Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / پیاس بجھانے کی خاطر عوام ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے

پیاس بجھانے کی خاطر عوام ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے

’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کہنے کیلئے زندہ رہنا بھی ضروری ہے۔ شیوسینا کا ردعمل
ممبئی 7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر بھارت ماتا کی جئے پر چیف منسٹر دیویندر فڈنویس کے ریمارکس پر طنز کرتے ہوئے حکمراں اتحاد کی حلیف شیوسینا نے آج کہاکہ حب الوطنی کا نعرہ لگانے کے لئے عوام کو سب سے پہلے زندہ رہنے کے قابل بنانا چاہئے۔ پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یہ بہتر ہوتا کہ چیف منسٹر قوم پرستی پر اعلان جنگ کی بجائے ریاست کے ہر ایک گاؤں میں پینے کا پانی سربراہ کرتے۔ بصورت دیگر اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوجاتے۔ شیوسینا نے کہاکہ عوام کو بھارت ماتا کی جئے کہنے کیلئے زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ فی الحال ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ پر زبردست سیاست کی جارہی ہے۔ دیویندر فڈنویس نے قوم پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر کے عہدہ سے کیوں نہ ہٹادیا جائے وہ بدستور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ نعرہ لگانے سے باز نہیں آئیں گے گوکہ ان کا جوش اور جذبہ قابل احترام ہے لیکن بھارت ماتا کے بچے پانی کے لئے ترس رہے ہیں اور ان کی پیاس بجھانے والا کوئی نہیں ہے حتیٰ کہ پانی کی خاطر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔ یہ یاد دہانی کرواتے ہوئے کہ ناانصافی کے خلاف نوجوان نکسلائٹس تحریک میں شامل ہوکر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں، شیوسینا نے دریافت کیاکہ آیا مرہٹواڑہ کے نوجوان پانی کے ایک گھونٹ کیلئے ہتھیار اُٹھا کر دہشت گرد بن جائیں۔ اگر قرار واقعی ایسا ہوگیا تو بھارت ماتا کی جئے کے کوئی معنی نہیں رہ جائیں گے۔ اگر عوام خوش ہیں تو بھارت ماتا بھی خوش رہے گی۔ شیوسینا نے کہاکہ بھارت ماتا کی جئے (کامیابی) ہی عوام کی کامیابی ہے۔ لیکن حالات اس قدر سنگین ہوگئے ہیں کہ عوام کو پینے کیلئے پانی کا ایک گھونٹ نہیں مل رہا ہے۔

مویشیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور کھیت قبرستانوں میں تبدیل ہورہے ہیں۔ اگر کوئی ان کھیتوں میں ٹھہر کر قوم پرستی کا نعرہ بلند کرتا ہے تو بھارت ماتا ہرگز خوش نہیں ہوگی۔ پارٹی ترجمان کے اداریہ میں یہ ریمارک کیا گیا ہے کہ یہ مہاراشٹرا بھارت ماتا کے خواب کا نہیں ہے چیف منسٹر کو اپنی کرسی پر براجمان رہتے ہوئے عوام کو پانی سربراہ کرنا ہوگا۔ شیوسینا نے کہاکہ ریاست کے مختلف علاقوں بالخصوص مرہٹواڑہ میں پانی کے مسئلہ پر عوام ایک دوسرے کے دشمن بنتے جارہے ہیں۔ دانشوروں نے یہ قیاس آرائی کی تھی کہ تیسری عالمی جنگ پانی کے مسئلہ پر لڑی جائے گی لیکن یہ حقیقت اب مہاراشٹرا میں دیکھی جارہی ہے اور اخبارات میں کئی ایک تصاویر شائع ہوئی ہیں جس میں عوام کو ایک دوسرے کے خلاف متصادم دیکھا گیا۔ یہ استدلال پیش کرتے ہوئے کہ پیشرو حکومت کی آبی پالیسیوں میں خامیاں تھیں، اس کے نتیجہ میں آج مہاراشٹرا میں پانی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم موجودہ حکومت پیشرو حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی نہیں کرسکتی اور اسے عوام کی بنیادی ضرورت پانی کی سربراہی کے لئے مؤثر اقدامات کرنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT