوب لعن طعن کی اور عوام میں اس تعلق سے سوال پیدا ہونے لگے تو یہ کہہ کر دامن بچالیا گیا کہ یہ محض انتخابی جملہ بازی تھی ۔ یہ ملک کے عوام سے ایک ایسا مذاق تھا جس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ایک وعدہ خود کیا گیا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس کو محض انتخابی جملہ بازی قرار دیتے ہوئے اپنا دامن بھی بچالیا گیا ۔
انتخابی مہم کے دوران مودی کی زبردست تائید کرنے والوں نے بھی 100 دن کا وعدہ یا د دلانا ضروری نہیں سمجھا کیونکہ وہ حکومت کی عنایتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کے کاروبار دن دوگنے اور رات چوگنے ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ انہیں سرکاری سکیوریٹی مل رہی ہے ۔ سماجی سطح پر ان کا رتبہ بلند ہو رہا ہے ۔ انہیں تشہیر حاصل ہو رہی ہیں۔ ایسے میں انہیں عوام سے کئے گئے وعدوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے ۔ اب جبکہ 100 دن میں کالا دھن واپس لانے کا وعدہ پورا نہیں ہوسکا بلکہ کوئی کوشش ہی نہیں ہوئی ہے تو وزیر اعظم کو اندرون ملک کالا دھن کی فکر لاحق ہوگئی ۔ یقینی طور پر کالے دھن کو ختم کرنا چاہئے اور اس کیلئے ہر ممکن جدوجہد ہونی چاہئے لیکن اس طرح سے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر عوام کے خون پسینہ کی کمائی لو لوٹنا کھسوٹنا مناسب نہیںہے ۔ عوام کی دیانتداری پر شک کرنا مناسب نہیں ۔ جب پہلے 100دن کے وعدہ کو جملہ بازی قرار دے کر دامن بچالیا گیا تو اب 50 دن کے وعدہ پر کس طرح سے اعتبار کیا جاسکتا ہے ۔ کالا دھن ختم کرنے کے نام پر مزید موقع دیا جا رہا ہے ۔ کالا دھن جمع کرنے والوں کی چاندی ہوگئی ہے ۔ انہیں اب 1000 کی بجائے 2000 کی نوٹ مل رہی ہے اور اب وہ اپنے کالے دھن کو دوگنا کرسکتے ہیں۔ مسئلہ کسی امیر شخص یا بڑے کاروباری کو ہرگز نہیںہوا ہے ۔ مسئلہ عام آدمی کو ہوا ہے ۔ روز آنہ محنت و مشقت کرکے روزی روٹی حاصل کرنے والوں کیلئے پریشانی ہوگئی ہے لیکن وزیر اعظم اپنی دھن میں مگن ہیں اور یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ انہیں عام آدمی کی پریشانی کی کوئی فکر نہیں ہے ۔
وزیر اعظم نے ماضی میں ایک موقع پر خود ٹوئیٹ کرکے کہا تھا کہ ہندوستان کے عوام واقف ہیں کہ کالا دھن کہاں ہے ۔ انہوں نے خود کہا تھا کہ یہ کالا دھن سوئیز بینکوں میں ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ معلوم رکھنے کے باوجود کہ کالا دھن سوئیز بینکوں میں ہے نریندر مودی نے ڈھائی سال میں اس تعلق سے کچھ نہیںکیا ۔ یہ پیسہ واپس لانے کیلئے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی اس پر نہ مودی کوئی وضاحت کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی ان کے حواری ایسا سوال کرنے کیلئے اپنے آپ میں جرات کرپاتے ہیں۔ مودی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ بڑے نوٹوں کا چلن روکنا ہی قطعی قدم نہیں ہے اب مزید اقدامات بھی ہونگے ۔ یعنی 50 دن میں مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے ۔ اس کیلئے عوام کو تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT