Tuesday , August 22 2017
Home / ہندوستان / پیالٹ گنس کے عدم استعمال پر مزید اموات کا اندیشہ ‘ سی آر پی ایف

پیالٹ گنس کے عدم استعمال پر مزید اموات کا اندیشہ ‘ سی آر پی ایف

مشکل صورتحال میں راست فائرنگ پر مجبور ہوجائیں گے ۔ جموں و کشمیر ہائیکورٹ میں سکیوریٹی دستہ کا جوابی حلفنامہ

سرینگر 19 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سی آر پی ایف نے جموںو کشمیر ہائیکورٹ کو مطلع کیا کہ اگر ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے پیالٹ گنس کے استعمال پر پابندی عائد کردی جائے تو انتہائی صورتحال میں اس کے اہلکار راست گولیاں داغنے پر مجبور ہوجائیں گے اور پھر مزید جانی نقصان ہوسکتا ہے ۔ سی آر پی ایف نے ہائیکورٹ میں پیش کردہ ایک حلفنامہ میں کہا کہ اگر پیالٹ گنس کو سی آر پی ایف کو دستیاب امکانات سے دستبردار کرلیا جائے تو پھر سی آر پی ایف کا عملہ انتہائی مشکل صورتحال میں رائفلوں سے فائرنگ کرنے پر مجبور ہوجائیگا جس کے نتیجہ میں مزید جانی نقصان ہوسکتا ہے ۔ سی آر پی ایف نے ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست کے جواب میں یہ حلفنامہ داخل کیا ہے ۔ مفاد عامہ کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وادی کشمیر میں ہجوم پر قابو پانے کی ایک کوشش کے طور پر پیالٹ گنس کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے ۔ وادی کشمیر میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے حالات انتہائی ابتر ہیں اور وہاں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ برہان وانی سکیوریٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا تھا ۔

سی آر پی ایف نے اپنے حلفنامہ میںکہا کہ پیالٹ گنس کو 2010 میں متعارف کروایا گیا تھا اور اسے گڑبڑ پر قابو پانے کے ہتھیار کے طور پرقبول کرلیا گیا تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سلسلہ میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کو اختیار کیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ لا اینڈ آرڈر کے مسئلہ سے نمٹنا مشکل ہوتا ہے ۔ جو معیاری طریقہ کار ہے اس کے مطابق مشکل حالات میں اگر آتشیں اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے تو پھر ہتھیار کا نشانہ کمر سے نیچے ہونا چاہئے ۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہے کہ وادی میں جو صورتحال ہے وہ مختلف ہے اور منتقل ہوتی جاتی ہے ۔ ایسی صورتحال میں بعض مرتبہ متحرک ‘ دبتے ہوئے اور دوڑتے ہوئے نشانوں پر قواعد کے مطابق نشانہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ سی آر پی ایف نے اپنے حلفنامہ میں کہا کہ اس نے 9 جولائی سے 11 اگسٹ سے جملہ 3,500 پیالٹ گولیاں داغی ہیں جبکہ وادی میں تشدد اور مظاہروں کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ مفاد عامہ کی یہ درخواست جموں و کشمیر بار اسوسی ایشن کی جانب سے 30 جولائی کو داخل کی گئی ہے اور اس میں چہارشنبہ کو سی آر پی ایف کی جانب سے جوابی حلفنامہ داخل کیا گیا ہے ۔ سی آر پی ایف اور بی ایس ایف نے اپنا جواب عدالت میں داخل کردیا ہے لیکن ریاستی حکومت نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے ۔ عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت کل ہفتہ 20 اگسٹ کو مقرر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT